• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹوں بیٹیوں سے ملنے ملانے کا دن۔ لیکن آج وہ آپ سے نہیں سیکھیں گے۔ آپ کو ان سے سیکھنا ہوگا کہ اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے اسرار و رموز سے وہ زیادہ واقف ہیں۔ 

اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں ان صلاحیتوں کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ آج بات کرنا ہے ڈیٹا پر۔ جسکے بارے میں وہ زیادہ جانتے ہیں۔

ایک زمانے میں کھیت کھلیان طے کرتے تھے کہ زندگی کیسے گزاری جائے۔ پھر صنعتی دور میں کارخانے ان پر طاقت حاصل کرگئے۔ لیکن حرف و دانش آگے بڑھ رہے تھے۔ اور اب اکیسویں صدی میں ’ڈیٹا‘ کھیتوں کارخانوں اسلحہ کے ڈھیروں پر سبقت لے گیا ہے۔ اب ’ڈیٹا‘ طے کرتا ہے کہ دنیا میں انسان کے رویے کیا ہونے چاہئیں۔ 

اب انسانی تہذیب کا محور و مرکز ڈیٹا ہے۔ قومیں چھوٹی ہوں یا بڑی۔ جو اپنے اور دوسروں کے بارے میں ’ڈیٹا‘ رکھتی ہیں۔ وہی آگے بڑھ رہی ہیں۔ سوویت یونین سے آزاد ہونے والی ریاستوں میں ایک ’اسٹونیا‘ ہے۔ آبادی صرف 13لاکھ۔ بہت غریب ملک تھا۔ مگر ٹیکنالوجی سے ہمکنار ہونے کے بعد کایا پلٹ گئی ہے۔ 

اور یہ ’ڈیٹا‘ کا کمال ہے۔ ڈیٹا کیا ہے۔ اپنے اور آس پاس کے بارے میں تمام ضروری معلومات۔ جنہیں پوری تصدیق۔ تحقیق اور تجزیے کے بعد استعمال کیا جانا ہے ۔اقبال نے جس خودی کی جستجو پر زور دیا تھا۔ ڈیٹا وہ خودی ہی ہے۔

موسم اچھا پانی وافر مٹی بھی زرخیز

جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان

کسان اپنے ڈیٹا کے بارے میں جتنا شعور رکھتا ہے۔ 

شاید ہی کوئی دوسرا پیشہ ور اتنا ڈیٹا آشنا ہو۔ وہ ہوا کی خوشبو سے جان لیتا ہے کہ اب درجۂ حرارت کیا ہوگا۔ یہ ان زمانوں کی بات ہے جب محکمۂ موسمیات تھا نہ اسمارٹ فون۔ ڈیٹا لاطینی لفظ ہے۔ اور ’ڈیٹم‘ کی جمع۔ تحقیق بتاتی ہے کہ موجودہ معانی میں ڈیٹا پہلی بار 1954میں استعمال کیا گیا۔

 1954میں ہمارے اکابرین مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کو کابینہ میں بطور وزیر دفاع لے کر آئے تھے۔ لشکریوں کو سیاسی ڈیٹا سے آشنائی ہوئی۔ 

ڈیٹا صدیوں کا سفر کرتے ہوئے اب صحیح معنوں میں استعمال ہورہا ہے۔ ڈیٹا کی قدر و منزلت اور رسوخ کبھی اتنا گہرا اور وسیع نہیں تھا۔بعض واقفانِ حال کہتے ہیں ڈیٹا ہمارے دَور کا تیل ہے۔ 

جن ممالک نے ڈیٹا کی اہمیت کو جان لیا۔ انہوں نے کورونا جیسی خطرناک وبا کا مقابلہ بھی کامیابی سے کرلیا۔ وہ ممالک ادارے ، تنظیمیں یا کمپنیاں جو ڈیٹا کی وقعت کو نظر انداز کرتی ہیں یا اس میں گڑ بڑ کرتی ہیں وہ ناکام ہورہی ہیں۔ بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ 

جو قومیں ڈیٹا کا احترام کرتی ہیں اس کے مطابق منصوبہ بندی کرتی ہیں وہ طاقت ور معیشت بن رہی ہیں۔ 

اپنے عظیم دوست چین کی ترقی اسی کی مرہون منت ہے۔ اب ڈیٹا کا دَور شروع ہوا ہے۔ محققین کہتے ہیں کہ آئندہ دہائی اسی کی ہے۔ جو اس دوڑ میں شامل نہیں ہوگا وہ بہت پیچھے رہ جائیگا۔

اب ہم ڈیٹا کے حوالے سے اپنے رہنمائوں کا ڈیٹا دیکھتے ہیں۔ کیا وہ ڈیٹا کی طاقت سے واقف ہیں۔ پاکستان میں جذباتیت کا غلبہ ہے۔ حکمران پارٹی ہو یااپوزیشن والے۔ علما یا تجزیہ کار۔ جذبات کو ہوا دیتے ہیں۔ ڈیٹا کو نہیں۔ مصدقہ معلومات حاصل کرنے سے دانستہ گریز کیا جاتا ہے۔ 

جمہوریت کی تو بنیاد ہی اعداد و شُمار پر ہے۔ پارلیمنٹ میں گنتی ہی فیصلہ کن ہوتی ہے۔ عدالتی فیصلے بھی ڈیٹا کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ نیب درست ڈیٹا جمع کرلے تو مقدمہ کامیاب ہوتا ہے۔ جمہوریت کی کامیابی اور تسلسل کا انحصار صحیح معلومات پر ہے۔ 

قومی سیاسی جماعتیں اگر ملک گیر تنظیم رکھتی ہوں تو ان کے کارکن اور عہدیدار حقیقی ڈیٹا جمع کرکے دے سکتے ہیں‘ جس کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں پالیسی بیانات دے سکتی ہیں۔ 

ایک دوسرے کے الزامات کا مسکت جواب دے سکتی ہیں۔ ڈیٹا نہیں ہے۔ تب ہی جذباتی بیانات روزانہ سننے کو ملتے ہیں۔ محض لفاظی۔ محض مبالغہ آرائی۔ اس لیے یہ جھاگ سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی بیٹھ جاتا ہے۔

ڈیٹا سے سارے کاروبار چل رہے ہیں۔ فیس بک۔ انسٹا گرام ڈیٹا سے ہی مالا مال ہیں ۔امریکہ چین دنیا کے قائد ہیں تو صرف دنیا کا ڈیٹا رکھنے پر۔ ساری منصوبہ بندی۔ جنگی چالیں۔ برآمدات میں اضافہ بھی ڈیٹا ہی کی وجہ سے ہے۔ 

ساری دریافتیں۔ ایجادیں۔ نئے فلسفے۔ نئے نظریات۔ حکمرانی کے نئے انداز بھی ڈیٹا کے مرہون منت ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے سیاسی رہنمائوں کو مصدقہ معلومات حاصل کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔ اخبار ٹی وی کی خبروں ۔ 

مخالف لیڈروں کے بیانات پر جوابی پیغامات داغ دیے جاتے ہیں۔ ایسے بیانات اسی روز اپنا وزن کھو دیتے ہیں۔ اداروں کی جنگ میں بھی وہی ادارہ بالادست رہتا ہے جس کے پاس مستند معلومات ہوں۔ مستقبل کی صورت گری بھی ان کے حوالے سے ہی مستحکم ہوسکتی ہے۔ تاثر۔ پروپیگنڈے۔ جعلی خبروں۔ جوشیلے ترانوں۔

 غلط اعداد و شُمار سے ملک نہیں چلتے۔ حقائق اور اعداد و شُمار کی بنیاد پر تشکیل کردہ پالیسیاں پائیدار ہوتی ہیں۔ انا۔ ضد۔ دعوے۔ بڑھکیں۔ سب ڈیٹا کے سامنے عجز کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سقوط مشرقی پاکستان بھی حکومت اور افواج پاکستان کے پاس مشرقی پاکستانی بھائیوں کے محسوسات کا مستند ڈیٹا نہ ہونے کا نتیجہ تھا۔ 

مودی کشمیر کے مسئلے میں کیوں ناکام ہیں۔ وہ ڈیٹا مسخ کررہے ہیں۔ چین ایک پٹی۔ ایک سڑک میں کیوں کامیاب ہے کہ اس کے پاس اپنا اور ہمسایہ ملک کا صحیح ڈیٹا ہے۔

ہماری سیاسی پارٹیاں، مذہبی سیاسی پارٹیاں حکومت میں آکر یا حکومت کو گرانے میں ناکام کیوں ہوتی ہیں۔ کیونکہ وہ جان بوجھ کر ڈیٹا اسٹور کرنے اور ڈیٹا کی بنیاد پر بات اور کام کرنے سے اجتناب کرتی ہیں۔ ڈیٹا کے حصول کے لیے پورے ملک میں کارکنوں کو منظّم نہیں کرتیں۔ کارکنوں اور عہدیداروں کو خوشامد کی عادت ڈالتی ہیں۔ 

اس لیے وہ دانستہ صحیح ڈیٹا نہیں دیتے۔ اس وقت کامیاب ملکوں کا اصول یہی ہے کہ درست معلومات کی یکجائی۔ ان کی روشنی میں آئندہ کے اہداف کا تعین۔ ڈیٹا سے ہی آپ کو اپنے ادارے یا پارٹی کی کمزوری اور طاقت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کیا قومی سیاسی جماعتیں اس طرف توجہ دیں گی کہ پہلے مستند اعداد و شُمار جمع کیے جائیں۔ ہر شعبے کے بارے میں تربیت یافتہ افراد کو ڈیٹا اسٹوریج کا انچارج مقرر کیا جائے۔ 

اس ڈیٹا کے تجزیے کے لیے ماہرین کی مدد حاصل کی جائے۔ اب مصنوعات سے زیادہ خدمات پر انحصار ہے۔ ﷲ کے فضل سے ہمارے نوجوانوں میں ڈیٹا کی مہارت رکھنے والے بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ 

لیکن سیاسی پارٹیوں کے سربراہوں کو اپنے اندر یہ حوصلہ پید اکرنا ہوگا کہ وہ اعداد و شُمار کو اپنی طاقت سمجھیں دشمن خیال نہ کریں۔ اس کا الزام نادیدہ قوتوں پر عائد نہ کریں۔ اپنی پالیسیاں۔ بیانات ڈیٹا کی روشنی میں مرتب کریں۔

تازہ ترین