• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایکوا کلچر کے فروغ کیلئے فشریز کی پہلی کنٹرول نرسری بنانے کا فیصلہ

اسلام آباد (ساجد چوہدری ، اپنے نامہ نگار سے) وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ادارے پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) نےملک میں ایکوا کلچر کو فروغ دینےاور شعبہ فشریز میں انقلاب لانے کیلئے پہلی کنٹرول نرسری لگانے کا فیصلہ کیا ہے ، یہ فیصلہ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اور پنجاب کے صوبائی وزیر وائلڈ لائف و فشریز میں ملاقات کے بعد کیا گیا ہے چیئرمین پی سی ایس آئی آر ڈاکٹر حسین عابدی کے مطابق اس وقت ملک میں مچھلی کے بچوں کے حوالے سے کوئی کنٹرول نرسری نہیں ہے ، جس طرح زراعت کی کامیابی کیلئے سیڈ کی نرسری ہوتی ہے اسی طرح اب فشریز کی بھی کنٹرول نرسری ہو گی، فارمرز کو عام طور پر بچہ گرمیوں میں ملتا ہے اس لئے اب پی سی ایس آئی آر لاہور میں اپنا پہلا پلانٹ لگا رہا ہے جس کی تعمیر شروع ہو چکی ہے ، جس میں فروری مارچ میں بچہ تیار ہوا کرے گا اور اس کنٹرول نرسری میں مختلف اقسام کے بچے تیار ہونگے پھر فارمرز کو دیئے جائیں گے اسکے نتائج بھی بہتر آسکیں گے ، انہوں نے کہا کہ زراعت کی طرح فشریز ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس میں انٹروینشن سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے تو انقلاب آئے گا ، بچہ اپریل مئی میں فارمر کو ملتا ہے ، پھر اکتوبر تک اسے بڑھوتری کرنے کا وقت ملتا ہے، سردی آتی ہے منڈی میں فروخت ہونا شروع ہو جاتا ہے ،سردی میں اس کی موت ہونا شروع ہو جاتی ہے ، فارمرز کیلئے سب سے بڑا مسئلہ بچہ جلدی نہیں ملتا کنٹرول نرسری نہیں ، اگر بچہ اپریل مئی کی بجائے مارچ میں فارمرز کو ملنا شروع ہو جائے تو اس شعبہ میں انقلاب آ سکتا ہے ، پی سی ایس آئی آر اپنے سائنسدانوں سے مل کر لاہور میں پائلٹ پراجیکٹ لگا رہی ہے ، فروری مارچ میں بچہ پنجاب فشریرز کے حوالے کریں گے تاکہ فارمرز کو آگے دے سکیں، اس سے ملک کا جی ڈی پی بڑھ سکتا ہے معاشی سرگرمی بذریعہ سائنس و ٹیکنالوجی انقلابی موڑ پر آجائے گی ۔
اسلام آباد سے مزید