• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

بڑی مچھلیوں کے قبضے سے اربوں روپے نکلوائے

انٹرویو:خالد محبوب

سندھ پولیس میں موجود چند کالی بھیڑیں بد عنوانی ،رشوت خوری اور اپنے منفی رویوں کے باعث نہ صرف محکمے کی ساکھ متاثر کرتی ہیں،بلکہ عوام اور پولیس کے درمیان خلیج کا بڑا سبب بھی بنتی ہیں۔ اس کے برعکس کئی ایمان دار، بااصول اورفرض شناس اعلی افسران محکمے کا مورال بلند کرتے ہیں۔ 

انجینئر عامر فاروقی کا شمار بھی ان ذہین، قابل، ایمان دار، فرض شناس، اعلی تعلیم یافتہ افسران میں ہوتا ہے۔شہر کراچی سے بنیادی تعلیم ،این ای ڈی یونی ورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ کے ڈگری یافتہ ،سی ایس ایس کے امتحان میں کام یابی کےبعد1999میں پولیس فورس میں شمولیت اختیار کرنے والے عامر فاروقی اپنی قابلیت کی بنیاد پر آج وفاقی تحقیقاتی ادارے ’’ایف آئی اے‘‘ میں بہ حیثیت ڈائریکٹر سندھ زون1کراچی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ خوش گفتار،ملن سار اور دھیمے لہجے کے مالک اور سندھ پولیس میں اعلی عہدوں پر فائز رہنے والے عامر فاروقی نے جرائم اور مجرم کے حوالے سے کبھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ گزشتہ دنوں ہم نے ان سے گفتگو کی۔ ہمارے سوالوں کے جواب میں انہوں نے جو کہا ، وہ نذر قارئین ہے۔

بڑی مچھلیوں کے قبضے سے اربوں روپے نکلوائے
نمائندہ جنگ سے بات چیت کرتے ہوئے

ہمارا ان سے پہلا سوال تھا کہ الیکٹریکل انجینئر ہوتے ہوئے پولیس فورس میں شمولیت اختیار کی، کیاآپ کی یہ خواہش تھی؟

ج۔ نہیں ایسا بالکل نہیں ہے۔پولیس کا محکمہ چیلنجنگ ہے ۔ اس لیے اس کا انتخاب کرلیا۔

س۔ سندھ پولیس میں کِن کِن عہدوں پر تعینات رہے؟

ج۔ 1999میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے کو ئٹہ میں 2سالہ تربیت مکمل کرکے کوئٹہ میں ہی بہ حیثیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس کچلاک سٹی کوئٹہ میں تقرری ہوئی۔ بعدازاں اے ایس پی حَب بلوچستان تعینات رہا۔2005میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خضدار بلوچستان خدمات انجام دینے کے بعد2006میں اعلی تعلیم کے لیےبیرون ملک چلا گیا۔ 

وطن واپسی پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر قلعہ سیف اللہ تعینات ہوا۔اس طرح تقریباً 8برس کوئٹہ میں ہی گزار ےاور اسی شہر ہی میں میری گرومنگ ہوئی۔2008 میں میری خدمات سندھ پولیس کے حوالے کر دی گئیں اوراےآئی جی ویلفیئر (سی پی او) تعیناتی کردی گئی۔ اس دوران اے آئی جی اسٹیٹ منیجمنٹ کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا۔ اس کے بعد ایس ایس پی لیاقت آباد تقرری ہوگئی۔ 

بعدازاں اے ڈی آئی جی فنانس اینڈ ویلفیئر اور اے ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ تعینات کیا گیا۔ پھرایس پی کیماڑی اور ایس پی جمشید کوارٹرز ساؤتھ زون کا عہدہ سنبھالا۔19گریڈ میں ترقی پاکر ایک سال تک بہ حثیت اےآئی جی آپریشن (سی پی او)سندھ خدمات انجام دینے کے بعد2012میں ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ویسٹ کراچی کا عہدہ سنبھالا پھر ایس ایس پی گلبرگ اور ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ویسٹ زون کراچی تعینات رہا۔ 

بعدازاں 2014 میں 15ویں سینئر منیجمنٹ کورس مکمل کرنے کے بعد اے آئی جی ایڈمن سی آئی ڈی سندھ کراچی تعینات ہوا۔اسی دوران مجھے اے آئی جی آپریشن کا اضافی چارج بھی دےدیا گیا۔ میری تقرری بہ حیثیت ایس ایس پی انٹیلیجنس (اینٹی ایکسٹریم سیل) سی ٹی ڈی کی گئی۔2017میں گریڈ 20 میں ترقی ملنے کے بعد ڈی آئی جی سی ٹی سندھ تعینات ہوااور اسی دوران ڈی آئی جی آر ایف ایف سندھ اور فنانس(سی پی او)کا اضافی چارج بھی میرے پاس تھا۔2018 میں ڈی آئی جی ویسٹ زون کراچی اور بعد ازاں ڈی آئی جی ایسٹ زون کراچی میں خدمات انجام دینے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے )میں بہ حیثیت ڈائریکٹر سندھ زون 1کراچی تعینات کردیاگیا۔

س۔ شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمزپر قابو پانے کے لیے آپ کے نزدیک کیا حکمت عملی ہو نی چاہیے؟

ج۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بے روزگاری، اسٹریٹ کرائمزکی بنیادی وجہ ہے ،جب کہ چوری اور دیگر جرائم میں زیادہ ترمنشیات کے عادی افراد ملوث پائے جاتے ہیں۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ واردات سے متاثر ہونے والوں کی اکثریت تھانوں میں رپورٹ درج کرانے سے گریزکرتے ہیں۔ شہریوں کوچاہیے کہ کسی واردات کی رپورٹ کی فوری رپورٹ درج کرائیں۔ اگر پولیس کسی اسٹریٹ کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرتی ہے، تو المیہ یہ ہے کہ گواہ یامدعی عدالت میں سامنے نہیں آتا ہے، جس کا فائدہ ملزم اٹھاتا ہے اور اس کو ضمانت مل جاتی ہے۔‘‘

س۔ پولیس اور ایف آئی اے میںرہ کر دونوں محکموں کیا فرق محسوس کیا؟

ج۔دونوں محکموں کا کام جرائم اور مجرموں کی سرکوبی کرنا ہے ۔ایف آئی اے کا کام وائٹ کالرزکرائمزکی بیخ کنی کرنا ہے ،ایف آئی اے میں بہت آرگنائزڈ کام ہو تاہے، پہلے تحقیق کی جاتی ہے،پھر ثبوت جمع کیے جاتے ہیں ،جس کے بعد ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جاتا ہے اور سزائیں دلوائی جاتی ہیں، جب کہ پولیس قتل ،چوری ،ڈکیتی ، اغوا ،اسٹریٹ کرائمز،ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر وار دارتوں کو روکنا اور رونما ہونے والی واردات کی تفتیش کر کے ملزمان کو گرفتار کرتی ہے اور مقدمہ درج کرکے عدالت میں پیش کرتی ہے، لیکن عدالت میں گواہ حاضر نہیں ہو تا ہے، جس کے سبب اس کی ضمانت ہوجاتی ہے ۔دونوں محکموں میں کام کر نا چیلنجنگ ہے ۔‘‘

س۔سُنا ہے آپ کرکٹ کے بہت شوقین ہیں؟

ج۔ بالکل دُرست سُنا آپ نے،کرکٹ کا بہت شوقین ہوں ،کرکٹ کھیلی بھی ہے، لیکن اسکواش کا بہترین کھلاڑی ہوں، وقت ملے تو کھیلتا بھی ہُوں۔ پہلی مرتبہ جب پی ایس ایل کے میچ کراچی میں ہوئے، اس وقت میں ڈی آئی جی ایسٹ تھا۔2 سال تک مسلسل سیکیورٹی میری ذمے داری تھی اور اس میں اللہ تعالی نے کام یابی عطا کی ،میچوں کے دوران انجوائے بھی بہت کیا ۔ 

ایف آئی اے کو ثنا اللہ عباسی کی شکل میں کہنہ مشق اور ایمان دار افسر ملا ہے ،میں نے پولیس میں ان کے ساتھ کام کیا ہے، کرپٹ افراد کے لیے ان کے پاس کوئی رو رعایت نہیں ہوتی ہے۔‘‘

س۔ ایف آئی اے کے افسران سائل کی جانب سے دی گئی درخواست پر مہینوں گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کر تے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟

