• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مرتضیٰ وہاب کے فواد چوہدری پر جوابی وار


سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری پر جوابی وار  کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی نااہل حکومت کے پاس عوام کو دکھانے کے لیے کوئی کارکردگی نہیں ہے، جسکی وجہ سے وہ پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہیں۔

سندھ حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کرکے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے، سندھ کے خلاف پی ٹی آئی سرکار کی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہینگے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کو پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کا فوبیا ہوگیا ہے۔ ماضی میں یہ موصوف پیپلزپارٹی کے گُن گاتے نہیں تھکتے تھے، آج پی ٹی آئی کے ہیں، تو عنقریب یہ کسی اور کے گُن گارہے ہونگے۔

حقائق کے برعکس بات کرنا انکا وطیرہ بن چکا ہے کیونکہ انکے پاس بتانے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ پچیس جولائی 2018 کی سلیکشن کے بعد عمران خان نے قوم کو سہانے خواب دکھائے تھے, جن میں سے آج تک کوئی پورا نہیں ہوا۔

آئی ایم ایف میں نہ جانے سمیت ، ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ مکانات اور تمام وعدے ہوا ہوگئے ہیں۔ بیرسٹر مرتضٰی وہاب نے کہا کہ بدزبان، بدتہذیب اور اخلاق سے عاری لوگ جب سے اقتدار میں آئے ہیں پارلیمان کا ماحول خراب کیا ہوا ہے۔

انہیں نہ تو پارلیمان اور نہ ہی جمہور سے کوئی سروکار ہے، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ انکی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ کیونکہ وہ حقائق پر مبنی بات کرکے انہیں ٹف ٹائم دیتے ہیں۔انہیں تو بس عثمان بوزدار جیسے چُپ رہنے والے افراد پسند ہیں جو انکو جواب نہ دے سکیں۔

یہ انکی بھول ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یا مراد علی شاہ خاموش ہوجائینگے، انہوں نے کہا کہ سندھ کی آبادی کو ٹھیک طور پر رپورٹ نہیں کیا جاتا تو وزیر اعلیٰ اپنا موقف مشترکہ مفادات کونسل میں ضرور رکھیں گے۔ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے مردم شماری کے معاملے پر عمران خان کا ساتھ دیا، لیکن عوام کا ساتھ نہیں دیا۔ متنازع مردم شماری کو منظور کرنے والی کمیٹی میں علی زیدی، امین الحق اور فہمیدا مرزا شامل تھے بعد میں یہاں آکر یہ لوگ آنسو بہاتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے لوگ کہتے ہیں کراچی پاکستان کی معیشت میں 70 فیصد دیتا ہے وفاقی حکومت کے پی ایس ڈی پی میں دیگر صوبوں کی اسکیمیں نظر آتی ہیں لیکن جو صوبہ پاکستان کی معیشت کو چلاتا ہے اسکی کوئی اسکیم نظر نہیں آتی، اس ایشو پر اتحادی کیوں خاموش رہتے ہیں ؟بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہم سوالات اٹھاتے ہیں تو آپ الزامات پر آجاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ جو پیسے سندھ کو دیتے ہیں اسکا آڈٹ کریں گے، کیا پیسے دیکر آپ احسان کرتے ہیں؟ کیا یہ آپ کے والد صاحب کے پیسے ہیں؟ ان کم عقلوں کو یہ نہیں معلوم کے آڈٹ کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے، آڈیٹر جنرل وفاق کا نمائندہ ہے جو سالانہ بنیادوں پر آڈٹ کرتا ہے۔

