• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

حکومتی ریلیف کے بعد ترین سیاست میں متحرک

حکومت کی طرف سے ریلیف ملنے کے بعد جہانگیرترین سیاست میں ایک متحرک کردار اداکرنے کے لئے کمربستہ نظرآتے ہیں ، گزشتہ ہفتہ وہ ملتان آئے اور انہوں نے ایک طویل عرصہ بعد کسی تقریب میں شرکت کی اور اپنے سیاسی عزائم کا اظہارکیا ،بہاؤالدین زکریایونیورسٹی میں ہونے والی تقریب اگرچہ تعلیمی نوعیت کی تھی، لیکن اپنے خطاب میں جہانگیرترین نے سیاست کو بھی اپنا موضوع بنایا اور بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی سیاست کا محور بھی جنوبی پنجاب ہے ،وہ اسے اس کاحق دلا کر رہیں گے اور جنوبی پنجاب کو مکمل صوبائی خود مختاری ملنی چاہئے ،یہ ہمارا ہمیشہ سے اصولی موقف رہا ہے اور ہم اب بھی اس پر کاربند ہیں۔

جہانگیر ترین کی اس انٹری کے بعد جنوبی پنجاب کی سیاست میں وہ خلاء پر ہوتانظرآتاہے ،جوان کے منظرسے ہٹ جانے کی وجہ سے پیدا ہوا تھا ،یادرہے کہ چینی سکینڈل کے بعد جہانگیرترین پر جو پے درپے مقدمات بنے اور انکوائریاں شروع ہوئیں ،ان کی وجہ سے انہیں وقتی طور پر سیاست سے دور ہونا پڑا ، اگرچہ وہ سپریم کورٹ کی طرف سے سیاست میں حصہ لینے کے لئے نااہل قرارپاچکے ہیں ،مگر اس کے باوجود سیاست میں ان کا کردار آج بھی مسلمہ ہے۔

اس کا ثبوت اس وقت بھی ملا،جب انہوں نے اپنے خلاف ہونے والی کارروائیوں پر صدائے احتجاج بلند کی اور قومی و صوبائی اسمبلی کے 30 سے زائد ارکان کو اپنی حمایت میں لاکھڑا کیا ،اس حمایت کی وجہ سے سیاست میں خاصی ہلچل مچی اور یہ کہا جانے لگا کہ حکومت کا دھڑن تختہ اب جہانگیر ترین گروپ کے ہاتھوں سے ہوگا، اپوزیشن نے بھی جہانگیر ترین ہم خیال گروپ سے امیدیں باندھ لیں اور یوں لگا کہ جیسے اپوزیشن کا بیرو میٹر جہانگیر ترین کے ہاتھ میں آگیا ہے ،جلد ہی جہانگیرترین گروپ نے اپنی طاقت کو منوا لیااور حکومت جہانگیرترین کے معاملہ میں بیک فٹ پر چلی گئی ،ایف آئی اے نے یہ واضح بیان دے دیا کہ وہ جہانگیرترین کو گرفتار نہیں کرنا چاہتے ، اس سے پہلے ہم خیال گروپ کی وزیراعظم سے جو ملاقات ہوئی تھی، اس میں بھی یہ طے پایا تھا کہ جہانگیر ترین کے خلاف انکوائریوں کا جائزہ لیا جائےگا ،بیرسٹر علی ظفرکی قیادت میں یک رکنی کمیٹی بھی بنائی گئی ،مگراس کی رپورٹ منظرعام پر آنے سے پہلے ہی سارے معاملات طے ہوگئے۔

اب یوں لگ رہا ہے کہ جہانگیرترین ایک نئے عزم کے ساتھ سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے پرتول رہے ہیں ،ملتان اور لودھراں میں ان کے خطاب اور بعدازاں ان کے خیالات اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ وہ جنوبی پنجاب میں بیٹھ کر آنے والے سیاسی منظر نامے کو اپنے حساب سے ترتیب دیں گے ،یہاں یہ امرقابل ذکر ہے کہ اس وقت پیپلزپارٹی کی نظریں بھی جنوبی پنجاب پر لگی ہوئی ہیں ،کیونکہ اس خطہ سے اسے سیاسی حمایت مل سکتی ہے، اگر جہانگیرترین ایک مظبوط گروپ کے ساتھ اپنی سیاسی بساط بچھانے میں کامیاب رہتے ہیں ،تو پھر آنے والے انتخابات میں کسی بھی سیاسی جماعت کو جنوبی پنجاب سے اکثریت حاصل کرنے کے لئے ان کا تعاون درکار ہوگا ،یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جہانگیرترین وقت آنے پر تحریک انصاف کو خیرباد کہ دیں گے اور موقع محل کے لحاظ سے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے،یا پھر وہ تحریک انصاف سے کچھ شرائط منوا کراسی کے ساتھ اپنا سیاسی سفر جاری رکھیں گے،اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے اندر جہانگیرترین کے لئے واضح مزاحمت موجود ہے۔

