• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

سیکیورٹی گارڈز کے تشدد سے مزدور جان سے گیا

تھرکول بلاک 2میں نجی سیکیورٹی نے چار مزدوروں کو چوری کے الزام میں ایک ہفتے تک قید رکھ کر تشد دکا نشانہ بنایا ،نجی کمپنی کی سائٹ پرکام کرنے والے ان مزدوروں کا تعلق نواحی دیہاتوں سے تھا، جو کول فیلڈ کی باڑ سے متصل قائم ہیں ۔ان مزدوروں پر کمپنی کے سیکیورٹی کی جانب سے الزام تھا کہ یہ اسکریپ مٹیریل کی چوری میں ملوث ہیں، مگرکسی قانونی چارہ جوئی کے بہ جائے نجی گارڈز نے اتنا تشدد کیا کہ مزدوروں کی حالت غیر ہوتی چلی گئی اور بلا آخرانہیں پولیس کے حوالے کیا گیا اور چاروں مزدوروں پر چوری کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ 

پولیس نے روایتی سُستی اور مبینہ لین دین کے عیوض تشدد کے معاملے کو دَبا دیا اور کیس کاچالان عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے ضمانت ملنے کے بعد ان زخمی مزدوروں کو ورثاء پریس کلب لے کر پہنچے اور جسم پر تشدد کے واضع نشانات صحافیوں کو دکھائے گئے۔ زخمی مزدوروں نے صحافیوں کو بتایا کہ کمپنی کے اہم افسران اسکریپ مٹیریل کی خرید و فروخت میں ملوث ہیں، مگر جھوٹا الزام ہم پر لگایا گیا اور زبردستی چوری منوانے کی کوشش کی گئی، مسلسل دس روز تک ہم پر لوہے کی راڈ اور پائپ سے تشدد کیا جا تا رہا ہے اور حالت غیر ہونے پر ہمیں اسپتال داخل کروانے کے بہ جائے پولیس کے حوالے کیا گیا ۔

تاہم ورثاء نے انہیں اسپتال داخل کروایا،جہاں پر ایک مزدور دودو بھیل کی حالت ابتر ہونے کے سبب اسے حیدرآباد ریفر کیا گیا،جہاں پر دوران علاج وہ زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔دود و بھیل کی ہلاکت کی خبر سُنتے ہی بھیل انٹل ایکچوئل فورم کی اپیل پر ہزاروں برادری کے لوگوں نے بڑی احتجاجی ریلی نکالی اور لاش رکھ کر مٹھی، اسلام کوٹ کے مین روڈ پر دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ تشدد کرنے والے سیکیورٹی گارڈز پر مقدمہ درج کرتے ہوئے فوری گرفتار کیا جائے ۔ 

مسلسل بیس گھنٹے تک دھرنے کے بعدبلاخر انتظامیہ نے دودو بھیل کے بھائی عالم بھیل کی مدعیت میں کول کمپنی کے سیکیورٹی ہیڈ کاشف کمانڈر،گارڈ قمر،حذیفہ ملک سمیت چار ملزمان کے خلاف قلم 302کے تحت مقدمہ درج کرلیا اور ورثاء نے لاش کو دفنادیا، مگر دھرنا ملزمان کی گرفتاری تک جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا، مگراگلے روز بھی پولیس ملزمان کو گرفتار نہ کر سکی اور ملزمان سائٹ آفس سے فرار ہونے میں کام یاب ہو گئے اور کراچی جا کر اپنی عبوری ضمانے منظور کروالی، جس کے بعد مظاہرین نے تھرپاکر پولیس پر مسلسل عدم دل چسپی اورملزمان سے ملی بھگت کا الزام لگاتے ہوئے دھرنے کو مزید جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ 

تاہم اسی دوران مقامی منتخب نمائندوں نے پھر سے مظاہرین سے بات چیت شروع کی، مگر انہوں نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ اگلے روز بھیل برادری کے اور پی ٹی آئی کے مقامی رہنماء نے دھرنے میں شرکت کی اور وزیر خارجہ شاھ محمود قریشی کو تھرپارکر پولیس کی شکایات کرتے ہوئے دھرنے سے ٹیلی فونک خطاب بھی کروایا، جس میں وزیر خارجہ نے پولیس پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار نہ کرنے پر ایس ایس پی کو کاروائی کی ہدایات جاری کیں۔

اگلے روز مظاہرین نے تھرکول پروجیکٹ کے گیٹ پر دھرنا دینے کا علان کیا،تو پولیس نے رات کے وقت دھرنے پر آنسو گیس کی شیلنگ کرتے ہوئے بیس سے زائد مظاہرین کو گرفتارکرلیا، جب کہ مظاہرین پولیس کی دو فائیٹر موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کردیا، بعد ازان پولیس نے قریبی اضلاع سے اضافی نفری طلب کر کے کارروائی کرتے ہوئے درھرنے کو مکمل ختم کروا دیا اور دھرنے کی قیادت کرنے والے رہنمائوں ایڈوکیٹ لجپت سورانی ،گوموں بھیل سمیت کل 150 افراد کے خلاف دھشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔

اس ضمن میں ایس ایس پی تھرپاکر حسن سردار نیازی کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے تھرکول منصوبے کی طرف بڑھنے کا علان کیا تھا، جہاں سیکیورٹی کے خدشات تھے اور وہاں موجود سیکڑوں چائینیز کی سیکیورٹی انتہائی اہم تھی، اس لیے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے کارروائی کی گئی ۔ پُر امن مظاہرین پر ایسی کارروائی کے بعد میڈیا میں آنے والی خبروں پر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ احمد علی شیخ نے نوٹس لیتے ہوئے سیشن جج تھرپارکر کو رپورٹ دینے کی ہدایات جاری کیں، تو دوسری جانب بلاوال بھٹو زرادری نے بھی وزیر اعلی سندھ کو تحقیقات کے احکامات جاری کیے، جس پر وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاھ نے تین رکنی وزارتی کمیٹی تشکیل دی، جس میں صوبائی وزیر امتیاز شیخ،صوبائی وزیر سید سردار علی شاھ اور تیمور تالپور کو شامل کیا گیا، جنہوں نے اسلام کوٹ کے نواحی گائوں ابن جو تڑ پہنچ کر دودو بھیل کے ورثاء سے اظہار تعزیت کیا ۔ 

ورثاء نے مظاہرین پر دھشت گردی کا درج مقدمہ واپس لینے سے مشروط کیں،جس پر کمیٹی نے اتفاق کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ حکومت مقدمہ واپس لے گی۔ گرفتار مظاہرین میں سے 9کو میر پورخاص کی اینٹی ٹیریرزم عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں پر تھرپاکر پولیس کے تفتیشی افسران نے 497بی کے تحت درخواست دیتے ہوئے ملزمان کو پہچاننے سے انکار کردیا اور عدالت میں بیان دیا کہ ان ملزمان کے خلاف کسی قسم کے شواہد نہیں مل رہے ہیں۔نتیجے میں عدالت نے ملزمان کی رہائی کا آرڈر جاری کیا گیا۔

تاہم تھر سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلی سندھ ارباب غلام رحیم کی وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران تھرپاکر میں پولیس زیادتیوں اور سیاسی کارروائیوں کی شکایات کیں، جس پر وزیر اعظم نے آئی جی پنجاب پولیس کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے رپورٹ دینے کی ہدایات جاری کی ہوئی ہیں۔اس سے قبل پارلیامانی سیکیریٹری برائے انسانی حقوق شیرین مزاری نے بھی کمیٹی کو اس کیس کے متعلق کمیٹی بنا کر رپورٹ طلب کر رکھی ہے۔

دریں اثناء نجی کمپنی کے سیکیورٹی گارڈز کے ہاتھوں تشدد سے مزدورکی ہلاکت یقینن لمحہ فکریہ ہے،بلاک 2کا منصوبہ سندھ حکومت اور نجی کمپنی سندھ اینگرو کول مائننگ کی شراکت داری سے ہی چل رہا ہے تو حکومت سندھ کی ذمے داری بنتی ہے کہ لیبر قوانین سمیت مزدوروں سے ہونے والی نا انصافیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرے،جس کا علان تو وزارتی کمیٹی کر چکی ہے، مگر عمل اور جامع پالیسی بنانے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔ ساتھ ہی پولیس کی عدم توجہی و روایتی سستی کے باعث پر امن خطے میں امن امان کی صورت حال متاثر ہوئی اور بلاآخر پولیس اپنی ہی تفتیش کے دوان درج مقدمے کے مطابق 150مظاہرین کے خلاف دھشت گردی کا شواہد اکٹھے نہ کر سکی اور مقدمہ سے دستبردار ہونا پڑا۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید