• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عیدِ قرباں اور سنتِ ابراہیمی کی پیروی

پروفیسر حافظ حسن عامر

’قربانی‘ بارگاہِ الٰہی میں تقرب ، نیاز مندی کا بہترین ذریعہ ہے ۔ یہ جنابِ خلیل اللہ ؑکی سنّت اور اُس بے مثال قربانی کی یاد ہے کہ جب ابوالانبیاء سیّدنا ابراہیم علیہ السلام نے حکمِ الہٰی کے مطابق اپنے نُورِ نظر لختِ جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دربارِ خداوندی میں قربانی کے لیے پیش کرکے عزیمت واستقامت کا وہ نمونہ پیش کیا کہ تاریخ عالم جس کی مثال لانے سے قاصر ہے قرآن اِس عظیم واقعے کی طرف یوں اشارہ کرتا ہے کہ’’جب وہ اُن کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے (کی عمر ) کو پہنچا تو ابراہیم ؑ نے کہا۔ بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوںکہ (گویا) میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ پس (اے اسماعیل ) تم بتائو کہ تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ (سورۃ الصّٰفّٰت)

والدِ مکّرم کے اس استفسار پر پیکرِ صدق و صفا، سراپا تسلیم و رضا جناب اسماعیلؑ یوں گویا ہوئے : ’’ ابّا جان، آپ کو جو حکم ہوا ہے ، وہی کیجئے ۔اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائیں گے‘‘۔

چناچہ وہ دونوں’’باپ اور بیٹا‘‘ حکمِ خداوندی کی تعمیل میں اِس زبردست آزمائش اور امتحان کے لیے تیار ہو گئے۔ معمار حرم ، حضرت ابرہیم خلیل اللہؑ اپنے کم سن اور معصوم بیٹے کو قربانی کے لیے لے چلے ۔ اثنائے راہ شیطان نے تین مرتبہ سیّدنا ابراہیم ؑ کو اِس حکمِ الہٰی کی تکمیل سے باز رکھنے کی کوشش کی، لیکن ہر مرتبہ آپ علیہ السلام نے اُسے سات کنکریاں مارکر راستے سے بھگا دیا، بلاآخر دونوں جب اس بے مثال فریضے کی ادائیگی کے لیے منیٰ کی قربان گاہ پہنچے تو اسماعیلؑ نے اپنے والد سے عرض کیا ، ابّا جان مجھے ذبح کرنے سے پہلے اچھی طرح باندھ لیجیے ،کہیں ذبح کے عمل میں تاخیر نہ ہو جائے اورآپ اللہ رب العالمین کے حکم کو جلد پورا نہ کر سکیں۔

حضرت ابرہیم ؑ نے اُسی طرح ذبح کی تیاریاں مکمل کیں اور اپنے معصوم لختِ جگر کو آخری بوسا دیا اور پیشانی کے بل خاک پر لٹا دیا قرآنِ حکیم اِس کیفیت کو اِس طرح بیان کر تا ہے’’اور جب (وہ) دونوں فرماں بردارہوگئے اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل زمین پر لٹا دیا‘‘حضرت ابرہیم ؑ نے بیٹے کو لٹا کر گردن پر چھری چلانی شروع کی ، مگر چھری کی کیا مجال کہ وہ اللہ کے خلیلؑ کے فرزند کا رواں بھی کاٹ سکے ،اُس قادرمطلق نے چھری سے کاٹنے کی صلاحیت سلب کرلی اور جنابِ خلیل ؑ تھے کہ پوری استقامت کے ساتھ اِس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ بیٹے کو ذبح کرکے راہ حق میں اِس کی قربانی پیش کر دیں ۔ اچانک غیبی آواز آئی ’’اے ابرہیم ؑ ، آپ نے خواب کو سچا کر دکھایا، بے شک ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں ۔ یقینا ًیہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی‘‘۔(سورۃ الصّٰفّٰت)

یہ ندائے غیبی سُن کر اللہ کے خلیل ؑ نے ہاتھ روک لیا۔ آسمان کی جانب نظر اُٹھائی تو دیکھا کہ روح الامین ایک مینڈھا (دنبہ) لیے کھڑے ہیں ۔ یہ جنّتی مینڈھا ابرہیم ؑ کو عطا ہوا تھا ، جسے آپ نے اپنے بیٹے اسماعیل ؑ کے عوض ذبح کیا ۔ ارشادِ رب العزّت ہے:ــ’’ اور ہم نے ابرہیم کو عظیم ذبیحہ اس کے (یعنی اسماعیل کے ) عوض دے دیا (اور ) بعد میں آنے والوں کے لیے ابراہیم ؑ کا (ذکرِ خیر)باقی چھوڑ دیا۔ سلام ہو ابرہیم پر ‘‘

حق تعالیٰ نے اسماعیل ؑ کے بدلے اپنی جانب سے ایک مینڈھا بھیج کر حضرت ابرہیم ؑ کی اِس عظیم الشان قربانی کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے اسے جاری و ساری کردیا۔ چنانچہ پیغمبر آخر الزماں ، سرور کونین ﷺ کو حکم ہوا :’’پس (اے محمدﷺ) آپﷺ اپنے ربّ ہی کے لیے نماز پڑھیے اور (اُسی کے لیے) قربانی کیجئے‘‘ذبح و قربانی اعمالِ عبادت میں سے ہیں، یہ حق تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے جائز نہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’ (اے محمد ﷺ) کہہ دیجئے میری نماز ، میری قربانی، میرا مرنا اور میر جینا، سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے ، جس کا کوئی شریک نہیں ـ‘‘ (سورۃ الا نعام)

قربانی کی قبولیت کا مدارو انحصار ’’تقویٰ‘‘ اور ’’پرہیزگاری‘‘ پر ہے۔ ارشادِ ربّ علیم ہے ’’اللہ تعالیٰ کو نہ تو قربانی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ اُس کا خون، بلکہ اُسے تمہارے دلوں کی پرہیزگاری پہنچتی ہے‘‘ (سورۃ الحج)

احادیث مبارکہ اور سننِ مطہرہ میں قربانی کے بے شمار فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ حضرت زید بن ارقمؓ راوی ہیں کہ بعض صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا، یا رسول اللہﷺ ، اِن قربانیوں کی کیا حقیقت اور کیا تاریخ ہے؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ یہ تمہارے (روحانی اور نسلی) مورث ابرہیم ؑ کی سنّت ہے‘‘۔ (یعنی سب سے پہلے ابراہیم ؑ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کا حکم دیا گیا اور وہ ہمیشہ قربانی کیا کرتے تھے۔ اُن کی اِس سنّت اور قربانی کے اِس عمل کی پیروی کا حکم مجھے اور میری امّت کو بھی دیا گیا ) صحابہؓ نے عرض کیا ، پھر ہمارے لیے یا رسول اللہ ﷺ ،اِن قربانیوں میں کیا اجر ہے؟ ارشاد فرمایا: ’’ قربانی کے جانور کے ہر ہر بال کے عوض ایک نیکی ‘‘صحابہ ؓ نے عرض کیا ، تو کیا اُون کا بھی یا رسول اللہﷺ یہی حساب ہے ؟

ارشاد فرمایا ’’ ہاں۔ اُون یعنی اُون والے جانور کی قربانی کا اجر بھی اسی شرح اور اسی حساب سے ملے گا کہ اِس کے بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی ‘‘۔ (مسندِ احمد، سنن ابن ماجہ) سیّدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں ’’ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ذوالحجہ کی دسویں تاریخ یعنی عیدالاضحی کے دن فرزندِ آدم کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب سے نہیں ،قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ (زندہ ہو کر) آئے گا۔ قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مقبولیت کے مقام پر پہنچ جاتاہے ۔ پس اے للہ کے بندو، دل کی پوری خوشی سے قربانی کیا کرو‘‘۔ (جامع ترمذی ، سنن ابنِ ماجہ) مذکورہ بالا آیاتِ قرآنی اور احادیث نبویؐ سے دینِ اسلام میں ’’ قربانی ‘‘ کی عظمت و اہمیت اور اس کی فضیلت و تاکید کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