• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر ایک لڑکی پولیس آفسر کیسے بنی

کہتے ہیں انسان اگر محنت اور اپنے فرائض ایمان داری سے پُورے کرے، تو نہ صرف خود کو بلکہ معاشرے کو بھی بدل سکتا ہے۔ خواہ وہ کسی محکمے میں ہو، لیکن پولیس کے بارے میں عام تاثر ایسا نہیں ہے، جبکہ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ ہمارے سامنے اس کی کئی مثالیں ہیں کہ محکمہ پولیس میں فرض شناس اور ایماندار لوگ بھی ہیں، خصوصاً اپنی ذمے داریاں خوش اسلوبی سے نبھاتی ہیں۔

اس کی ایک مثال سہائی عزیز کی ہے،جو اس وقت ایس ایس پی کراچی ہیں۔ سندھ پولیس کی اگر بات کی جائے تو اس محکمے میں خاتون پولیس افسر اور اہل کاروں کی تعداد بہت کم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق محکمہ سندھ پولیس میں کم و پیش 12 سو خواتین افسر و اہل کار ہیں اور ان میں بھی ایمان دار اور محنت کرنے والی باہمت خواتین پولیس افسران و اہل کار کی فہرست کم ہے ،کراچی کے سب سے مشکل ضلع کو چلانے والی خاتون پولیس افسر سہائی عزیز،اس وقت ڈسٹرکٹ ویسٹ میں بہ طور ایس ایس پی کی حیثیت سے پُورے ضلع کو کمانڈ کر رہی ہیں۔ 

سہائی عزیز جیسی نہ جانے کتنی خواتین افسر چھوٹے چھوٹے شہروں سے محنت کر کے اس مقام پر پہنچ چکی ہوں گی۔ سہائی عزیز کا آبائی علاقہ ٹنڈو محمد خان ہے،جہاں سے انہوں نے مڈل کلاس تک کی تعلیم حاصل کی اور انہیں ہائیر ایجوکیشن کے لیے حیدرآباد آنا پڑا ۔ اُن کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے اور شاید اسی لیے پڑھنے کا رجحان بھی اتنا زیادہ نہیں تھا۔ 

سہائی عزیز نے 2013 میں کمیشن پاس کیا اور دن رات محنت کے بعد 12 گروپس میں سے پولیس کے محکمے کو چُنا، کیوں کہ وہ ملک اور قوم کا بہتر مستقل بنانا چاہتی تھیں ، چھوٹے شہر سے نِکل کر ایک خاتون کو خطرناک اور مشکل ٹریننگ کے لیے جانا ہمت کا فیصلہ تھا اور یہی ہمت انہیں ترقی کی طرف لے جاتی گئی۔ 2014 میں پولیس میں قدم رکھا تو پہلی پوسٹینگ ایس ڈی پی او گارڈن کے لیے ہوئی۔ 2015 میں اے ایس پی کینٹ حیدرآباد رہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ محکمے میں کچھ کر دکھانے کا سفر حیدرآباد ہی سے شروع ہوا، جب حیدرآباد کلب پر حملہ ہوا تو ان ہی کی کمانڈ کردہ ٹیم نے ہمت دکھائی اور حالات قابو میں کیے، سہائی عزیز نے بتایا کہ2017 سے 2018 تک ایک سال کا عرصہ کوٹری میں بہ طور اے ایس پی کام کیا،اور پورے ضلعے کے جرائم کو قابو کیے رکھا، مختلف جرائم کا سامنا رہا، لیکن کرمنل کی ہر کام یابی کو ناکام بنایا ، ملزم کو نہ صرف پکڑا، بلکہ اسے اپنے انجام تک بھی پہنچایا ۔

محنت ، بہادری اور لگن کا یہ سلسلہ یہیں تک رُکا نہیں، بلکہ روشنیوں کےشہر کراچی کے پوش علاقے میں بھی فرائض انجام دینے کا موقع ملا تو بہ طور ’’اے ایس پی‘‘ کلفٹن کام کیا، یہی وہ دور تھا، جب چینی قونصلیٹ پر حملہ ہوا ،23 نومبر 2018 صبح ساڑھے نو بجے کے قریب 3 دہشت گرد کلفٹن بلاک 4 میں قائم چینی قونصلیٹ پر حملہ کرنے آئے اور قونصلیٹ کی سیکیورٹی پر موجود اہل کاروں اور گارڈز پر فائرنگ ہوئی، اسی دوران دیگر افسران ، انٹیلینجس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ اے ایس پی سہائی عزیز بھی پہنچیں ، اس وقت میںافسران کے احکامات اپنی جگہ ،لیکن بڑی ہی بہادری اور ہمت سے نہ صرف ٹیم کو لیڈ کیا، بلکہ اپنے فرائض بہ خوبی انجام دیے۔ 

