• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گیس کی طلب 6 ہزار اور سسٹم میں5200 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی، سردیوں میں طلب 8 ہزار ایم ایم سی ایف ڈی ہوگی

اسلام آباد (حنیف خالد) ملک میں گیس کی طلب 6 ہزار ایم ایم سی ایف ڈی ہوگئی جبکہ قومی ٹرانسمشن لائن میں گیس 5 ہزار دو سو ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی اس طرح سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس پائپ لائن میں 8 سو ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ گرمیوں میں گیس کی ڈیمانڈ 6 ہزار ہے جو سردیوں میں 8 ہزار ایم ایم سی ایف ڈی ہو جائے گی۔ گرمی میں گیس کی قلت 800 ایم ایم سی ایف ڈی ہوگئی جو سردیوں میں 2800 ایم ایم سی ایف ڈی تک پہنچے گی۔ ملک میں گیس کم ہونے کی وجہ ایل پی جی اور فرنس آئل کا استعمال بڑھ گیا ہے اس کے نتیجے میں پاکستان میں ایل پی جی اور فرنس آئل زیادہ امپورٹ کرنے پر مجبور ہوگیا ہے ملکی گیس کی پیداوار میں اوسطاً5\ فیصد سالانہ کمی واقع ہونے لگی ہے گیس کی پیداوار 4200 ایم ایم سی ایف ڈی سے کم ہوکر 3500 ملین ملین کیوبک فٹ ڈیلی رہ گئی ہے ملک کے اندر ہائوسنگ سکیموں میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے پاس نئے کنکشنوں کی 8 لاکھ درخواستیں معرض التواء میں پڑی ہیں۔ حکومت نے انڈسٹری کو جو مراعات دی ہیں اس کے نتیجے میں نئی انڈسٹری کو گیس کی قلت کا سامنا ہے۔ دریں اثناء سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کمپنی لمیٹڈ نے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبرپختونخوا میں قدرتی گیس کے سنگین بحران پر قابو پا لیا ہے کیونکہ حبکو کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے حبکو کول فائرڈ پاور پلانٹ نے پیر سے بجلی بنانا شروع کر دی ہے جس پر گزشتہ ہفتے آسمانی بجلی گری تھی اور حبکو کول فائرڈ پاور پلانٹ سے بجلی کی پیداوار رک گئی تھی مگر گزشتہ روز سے حبکو کول فائرڈ پاور پلانٹ نے 1340 میگاواٹ بجلی کی پیداوار ہنگامی طور پر شروع کر دی ہے اس لئے پاور ڈویژن کے آرڈر پر گیس سے ہنگامی طور پر بجلی بنانے والے بڑے پلانٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کمپنی لمیٹڈ کو پروسیس انڈسٹری نے اطلاع دی ہے کہ وہ اتوار تک اپنے کان بند نہیں کرسکیں گی اس کیلئے ان کو28 جولائی تک مسلسل گیس فراہم کی جائے پروسیس انڈسٹری میں شیشہ بنانے والی انڈسٹری/سرامکس انڈسٹری، پولیسٹر انڈسٹری فرشی ٹائل واش روم کچن کا سامان بنانے والی انڈسٹری، اسپننگ انڈسٹری کھاد انڈسٹری بھی شامل ہے کیونکہ وہ بوائیلرز کیلئے گیس مسلسل استعمال کرتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 1984 میں پاور پالیسی کے تحت حبکو نے کراچی میں پاور پلانٹ لگایا تھا جو فرنس آئل وغیرہ سے بجلی بنانا تھا اس کا واپڈا کے ساتھ تیس سالہ معاہدہ چونکہ 2023 میں ختم ہو رہا ہے اس لئے حبکو کمپنی نے کول فائرڈ پاور پلانٹ لگا لیا جو 1340 میگاواٹ بجلی بنا رہا ہے اس پر آسمانی بجلی گزشتہ ہفتے گری جس سے اس کی پروڈکشن بند کر دی منگل کی صبح خیبرپختونخوا اور پنجاب بھر کی جنرل انڈسٹری اور سی این جی سٹیشنوں کو گیس کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ ایس این جی پی ایل کے مطابق اب موسم سرما تک گیس کا بحران پیدا نہیں ہوگا۔

ملک بھر سے سے مزید