موصوف کہتے ہیں کہ آرٹیکل 140 اے کا نفاذ سندھ میں ہونا چاہئیے ؟ کیا یہ آرٹیکل صرف سندھ کے لیے ہے؟ ہمیں بلدیاتی نظام کا طعنہ دینے والوں نے اسلام آباد سمیت کہیں بلدیاتی نظام چلنے نہیں دیا۔ بیرسٹر مرتضٰی وہاب نے کہا کہ عمران خان نے 2017 میں وزیر ریلوے کے لیے کہا تھا کے اسکو مستعفی ہوجانا چائیے لیکن اب نہیں کہتے، یہ ایک نہیں دو پاکستان بنا کر بیٹھے ہیں، یہ لوگ ماضی کی حکومتوں پر تنقید کرتے ہیں، سرکلر ڈیٹ میں تیرا کھرب کا ضافہ ہوا ہے سرکلر ڈیٹ 11 سو کھرب تھا جب انکی حکومت آئی تھی اب وہ بہت بڑھ چکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چینی، آٹا، ادویات، پیٹرولیم اور گیس اسکینڈل انکے دور میں ہوئے ہیں، یہ احتساب کی بات کرتے ہیں کوئی ایک شخص بتائیں گے جس پر چینی کے معاملے پر کارروائی ہوئی ہو، ادویات کے اسکینڈل میں عامر کیانی کو ہٹا دیا جاتا ہے، کیا انکے خلاف کوئی کاروائی ہوئی؟ بلکہ عامر کیانی کو پی ٹی آئی کا جنرل سیکریٹری بنا دیا گیا۔

پیٹرول سستا ہوا تو پورے ملک سے پیٹرول غائب ہوگیا ندیم بابر کے خلاف کوئی کارروائی ہوتے ہوئے نظر نہیں آئی؟ آرٹیکل 158 کہتا ہے گیس پر پہلا حق اسکا ہوگا جہاں سے گیس نکل رہی ہو لیکن ہمیں گیس نہیں ملتی۔ سندھ میں پانی کے بحران سے متلعق بیرسٹر مرتضٰی وہاب نے کہا کہ گڈو پر چیک کرلیں کتنا پانی سندھ میں آرہا ہے، متنازع کنالوں کو آپ لوگ چلاتے ہیں سندھ کا وزیر اعلیٰ یا پیپلزپارٹی کا چئیرمین اس مسئلے کو اٹھاتا ہے تو کیا مسئلہ ہے؟

پھر آپکو تکلیف ہوتی ہے ہم نے بارہا کہا ہے کہ سندھ کا مسئلہ پنجاب سے نہیں بلکہ ارسا سے ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مرتضٰی وہاب کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں عمران خان خود لیڈ کریں گے تو 2018 میں کس نے لیڈ کیا ؟

موصوف کو شاید علم نہیں کہ ایک ایک پیسے کا آڈٹ ہوتا ہے اتنے بڑے صوبے کو آپ دیتے کیا ہیں ؟ ہمارے دئیے ہوئے پیسوں کو آپ کس طرح استعمال کر رہے ہیں یہ ہمارا سوال ہے، این ایف سی میں سندھ کو 85 ارب روپے نہیں ملے 108 ارب کراچی کی نئی اسکیموں کے لئے ہم نے رکھے ہیں، کے ایم سی اور ڈی ایم سی کو الگ پیسے ملتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے پر ہم کام نہیں کر پائے اسکی وجہ ہے یہ ہے سوورن گارنٹی۔ انہوں نے کہا کہ 17 جولائی کو کراچی کی بسوں کے لئیے ٹینڈر کھل رہے ہیں۔

ایدھی لائن دو ماہ میں مکمل ہو جائے گی، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا پروٹیکشن بل پر میڈیا ورکر نے محنت کی تھی جب وہ بل سندھ اسمبلی سے منظوری کے بعد گورنر سندھ کے پاس گیا تو اس بل کو رد کر دیا یہ وہ لوگ ہیں جو اظہار رائے کے علمبردار بنتے ہیں۔ انہوں نے یہ کام کیا ہے ہم پھر وہ بل سندھ اسمبلی سے پاس کریں گے۔

قومی خبریں سے مزید