ایک طرف شاہ محمود قریشی ،دوسری طرف فواد چودھری ،غلام سرور خان، اعظم سواتی اور دیگر وزراء یہ نہیں چاہتے کہ جہانگیرترین کو پارٹی میں کو ئی اہم کردار ملے ، عمران خان کے دل میں ان کے لئے نرم گوشہ ہوسکتا ہے ،مگرموجودہ حالات میں وہ بھی کھل کر جہانگیرترین کا استقبال نہیں کرسکتے ،کیونکہ پہلے ہی انہیں کچھ رعایتیں دے کر اپوزیشن کی طرف سے انہیں اس الزام کا سامنا کرنا پڑ رہاہے کہ وہ جہانگیرترین کو این آراو دے چکے ہیں اور انہوں نے اپنے ہی موقف پر پانی پھیردیا ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ جہانگیر ترین فیکٹرآنے والی سیاست میں کس درجہ اپنا اثر دکھاتا ہے ،البتہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ جہانگیرترین نے اپنی سیاسی طاقت کو منوا یا ہے اور اب بھی وہ جس طرح چاہیں ،مرکز اور صوبہ کی سیاست کا رخ تبدیل کرسکتے ہیں ۔

جہاں تک شاہ قریشی کا تعلق ہے ،وہ جہانگیرترین کو بھول کر آج کل یوسف رضا گیلانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور ملتان جب بھی آتے ہیں ،ان کا سارا نزلہ یوسف رضا گیلانی پر گرتا ہے ،لوگ اسے یوسف رضا گیلانی کی اس لئے کامیابی قرار دیتے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت میں ایک کلیدی عہدہ رکھنے والاشخص ان کا نام لئے بغیر چین سے نہیں بیٹھتا ،پچھلے دنوں قومی اسمبلی میں شاہ محمودقریشی اور بلاول بھٹو زرداری کے درمیان جو نوک جھونک ہوئی اور جس میں بلاول بھٹو زرداری نے شاہ محمود قریشی پر بعض الزامات بھی لگائے۔

ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی سمجھتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کو اس کی بریفنگ یوسف رضا گیلانی نے دی ہے ،کیونکہ بلاول بھٹو نے اپنی تقریر میں ملتان کا حوالہ بھی دیا اور یہ کہا کہ شاہ محمود قریشی کی ملتان میں عدم مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے پرغور شروع کردیا ہے ،کیونکہ وہ اپنے حلقہ کے عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے،اس قسم کے الزامات اور پھریہ کہنا کہ شاہ محمودقریشی کو پیپلزپارٹی کے دور میں وزارت خارجہ سے اس لئے ہٹایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں یہ لابی کررہے تھے کہ یوسف رضاگیلانی کو ہٹا کرانہیں وزیراعظم بنوایا جائے۔

گویا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے گرد یوسف رضا گیلانی کا ایک ایسا ہالہ بناجاچکا ہے کہ جسے وہ توڑنا بھی چاہیں ،تو توڑ نہیں پارہے ،یہ وجہ ہے کہ وہ یوسف رضا گیلانی پر مسلسل تنقید کررہے ہیں ،جس کا بظاہر کوئی جواز نظر نہیں آتا ،کیونکہ یوسف رضا گیلانی کی طرف سے ماضی قریب میں نہ تو کوئی بیان آیا اور نہ ہی انہوں نے ان کی ملتان میں ناکامیوں کا ذکر کیا ہے، البتہ وہ یہ ضرور کہتے رہے ہیں کہ تحریک انصاف وعدے کے باوجود جنوبی پنجاب کو صوبہ نہیں بناسکی اور سیکرٹریٹ کا ڈرامہ رچا کر وہ اپنی اس ناکامی پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ ملتان کے ان دونوں مخدوموں کے درمیان یہ خاموش اور بلند آہنگ جنگ کس کروٹ بیٹھتی ہے ،البتہ یہ بات طے ہے کہ ملتان میں خاص طور پر تحریک انصاف اپنی مقبولیت بڑی حد تک کھوچکی ہے ،کیونکہ پچھلے تین برسوں میں عوام کے مسائل پر اس کے ارکان اسمبلی اور خود شاہ محمود قریشی کوئی توجہ نہیں دے پائے ۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید