• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملازمت کیلئے فیروز خان سے رابطہ ہو گیا، انجینئر عبد الملِک


سوشل میڈیا کی زینت بن کر چند دنوں میں شہرت پانے والے ایئروناٹیکل انجینئر عبد الملِک نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے بھارت میں ایک مسلمان لڑکے سے متاثر ہو کر شربت کا ٹھیلا لگایا جس کے بعد انہیں شہرت حاصل ہوئی۔

کراچی کی سڑک پر ’ محبت کا شربت‘ فروخت کرنے والے سوشل میڈیا اسٹار  عبدالملِک نے حال ہی نمائندہ ’جنگ‘ سے خصوصی گفتگو کی۔

عبدالملِک نے بتایا کہ ’اُنہوں نے دبئی سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اُس کے بعد چین سے ایئرو ناٹیکل انجینئرنگ کی ڈگری مکمل کی، اُس کے بعد وہ اس خواہش سے پاکستان آئے کہ یہاں اُنہیں اچھی ملازمت مل جائے گی لیکن سات سال کی تگ و دو کے باوجود بھی اُنہیں پاکستان میں ملازمت نہ مل سکی۔‘

ملازمت کے لیے سرگرداں انجینئر  اپنی بیوی اور تین بچوں کے پیٹ پالنے کی خاطر شربت بیچنے لگا جس کا آئیڈیا اسے بھارت سے ملا ۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’اُنہوں نے بھارت کے ایک مسلمان نوجوان کی ویڈیو دیکھی تھی جو تربوز کا شربت فروخت کرتا تھا اور اُس نے اپنے ٹھیلے کا نام ’نفرت اور محبت کا شربت‘ رکھا تھا۔‘

عبدالملِک نے کہا کہ ’میں اُس نوجوان سے متاثر ہوا اور میں نے بھی اپنے ٹھیلے کا نام ’محبت کا شربت‘ رکھا اور پھر اسی کی ترکیب آزماتے ہوئے یہ شربت  فروخت کرنے لگا جسے لوگوں نے خوب پسند کیا۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’اسی دوران، میری ایک ویڈیو کِلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور پھر کراچی کے دور دراز علاقوں سے بھی لوگ میرے پاس خصوصی طور پر یہ شربت پینے آنے لگے۔‘

ایئرو ناٹیکل انجینئر نے کہا کہ ’اب چونکہ، میں ایک سوشل میڈیا اسٹار بن گیا تو مجھے بہت زیادہ خوشی محسوس ہورہی ہے کیونکہ اب پورے پاکستان کے لوگ مجھے جانتے ہیں۔‘

عبدالملِک نے کہا کہ ’اتنی محبت اور مقبولیت ملنے کے بعد، مجھے یہ احساس ہوگیا ہے کہ اللّہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے جو کرتا ہے، اُس میں بندے کی ہی بہتری ہوتی ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’وہ ہمیشہ سے ہی پاکستان کے لیے اپنی خدمات سرانجام دینا چاہتے تھے، اسی وجہ سے وہ ملازمت نہ ملنے کے باوجود بھی پاکستان چھوڑ کر نہیں گئے۔‘

ایئرو ناٹیکل انجینئرنگ نے کہا کہ ’میرے والدین دبئی میں مقیم ہیں اور اُنہیں میرے اس کاروبار کے بارے میں معلوم نہیں تھا لیکن جب سے مجھے میڈیا کوریج ملی ہے تو اب میرے اہلخانہ سمیت تمام رشتے داروں کو معلوم ہوگیا ہے اور میرے والدین مجھ سے بہت خوش ہیں۔‘

 عبدالملِک نے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں رہ کر خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، ان کی یہی خواہش ہے کہ پاکستان میں رہ کر  خواجہ سرا کمیونٹی سمیت دیگر ضرورت مند افراد کے لیے کام کروں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’مجھے اداکار فیروز خان نے ملازمت کی پیشکش کی تھی اور اس حوالے سے میرا اداکار کے ساتھ رابطہ بھی ہوچکا ہے۔‘

عبدالملِک نے کہا کہ ’فیروز خان کے علاوہ مجھے کسی نے ملازمت کی پیشکش نہیں اور ابھی تک کسی حکومتی نمائندے یا سیاسی شخصیت کی جانب سے نے مجھ سے رابطہ نہیں کیا گیا۔‘

آخر میں اُنہوں نے نوجوان نسل کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ’چاہے کچھ بھی ہوجائے، کبھی بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیئے کیونکہ اللّہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا ، بس آپ کو اُس پر یقین رکھنا اور اپنی کوشش جاری رکھنی چاہیئے۔‘

خاص رپورٹ سے مزید