• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں گزشتہ سال خریداری میں صرف 17 فیصد نقد رقم استعمال کی گئی

لندن(پی اے )برطانیہ کے محکمہ مالیات کے مطابق گزشتہ سال برطانیہ میں خریداری کیلئے صرف17 فیصد نقد رقم استعمال کی گئی،جبکہ 27فیصد ادائیگیاں بلارابطہ کی گئیں۔کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈائون کے سبب خرچ کرنے کے مواقع کم ہونے اور معیشت کے بیشتر شعبے بند ہونے کے سبب برطانیہ میں گزشتہ سال 6 سال میں پہلی مرتبہ مجموعی ادائیگیوں کی شرح بہت کم رہی ،2019 کے مقابلے میں مجموعی طورپرادائیگیوں میں11فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ نقد ادائیگیاں 35 فیصد کمی کے ساتھ6.1 بلین پونڈ رہیں۔تاہم ڈیبٹ کارڈ کے بعد نقدادائیگیاں ہی دوسرے نمبر پر رہیں۔ گزشتہ سال کے دوران ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے 15.8بلین پونڈ کی ادائیگیاں کی گئیں اور13.7 ملین افراد نے مہینے میں صرف ایک مرتبہ نقد رقم استعمال کی جبکہ اس سے پہلے سال کے دوران نقد رقم استعمال کرنے والوں کی تعداد اس سے دگنی تھی ۔1.2 ملین کنزیومرز نے اپنے روزانہ اخراجات کیلئے رقم رقم خرچ کی ،جبکہ بلارابطہ لین دین کی مالیت 9.6 بلین پونڈ رہی ،فی الوقت ملک میں 135 ملین بلارابطہ کارڈ گردش میں ہیں جن میں 88 فی صد ڈیبٹ اور 81 فیصد کریڈٹ کارڈ شامل ہیں ،گزشتہ سال سپرمارکیٹ میں 41 فیصد ادائیگیوں کیلئے بلارابطہ کارڈ استعمال کئے گئے، جبکہ بینک آف انگلینڈ کی ریسرچ کے مطابق بینک نوٹس سے کورونا وائرس کے پھیلائو کے امکانات بہت کم ہیں ۔کمرشیل اداروں، حکومت اور بلامنافع کام کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی ادائیگیوں کی مالیت 4.8 بلین پونڈ رہی جوکہ مجموعی ادائیگیوں کے 80 فیصد کے مساوی تھی، ادائیگیوں کیلئے موبائیل فونز اور اسمارٹ واچ کے استعمال میں اضافہ ہوا گزشتہ سال 17.3 ملین افراد نے موبائل ادائیگیوں کیلئے رجسٹریشن کرائی موبائیل فون سے ادائیگیوں کیلئے رجسٹریشن کرانے والوں میں 50 فیصد کی عمریں16 سے34 سال تھی۔گھروں پر کام کی وجہ سے ریموٹ بینکنگ کی شرح میں اضافہ ہوا اور 72 فیصد افراد نے آن لائن بینکنگ کی سہولت سے استفادہ کیا ،حکومت کاکہناہے کہ وہ مستقبل میں کیش تک رسائی کے تحفظ کیلئے قانون سازی کرے گی۔

یورپ سے سے مزید