• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد سے طالبان نے بڑی سرعت سے افغانستان کے مختلف علاقوں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس سے تمام مغربی ممالک شدید خدشات کا شکار ہوچکے ہیں۔

اگرچہ نیٹو اتحادی ممالک نے افغانستان میں امن کے قیام کے وعدے کے ساتھ ہی افغانستان میں قدم رکھا تھا لیکن امن کا قیام تو کجا وہاں دودہائیوں تک بدامنی، جنگ اور جھڑپوں کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا اور اس عرصے کے دوران ایک لاکھ 75ہزار افغان باشندے مارے گئے جبکہ صرف جنگ پر 2کھرب ڈالر خرچ ہوئے اور اسی جنگ کی وجہ سےچار ملین سے زیادہ افغان مہاجرین گزشتہ چالیس برسوں سے مستقل بنیادوں پر پاکستان اور ایران میں مقیم ہیں جبکہ اپنے ہی ملک میں 4ملین افغان خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ یونیسیف کی 2018کی رپورٹ کے مطابق، 44فیصد افغان بچے اور 60فیصد افغان لڑکیاں اسکول جانے سے قاصر ہیں جبکہ یہ تعداد جنوب میں 85فیصد سے بھی زائد ہے۔

20سال بعد اب جبکہ تمام فوجی دستے اپنے اپنے گھروں کا رُخ کرچکے ہیں تو افغانستان کے دارالحکومت کابل کی سیکورٹی کا مسئلہ درپیش ہے۔ کابل کے ہوائی اڈے کو محفوظ رکھنا انخلا کے بعد نیٹو کی ایک اہم ضرورت ہے۔ یہ ہوائی اڈہ سفارت کاروں اور امدادی کارکنوں کیلئے ایک اہم خارجی راستہ ہے اور تشدد میں اضافے کی صورت میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔

ترکی نے 2001سے افغانستان میں غیرجنگی کردار ادا کرنے کیلئے اپنے 500فوجی بھیج رکھے ہیں اور فوجی دستوں کے علاوہ افغانستان کی تعمیر نو میں ترکی نے جو کردار ادا کیا ہے اس کے نتیجے میں ترکی کو دیگر تمام ممالک پر برتری حاصل ہے اور تمام افغان باشندے ترکی کو اپنا سچا اور کھرا دوست تصور کرتے ہیں اور اس پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں کبھی ترک فوجیوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ حکومتِ ترکی افغان امن عمل میں تیسرے فریق کا کردار ادا کرنے کی حالت میں ہے اور پہلے بھی طالبان اور سیاسی رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کر چکی ہے۔ 2010میں اس وقت کے افغان صدر حامد کرزئی نے ترکی کے زیر اہتمام امن مذاکرات کے خیال کی تائید کی تھی۔ ترکی نے امسال اپریل میں طالبان کے ساتھ امن کانفرنس کی میزبانی کرنے کیلئے بائیڈن انتظامیہ کی درخواست کو قبول کیا تھا لیکن طالبان کے اس کانفرنس میں شرکت سے انکار کے بعد اسے منسوخ کردیا گیا تھا۔

طالبان، نیٹو کے تمام رکن ممالک سے افغانستان سے انخلا مکمل کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور انہوں نے ترکی پر بھی واضح کردیا ہے کہ نیٹو کا رکن ملک ہونے کے ناتے اس کے فوجی دستوں کی افغانستان میں موجودگی قابلِ قبول نہیں ہو گی۔ طالبان کے مطابق ترک افواج کی موجودگی میں مزید اہلکاروں کی آمد اور امریکہ کی لاجسٹک سمیت دیگر امور میں مدد پر طالبان اور ترک افواج کا ٹکراؤ ممکن ہے اور امریکہ اور نیٹو ممالک کو افغانستان کی سرزمین پر مداخلت کا جواز ملتا رہے گا، جس کے نتیجے میں افغانستان میں مستحکم قیامِ امن ممکن نہ ہو سکے گا۔

ترکی اور پاکستان دو ایسے ممالک ہیں جو بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کی ہمیشہ سے کھل کر حمایت کرتے ہیں اور ترکی اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کے طالبان سے بڑے گہرے اور قریبی روابط موجود ہیں اور وہ صرف پاکستان ہی کی حمایت اور امداد سے کابل کے ہوائی اڈے کے نظم و نسق کو جاری رکھ سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ترکی نے اس سلسلے میں پاکستان سے قریبی رابطہ بھی قائم کر رکھا ہے۔پاکستان کیلئے ترکی اس لیے قابلِ قبول ہے کہ ترکی پاکستان کا سچا اور کھرا دوست ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کا کھل کر ساتھ دیا ہے۔ اسی طرح ترکی بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان ہی ایک ایسا ملک ہے جس نے دیگر ممالک کی پروا کیے بغیر ترکی کا ساتھ دیا ہے۔ مسئلہ قبرص ہو یا دہشت گرد تنظیم پی کے کے، یہ پاکستان ہی تھا جو ترکی کی مدد اور حمایت کو دوڑا تھا۔ ترکی کے موجودہ افغانستان کی اشرف غنی حکومت کے ساتھ بھی بڑے گہرے اور قریبی تعلقات ہیں، علاوہ ازیں ازبک اور ہزارہ گروپ بھی ترکی کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور خاص طور پر ازبک لیڈر رشید دوستم ترکی کی جیب میں ہیں جبکہ اس کے بالکل برعکس پاکستان کے طالبان کے ساتھ بڑے گہرے اور قریبی تعلقات ہیں۔ اب یہ دونوں ممالک اپنے ان تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں سیکورٹی کے مسئلے کو حل کر سکتے ہیں کیونکہ عالمی طاقتوں اور دیگر ممالک نے افغانستان کو اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کیا جبکہ ترکی اور پاکستان یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا بہترین اور پائیدار حل افغان عوام کو اقتدار کی منتقلی میں ہی پنہاں ہے۔ پاکستان اور ترکی کے علاوہ چین بھی ایک ایسا ملک ہے جو پاکستان اور ترکی کے ساتھ بڑے گہرے تعلقات رکھتا ہے اور چین کو بھی اس گروپ میں پاکستان اور ترکی کی رضامندی سے شامل کیا جاسکتا ہے کیونکہ چین کے بارے میں بھی طالبان کو کسی قسم کے کوئی خدشات لاحق نہیں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ترکی اس سلسلے میں امریکہ کی پالیسی پر عمل درآمد کرتا ہے یا پھر پاکستان اور چین کیساتھ ملکر مسئلہ افغانستان کو افغان عوام کی رضامندی سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

تازہ ترین