اس بارے میں سہائی عزیز کا کہنا ہے کہ یہ میری زندگی کا اس وقت تک کا سب سے بڑا چیلنج تھا، کیوں کہ فائرنگ اور دستی بموں سے پُورا علاقہ گونج رہا تھا، جب وہ وہاں پہنچی تو بتایا گیا، ایک گاڑی میں حملہ آوور موجود ہیں اور ان کی تعداد کتنی ہے، اس کا بھی اندازہ نہیں، دہشت گردوں کے اس ناپاک منصوبے میں پولیس کے دو جوان شہید ہوئے۔ دہشت گردوں کا منصوبہ تھا کہ چینی قونصلیٹ کے اندر داخل ہوا جائے ،اسی لیے وہ اپنے ساتھ جدید اسلحہ ، دستی بم، ہینڈ گرنیڈ ،کلاشن کوف سمیت مختلف قسم کی ادویات بھی ساتھ لائے تھے، لیکن اداروں کی بروقت کارروائی سےتینوں حملہ آوور مارے گئے‘‘۔

جب بھی چینی قونصلیٹ پر حملے کو یاد کیا جائے گا سہائی عزیز کی ہمت کو فراموش نہیں کیا جائے گا، کیوں کہ ایک خاتون افسر کی حیثیت سے دہشت گردوں سے ڈَٹ کر مقابلہ کرنا ہی اپنے فرائض کی ادائیگی کی بہترین مثال ہے، چینی قونصل خانے پر دہشت گردوں کے ساتھ مقابلے میں کام یابی پانے والے افسران و جوانوں کو انعامات اور تمغوں کا اعلان کیا ،اسی طرح کم وقت میں اپنی پوزیشن سنبھالنا اور دہشت گردوں سے مقابلے میں سہائی عزیز کو بھی قائد اعظم میڈل دینے کا اعلان کیا گیا۔ 

یہ سفر یہی تک نہیں رُکا، بلکہ 2019 میں ڈسٹرکٹ کے لیے نام سامنے آئے، تو سندھ کے ہی ضلع سجاول میں بہ طور ایس ایس پی سہانی عزیز کی تعیناتی ہوئیں، سجاول میں یُوں تو منشیات کا ایک بڑا منظم گروہ کام کرتا ہے، لیکن سجاول کے مسائل میں ایک بڑا مسئلہ گھریلو تشدد بھی ہے۔ اس ضلع میں پولیس افسر تو بہت سے تعینات ہوئے ہوں گے، لیکن خاتون پولیس افسر سمیت اچھی بہن، بیٹی ،ایک ماں، اور پولیس افسر ہونے کی حیثیت سے خواتین پر ہاتھ اٹھانے اور گھریلو تشدد کو کم کرنے کے لیے نہ صرف فوری ایکشن لیا گیا، بلکہ ایسے کئی افراد کو سلاخوں کے پیچھے بھی کیا۔ 

اس حوالے سےسہائی عزیز نے بتایا کہ سجاول میں ہی ایک ڈاکو کی تلاش کے لیے جب آپریشن کیا گیا تو ملزمان نے فائرنگ کردی۔ اس روز انہیں لگا کہ شاید یہ ان کی زندگی کا آخری دن ہوگا، لیکن ان کی ہمت اور بہادری نے ان کا ساتھ دیا اور انہیں اس مقابلے میں بھی کام یابی ملی۔‘‘ ضلع سجاول کے لوگ آج بھی سہائی عزیز کو ایک اچھے انسان اور بہادر پولیس افسر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

2020 دسمبر سے اب تک وہ کراچی شہر کا سب سے مشکل ضلع ڈسٹرکٹ ویسٹ سنبھالے ہوئے ہیں ، یہ وہ ضلع ہے جس کی آبادی 22 لاکھ کے قریب ہے اور شاید ہی کوئی ایسا کرائم ہو، جو یہاں نہ ہوتا ہو، متعدد دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک اس ضلع میں کام کرتے ہیں، کٹی پہاڑی سے لے کر منگھو پیر اور کراچی کے داخلی راستوں کی حدود بھی اسی ضلع میں آتی ہے، لیکن اس علاقے میں بھی امن اور جرائم میں کمی کے لیے سہائی عزیز پُرعزم ہیں ، ان کا ارادہ ہے کہ اس ضلع کو مختلف جرائم اور دہشت گرد تنظمیوں سے پاک کیا جائے۔ 

یہی وجہ ہے کہ ان کی محنت لگن اور ایمان داری کو دیکھتے ہوئے سندھ پولیس نے انہیں ایک ایمان دارافسر سمجھتے ہوئے ان کا نام ان 18 افسران کی فہرست میں شامل کیا ہے، جو سندھ پولیس کے افسران اور جوانوں میں کالی بیڑوں کو باہر نکالنے کے لیے کام کریں گے، جن جوانوں پر کرپشن کے الزامات ہوں گے، ان کی انکوائری میں سہائی عزیز بھی اپنی خدمات انجام دیں گی، ویسے بھی پولیس تب ہی اچھی ہوگی، جب عوام پولیس کو اچھا سمجھے گی اور اس عمل کے لیے پولیس کو کرپشن سے پاک کرنا ضروری ہے ۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید