• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپین یونین اور پاکستان کے جوائنٹ کمیشن کا اجلاس، باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو

یورپین یونین اور پاکستان کے درمیان جوائنٹ کمیشن کے اجلاس میں ترقیاتی تعاون، تجارت، جمہوریت و حکومت اور قانون، انسانی حقوق کی حکمرانی سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی ہے۔

دونوں فریقین کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق یہ اجلاس آن لائن منعقد ہوا تھا، جس میں یورپین یونین کی جانب سے نمائندگی یورپین ایکسٹرنل ایکشن سروس زی ایکس سی میں ایشیا اینڈ پیسیفک کے منیجنگ ڈائریکٹر گننر ویگنڈ جبکہ پاکستان کی جانب سے اقتصادی امور ڈویژن کے سیکٹری نور احمد نے شرکت کی۔

اس موقع پر پاکستان میں یورپین سفیر اندرولا کامینارا اور یورپین یونین میں پاکستانی سفیر ظہیر اے جنجوعہ سمیت دونوں طرف کی متعلقہ وزارتوں کے ارکان کے علاوہ یورپین یونین کے ممبر ممالک کے مبصرین بھی شریک تھے۔

اجلاس میں پاکستان نے یورپین یونین کو قابل قدر شراکت دار، سب سے بڑا تجارتی اور سرمایہ کاری پارٹنر، اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی بڑی آبادی کی موجودگی کے سبب ترسیلات زر کے حصول کا بڑا مرکز قرار دیا۔

مشترکہ کمیشن نے کوویڈ-19 جیسے وبائی امراض کے سماجی و معاشی اثرات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ویکسین کے جاری پروگراموں اور ویکسین کیلئے مستقبل کے تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستان نے یورپین یونین کے ذریعے فراہم کردہ انسانی امداد کی بے حد تعریف کی جبکہ پائیدار معاشی بحالی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی اُجاگر کیا گیا۔

دونوں فریقین نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر بات کرتے ہوئے ایک دوسرے کو یورپین گرین ڈیل، ڈیجیٹلائزیشن، پاکستان میں ماحولیاتی نظام کی بحالی، گرین انیشیٹیوو اور الیکٹرک گاڑیوں کی قومی پالیسی کے بارے میں آگاہ کیا۔

دونوں فریقین نے تعلیم وثقافت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے علاوہ ہجرت اور نقل و حرکت پر پاکستان اور یورپ کے مشترکہ ری ایڈمشن پلان پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

یورپ اور پاکستان کے درمیان جوائنٹ کمیشن کی سطح پر منعقد ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں نے باہمی تجارت کو بڑھانے، تجارت اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ بننے والے معاملات، کاروباری ماحول کو بہتر بنانے پر بھی گفتگو ہوئی۔

اس موقع پر پاکستان نے جی ایس پی پلس کو باہمی فائدہ مند اقدام کے طور پر توسیع کا اعتراف کرتے ہوئے 27 بین الاقوامی کنونشنز اور اس کے لیے درکار ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے اپنے عہد کی تصدیق کی اور گذشتہ سال ستمبر کے بعد سے اٹھائے گئے متعلقہ اقدامات پر روشنی ڈالی۔

مشترکہ کمیشن نے آئندہ ترقیاتی تعاون کی ترجیحات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

دونوں فریقین نے مذہب اور عقیدے کی آزادی بشمول مسلم منافرت سے متعلق خدشات سمیت انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کے فروغ اور تحفظ کے لیے اپنے عہد کی تصدیق کی۔

پاکستان نے اس موقع پر اقلیتوں، اظہار رائے کی آزادی، خواتین، اور بچوں کے حقوق کے لیے مختلف قوانین کی منظوری سے آگاہ کیا۔

پاکستان کی جانب سے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے نفاذ میں پاکستان کی پیشرفت سے مطلع کیا گیا۔

اس اجلاس میں افغانستان کا مسئلہ بھی زیر غور آیا۔ فریقین نے تمام دھڑوں پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی اپیل پر مکمل امن کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں۔

پاکستان نے یورپ کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور وہاں جاری مظالم کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔

آخر میں طے پایا کہ جوائنٹ کمیشن کا آئندہ اجلاس 2022 میں اسلام آباد میں منعقد کیا جائے گا۔

قومی خبریں سے مزید