• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنیوا میں امریکی و روسی صدور کی ملاقات، تعاون کا عزم، الزامات بھی لگائے

جنیوا /کراچی(نیوز ڈیسک، اے ایف پی ) امریکی صدر جو بائیڈن کی روسی ہم منصب ولادی میر پیوٹن سے سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں 5 گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات ختم ہو گئی ۔امریکی وزیرِ خارجہ بلنکن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی امریکی صدر کےساتھ موجود تھے۔دونوں صدور نے مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس ملاقات کو معنی خیز قرار دیا ہے۔مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ʼتناؤ سے بھرپور عرصے میں بھی مشترکہ مقاصد کے حصول میں پیش رفت کر سکتے ہیں۔دونوں صدور کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس اور امریکا کے تعاون سے آپسی تنازعات اور جوہری جنگ کے خدشے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔روسی صدر پیوٹن نے کہا کہ دونوں رہنمائوں نے سائبر سکیورٹی ، اسلحہ کنٹرول کرنے اور سفیروں کی واپسی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ دوسری جانب دونوں رہنمائوں کی ملاقات کے بعد علیحدہ علیحدہ پریس کانفرنس میں ایک دوسرے پر الزامات بھی لگائے گئے ، دونوں رہنمائوں نے ایک دوسرے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں او ر سائبر حملوں سے متعلق الزامات بھی لگائے ۔ صدر پیوٹن نے کہا کہ روس نے امریکا کو امریکی سرزمین سے ہونے والے 80مبینہ سائبر حملوں کے متعلق ʼتفصیلی معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے اب تک اس پر جواب نہیں دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سائبر حملوں کی بڑی تعداد امریکی سرزمین سے ہوئی ہے ، انہوں نے کہا کہ امریکا نے ہمیں 10سائبر حملوں سے متعلق بتایا تھا اور ہم نے تمام کے جوابات دیے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنےروسی ہم منصب کی جانب سے کیپٹل ہل حملے کے بعد حملہ آوروں کیخلاف کی گئی کارروائی کو انسانی حقوق سےجوڑنے کی مذمت کی اور کہا کہ حملہ آورں نے پارلیمنٹ میں گھس کر ایک پولیس افسر کو ہلاک کیا ، ان کا موازنہ انسانی حقوق سے کرنا زیادتی ہے۔ بائیڈن نے کہا کہ وہ سائبر حملوں میں ملوث مجرموں کو پناہ دینے پرروس پر دبائو بڑھائیں گے ۔ دونوں رہنمائوں نے علیحدہ علیحدہ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ دونوں ایک نئی سرد جنگ نہیں چاہتے۔ بائیڈن نے روس کو متنبہ کیاکہ وہ امریکی جمہوریت میں مداخلت نہیں چاہتے اور اسے برداشت نہیں کیاجائیگا۔ صدر پیوٹن کا کہنا تھا کہ جو بائیڈن ʼتجربہ کار سیاستدان ہیں۔ پیوٹن نے کہا کہ ʼوہ صدر ٹرمپ سے بہت مختلف ہیں۔ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے امریکا میں اسلحے کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے لیے امریکی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ʼہمارے ملکوں میں جو کچھ بھی ہوتا ہے، اس کے ذمہ دار لیڈر خود ہوتے ہیں۔آپ امریکا کی سڑکوں کو دیکھیں، روز لوگ مرتے ہیں۔ آپ منہبھی نہیں کھول پاتے کہ آپ کو گولی مار دی جاتی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ ʼدنیا بھر میں سی آئی اے کے خفیہ عقوبت خانوں میں لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ کیا ایسے انسانی حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے؟۔پیوٹن نے یہ بھی بتایا کہ دوران ملاقات جوبائیڈن نے انہیں ماضی میں قاتل قرار دینے کی وضاحت بھی کی اوروہ اس پر مطمئن ہیں۔ صدر جو بائیڈن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ وہ روس کے خلاف نہیں۔جہاں کہیں بھی اختلاف ہیں، وہاں میں چاہوں گا کہ صدر پیوٹن سمجھیں کہ میں جو کہتا ہوں وہ کیوں کہتا ہوں، اور جو کرتا ہوں وہ کیوں کرتا ہوں۔ میں نے صدر پیوٹن کو بتایا ہے کہ میرا ایجنڈا روس یا کسی اور کے خلاف نہیں بلکہ امریکی عوام کے حق میں ہے۔صدر بائیڈن نے کہا کہ انسانی حقوق امریکیوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ ʼہمیشہ ایجنڈے پر رہیں گے۔جب صدر جو بائیڈن سے پوچھا گیا کہ اُنھوں نے امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت روکنے کے لیے کیا کیا ہے، تو اُن کا کہنا تھا کہپیوٹن جانتے ہیں کہ اس کے نتائج ہوں گے۔جنیوا میں ملاقات ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات بھی کم درجے پر ہیں اور دونوں ممالک اپنے سفیروں کو واپس بلا چکے ہیں، تاہم اپنی پریس کانفرنس میں صدر پوتن نے کہا کہ صدر جو بائیڈن سے ملاقات میں سفیروں کی واپسی طے پا گئی ہے۔ملاقات میں  امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی امریکی صدر کے ساتھ تھے، جب کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف اور دیگر اعلیٰ حکام صدر پیوٹن کے ساتھ موجود تھے۔

یورپ سے سے مزید