ج۔ ہم یہاں ظلم کے ستائے ،مشکلات اور تکلیف میں پھنسے ہوئے افراد کی داد رسی کے لیےبیٹھے ہیں ،ان کے لیے میرے دروازے پولیس میں بھی کھلے تھے اور یہاں بھی کُھلے ہوئے ہیں۔میں یُومیہ بنیاد پر نئے درج ہو نے والے اورعدالت میں چلنے والے مقدمات کے حوالے سے متعلقہ افسران سے میٹنگ میں فالو اپ لیتاہوں، اہم اور سنگین جرائم کے کیسوں کی خود مانیٹرنگ بھی کرتاہوں ۔

حالیہ دِنوں میں سائبر کرائم میں ملوث جامعہ کراچی شعبہ نفسیات کے سابق اسسٹنٹ پروفیسر فرحان کامران، جس نے فیس بک پر جعلی نام سے اکاونٹ بناکرنازیبا تصاویر اپ لوڈ کی ہوئی تھیں،اسے گرفتار کیا ۔ عدالت نے 10سال قید اور 50ہزار جرمانے کی سزا دی ہے ۔

سفری دستاویزات کے بغیر غیر قانونی طور پر ایران سے پاکستان میں داخل ہو نے والے ایرانی نژاد امریکی باشندے سائرس اسماعیل زادے نامی ملزم کو 5 اسٹار ہوٹل سے گرفتار کیا۔ ملزم نے اس کے عوض انسانی اسمگلرز کو ہزاروں امریکی ڈالرز ادا کیے تھے۔ نجی بنک کی شکایت پر درج مقدمہ نمبر 8/2021 میں نامز د ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت دی ،جس ایف آئی اے کمرشل بینک سرکل کی ٹیم نے 21 جون کو مقدمےمیں نامزد 5 ملزمان میں سے 3ملزمان ابراہیم احمد ، طلحہ خان، اور محمد خرم گرفتار کرلیا ، جب کہ 2ملزمان محمد طفیل اور نوید کی تلاش جاری ہے۔ 

ملزمان شناختی کارڈ چوری کر کے جعلی دستاویزات پر 63 کریڈٹ کارڈز کے اجراء میں ملوث ہیں ،جس میں تقریبا بینک کو 12.34 ملین روپے کا نقصان ہوا۔ ملزمان ، بشمول بینک عملہ ، نجی افراد اور نجی کورئیر سروس کے نمائندے کا طریقہ واردات یہ تھا کہ مختلف افراد کے شناختی کارڈ حاصل کر نے بعد ان کے جعلی دستخطوں، ایڈریس اور تنخواہوں کی سلپس وغیرہ استعمال کرتے ہوئے۔ ملزم محمد خرم کے ذریعے کریڈٹ کارڈ کے لیے درخواست دیتے تھے اور ملزمان کام یابی کے ساتھ 63 کریڈٹ کارڈ جاری کر چکے ہیں۔

21 جون کو تفتیشی ٹیم نے نامزد ملزمان نے کام یابی کے ساتھ انہیں گرفتار کر لیا، ملزم ابراہیم احمد مذکورہ کمرشل بینک کا سابق ملازم ہے ،طلحہ خان نجی شخص اور محمد خرم ، سیلز آفیسر کریڈٹ کارڈ ڈیپارٹمنٹ کمرشل بینک ہے،اب ملزمان کا ریمانڈ حاصل کرنے کے لیے متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جب کہ ایف آئی اے کی ٹیم ملزمان کےباقی 2 ساتھی ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں کررہی ہے ۔

ہم ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر ملزمان کو عدالت سزائیں بھی دلوائیں گے ۔ ایف آئی اے میں محدود وسائل میں رہتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنا آسان نہیں ہے۔اس کے باوجود ،سائبرکرائمز،منی لانڈرنگ ،ہنڈی حوالہ ، سرکاری محکموں،بے نامی اکائونٹس،شوگر مافیا اور بنک فراڈ جیسے میگا اسکینڈلز میں ملوث سینکڑوں بڑی مچھلیوں کو پکڑ کران کے قبضے سے اربوں روپے نکلوائے ہیں ۔ نئی قانون سازی اورایف اے ٹی ایف کے قیام سےکافی سہولت ملی ہے۔‘‘

س۔فارغ اوقات میں کیا مصروفیات ہوتی ہیں ؟

ج۔ زیادہ وقت فیملی کو دیتا ہوں ، زمانہ طالب علمی سےکتابیں پڑھنے کا شوق ہے، وہ شوق پُورا کر لیتا ہوں، واک باقاعدگی سے کرتا ہوں۔ اسکواش جنون کی حدتک پسند ہے ۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید