• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آن لائن منشیات فروشی سے رقوم حاصل کر کےدہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال ہونے کے تانے بانے ایم کیو ایم لندن سے جاملے، ملزمان سے کروڑوں کی رشوت طلب کرنے والے افسران کو بھی ایف آئی اے نےگرفتار کر لیا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون ون عامر فاروقی کے مطابق برطانیہ اور یورپ سے پاکستان میں بٹ کوائنز / کرپٹو کرنسی کے ذریعے رقم کی منتقلی میں ملوث ایک ملزم نعمان صدیقی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ یہ رقم برطانیہ اور یورپ کو سائکو ٹروپک منشیات اسمگلنگ / فروخت کے ذریعے حاصل کی گئی ہے۔ اس رقم کا کچھ حصہ دہشت گردی کی مالی اعانت میں بھی استعمال ہوا ہے۔ 

انہوں نے بتایا کہ مبینہ آن لائن میڈیسن بزنس کرنے میں بے قاعدگیوں کے الزام میں کائونٹر ٹیررازم وِنگ ایف آئی اے میں انکوائری جاری تھی۔ ملزم نعمان صدیقی کے ایم کیو ایم الطاف گروپ سے تعلقات ہیں۔ ایف آئی اے،کائونٹر ٹیررازم وِنگ کی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم سے وابستہ سلیم بیلجیئم نے دسمبر 2018 میں کراچی کے علاقے گلستانی جوہر میں بم دھماکے کی منصوبہ بندی کی تھی اور دھماکہ کیا تھا۔ ایم کیو ایم کے ممبر صوبائی اسمبلی اس تقریب میں شریک تھے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کی پورٹ کے مطابق اس بم دھماکے کے لیے رقم نعمان صدیق نے دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے کاؤنٹر ٹیررازم ونگ کے دو انسپکٹرز 10 کروڑ روپے کی ادائیگی کے خلاف نعمان صدیقی کی رہائی کے لیے ڈیل کر رہے تھے۔ دونوں انسپکٹرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان کے خلاف اینٹی کرپشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم لندن سے تعلق رکھنے والے نعمان صدیقی سمیت دیگرافرادکو22جون کو چھاپہ مارکر حراست میں لیا گیا تھا ،چھاپے میں 60 لاکھ روپےسے زائد روپےکیش بھی ضبط کیا گیا تھا،24 جون کو تمام ملزمان رہا کردیے گئے،ملزمان افسران نے 12 کروڑطلب کیے اور 10 کروڑروپے کی ادائیگی کے وعدے پرملزمان کو رہا کیا، گرفتارافسران میں انچارج سی ٹی ڈبلیو انسپکٹرپرویز (سندھ پولیس)،انکوائری افسرانسپکٹرعقیل(سندھ پولیس) سمیت پرائیوٹ شخص شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ ادائیگی عاطف نامی مڈل مین کے ذریعے امریکی بینک اکاونٹ سے کرائی جانے کی کارروائی بھی مکمل تھی۔ 

اسسٹنٹ ڈائریکٹرمحمداقبال، انسپکٹرحبیب اور سب انسپکٹر شفیع پر مشتمل ٹیم نے ادائیگی سے قبل ملزمان گرفتار کر لیے ،ملزمان نے کارروائی میں ضبط لیپ ٹاپ،موبائل فونز سمیت دیگرسامان کو بھی کارروائی کا حصہ نہیں بنایا، گرفتاری پر مامور ٹیم نے ایک روز قبل الیکٹرونک سامان ملزمان کے دفتر سے تحویل میں لیا۔ ایف آئی اے نے ملزمان اور لندن میں موجود افراد کی ڈیلنگ کے دوران ہونے والی گفتگو کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رہا کیے گئے ملزمان پہلے سے درج کے کے ایف اکاؤنٹس کیس کی انکوائری میں بھی شامل تھے۔

دوسری جانب سندھ میں نادرا کے مختلف سینٹرز سے لاکھوں جعلی شناختی کارڈ جاری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ شناختی کارڈ نادرا افسران کی ملی بھگت سے جاری کیے گئے۔ نادرا اور غیر ملکی شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کی روشنی میں ایف آئی اے انسداد انسانی اسمگلنگ سیل کراچی نے دو مقدمات کا اندراج کرتے ہوئے تین غیر ملکی شہریوں اور نادرا کے چار ملازمین کو گرفتار کر لیا ہے۔ عامر فاروقی نے بتایا کہ مقدمہ الزام نمبر 89/2021 حال ہی میں تعینات ہونے والے انسپکٹر احسن ذوالفقار نے قائم کیا ہے اور اس مقدمہ میں انسداد رشوت ستانی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ اس مقدمہ میں افغان مہاجر بنام جمعہ خان ولد عبدل رحیم خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور نادرا ملازمین اور افسران کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔

دوسرے مقدمہ 90/2021 کا اندراج انسپکٹر اسٹیفن شریف کی جانب سے کیا گیا ہےاور اس مقدمہ میں بھی دو افغانیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں محمد رسول ولد فتح محمداور اختر محمد ولد فتح رحمان شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمہ میں ملوث نادرا ملازمین اور نادرا افسران کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔عامر فاروقی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے اہلخانہ کو بھی جعلی شناختی کارڈ جاری کیے گئے اور ایسے مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات کو بھی شامل کرنے کی کوشش کریں گے، ایف آئی اے نے اس حوالے سے وفاقی وزارت داخلہ کو ایک رپورٹ بھی ارسال کی ہے، جس میں ایسے جاری ہونے والے تمام شناختی کارڈ کو فوری طور پر بلاک کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جن نادرا ملازمین کو گرفتار کیا گیا ہے، ان میں اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ سلمان حسین زبیری ،اسسٹنٹ ڈائیریکٹر اشفاق جمالی ،اسسٹنٹ ڈائیریکٹر افروز علی شبرانی

اور اسسٹنٹ ڈائیریکٹر نور محمد بھمبھرو شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ میں نادرا دفاتر سے گزشتہ دس برسوں کے دوران جاری ہونے والے مشکوک قومی شناختی کارڈز کی چھان بین کے لیے بھی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس نے اپنی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ایف آئی اے کے مطابق نادرا سے تعلق رکھنے والے وہ افسران جو جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے میں ملوث ہیں ،ان کی پوسٹنگ مخصوص سینٹرز میں کروائی جاتی تھیں اور اس حوالے سے ایک پورا نیٹ ورک کام کر رہا تھا۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ نادرا ملازمین کی ساتھ درجنوں ایجنٹس بھی اس دھندے میں ملوث ہیں اور ان ایجنٹوں کی گرفتاری کے لیے بھی جلد کارروائی شروع کر دی جائے گی۔ 

نادرا کے حوالے سے اس سے قبل بھی اس طرح کی شکایات کی روشنی میں سال2015میں ایف آئی اے نے تفتیش کی تھی اور کچھ نادرا ملازمین سمیت دیگر ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے دور میں بھی نادرا کے اندر آپریشن کلین اپ کے دعوے کیے گئے تھے اور ہزاروں مشکوک شناختی کارڈز کو بلاک کرنے کے دعوے کیے گئے تھے۔ تاہم اس کے باوجود نادرا ملازمین کی ملی بھگت سے یہ کام اب تک چل رہا ہے ۔ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون ون عامر فاروقی اس حوالے سے پر امید ہیں کہ اس بار ایف آئی اے جعلی قومی شناختی کارڈ جاری کرنے میں ملوث نیٹ ورک کو توڑنے میں کام یاب ہو جائے گی اور جو بھی نادرا ملازمین اس دھندے میں ملوث ہیں، انھیں اور ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کر کے سزا دلوائی جائے گی۔ 

ہر شہری کا آئے روز نادرا سے کسی نہ کسی طرح واسطہ پڑتا ہے ،میگا سینٹرز بنائے جانے کے باوجود شہریوں کو گھنٹوں لائن میں کھڑا رہ کر شناختی کارڈ بنانے کے لیے اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور متعدد شہریوں کی شکایت ہے کہ اندر جا کر کسی نہ کسی دستاویز نہ ہونے کا بہانہ بنا کر انھیں واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب غیر ملکی افراد سمیت جرائم پیشہ عناصر گھر بیٹھے نادرا ملازمین اور ان کے ایجنٹوں کے ذریعے جعلی شناختی کارڈز بنوا رہے ہیں۔ ایسے تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت ہے اور ان مقدمات کے فیصلے بھی فوری ہونے چاہئیں تاکہ ملزمان کو قرار واقعی سزائیں مل سکیں۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید