• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں کو منظم ہونے اور صفائی ستھرائی کی اہمیت بتائیں

کم عمر بچوں کا دماغ ہر وقت کچھ نہ کچھ سیکھنے کے لیے تیار رہتا ہے، ایسے میں والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اور انھیں جہاں دیگر کئی چیزیں سیکھانے پر توجہ دیتے ہیں، وہاں انھیں صفائی ستھرائی کی اہمیت بھی بتائیں اوران کی شخصیت و عادات میں اس چیز کو شامل کریں کہ صفائی ستھرائی اور ہر شے کو منظم انداز میں رکھنا کس قدر اہم ہوتا ہے۔

بات جب صفائی ستھرائی کی آتی ہے تو اس میں چیزوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا، صاف کرنا اور فولڈ کرنا وغیرہ شامل ہے۔ جب آپ یہ جان جاتے ہیں کہ گھر ہو یا ارد گرد کی جگہیں، ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے کون سے ہُنر سیکھنا ضروری ہوتا ہے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ جب یہ سارے ہنر ایک ساتھ عمل میں لائے جاتے ہیں، تبھی جاکر کسی بھی جگہ کی حقیقی معنوں میں صفائی ستھرائی ہوتی ہے۔ ذیل میں کچھ اہم مشورے پیشِ خدمت ہیں، جو بچوں کے سیکھنے کے عمل میں معاون اور مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔

کون سی چیز کہاں رکھنی ہے

صفائی کرتے وقت سب سے زیادہ جس چیز کا خیال رکھنا چاہیے، وہ یہ کہ کس چیز کو کہاں رکھنا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ اپنے کپڑے ایک دراز میں رکھے تو غالب امکان یہی ہے کہ موزے، موزوں کی جگہ اور پینٹس، پینٹوں کے خانے میں رکھی جانی چاہئیں۔ مختلف اقسام کی چیزوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرکے ان میں سے ایک جیسی چیزوں کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت آپ کے بچے کو اپنی دنیا اور اپنی چیزیں منظم کرنا سکھائے گی۔ 

کنڈرگارٹن تک آتے آتے آپ کے بچے کو اس کام میں مہارت حاصل کرلینی چاہیے، جہاں اسکول میں انھیں روزانہ کی بنیاد پر بلاکس، ٹوائز اور کریئونز کے ساتھ مختلف سرگرمیاں انجام دینے کے بعد انھیں واپس الگ الگ رکھنا ہوتا ہے۔ آپ نے اس سرگرمی کو اپنے بچے کی کتابوں اور درازوں سے آگے جاکر باورچی خانہ اور اس سے بھی آگے تک پھیلانا ہے۔ جیسے کہ آپ کو بچے کو معلوم ہونا چاہیے کہ باورچی خانہ میں پلیٹیں کہاں رکھی جاتی ہیں اور چھریاں، چمچے اور کانٹے کہاں رکھے جاتے ہیں۔

فولڈنگ (تہہ کرنا)

چاہے آپ کا بچہ تولیہ تہہ کرنا سیکھ رہا ہو یا پھر رومال یا دسترخوان، درست اندا زمیں تہہ کرنے کی صلاحیت حاصل کرنا توجہ اور وقت طلب کام ہوتا ہے۔ کنڈرگارٹن کلاس روم میں آپ کے بچے کو کپڑے تہہ کرکے باسکٹ میں رکھنے یا کاغذ کا ٹکڑا تہہ کرکے برف کا گولا بنانے کے لیے کہا جاسکتا ہے۔ ہر قسم کے مٹیریل کو تہہ کرنے کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ 

آپ اپنے بچے کو مختلف ٹاسک دے سکتے ہیں، مثلاً اسے دو تولیے اور ایک لفافہ دیں اور کہیں کہ ان تولیوں کو تہہ کرکے لفافے میں رکھنا ہے، اسی طرح آپ اسے کاغذ کی بڑی شیٹ دے کر اسے تہہ کرکے لفافے میں رکھنےکا بھی کہیں۔ چیزیں تہہ کرکے رکھنے سے بچہ منظم ہونا اور اپنی چیزوں کا خیال رکھنا سیکھتا ہے۔

ڈسپلن اور ترتیب

کنڈرگارٹن کلاس روم میں آپ کے بچے کو اکثر ایسے کام کرنے کو کہا جائے گا، جہاں اسے کئی چیزوں کو منظم کرکے ان کی جگہ پر رکھنا ہوگا، جیسے بلاکس کو بلاک سینٹر میں رکھنا یا پھیلی ہوئی کتابوں کو لائبریری میں ان کے خانوں میں رکھنا۔ آپ اپنے بچے کے لیے گھر پر بھی ایسی سرگرمیوں کا اہتمام کرسکتے ہیں۔ آپ اپنے بچے کو سارے تولیے دیں اور پھر دیکھیں کہ وہ کتنے سارے تولیے الماری میں ایک دوسرے کے اوپر منظم انداز میں رکھ پاتا ہے، جس کے بعد تولیے گرنے لگتے ہیں۔ 

پھر آپ اس سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ تولیے کیوں گِر پڑے؟ کیا ان کی اونچائی کو کم رکھنے کی ضرورت ہے؟ مزید برآں، آپ اپنے بچے کو مختلف جگہوں اور چیزوں کے بارے میں بتائیں کہ کہاں کون سی چیزیں کس طرح رکھی جاتی ہیں۔ کتابوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ رکھا جانا چاہیے یا ایک دوسرے کے اوپر۔ اس کے علاوہ، ان کتابوں کو چھوٹے سے بڑے کی ترتیب میں بھی رکھا جاسکتا ہے۔

صفائی ستھرائی

آپ کے چھوٹے سے بچے کو کنڈرگارٹن کے سالوں میں کسی نہ کسی مرحلے پر اپنی جگہ یا کھانے کے بعد میز صاف کرنے کی ذمہ داری لینا پڑے گی۔ آپ کو اسے یہ بھی سیکھانا ہوگا کہ وہ ’ڈسٹ بِن‘ میں چیزوں کو لے جاکر کس طرح پھینکے اور کھانے کے بعد میز پر استعمال میں آنے والی تمام چیزوں کو کس طرح صاف کرکے ان کی جگہ رکھنا ہے۔ صرف یہی نہیں، آپ کے بچے کو چاک بورڈ کس طرح صاف کرنا ہے اور کار کے شیشے گیلے کپڑے سے یا پانی سے کس طرح صاف کرنے ہیں (ویسے بھی چھوٹے بچے پانی میں بھیگنے کا موقع تلاش کررہے ہوتے ہیں)۔

پانی یا دودھ وغیرہ کو اُنڈیلنا

پانی، دودھ یا دیگر مائع چیزیں خود گلاس میں انڈیل کرپینا ایک ایسا ہنر ہے جو والدین کو اپنے بچوں کو سکھانا چاہیے۔ کئی اسکولوں اور جگہوں پر بچوں سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ پانی یا جوس خود گلاس میں اُنڈیل کر پئیں۔ آپ اپنے بچے کو ایک پلاسٹک کا کپ اور جگ، پانی کی بالٹی یا باتھ روم سِنک کے ساتھ رکھ کر اس کی پریکٹس کرواسکتے ہیں۔ آپ اپنے بچے کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ گلاس کو پانی سے بھرے، پھر اسے بتائیں کہ سارا جگ انڈیلنے کے بجائے اس میں سے اتنا پانی انڈیلے جس سے گلاس بھر جائے۔ 

مزید برآں، اپنے بچے کو مختلف سائز کے جگ اور پِچر سے پانی انڈیلنا سکھائیں۔ اس طرح کی پریکٹس کے بعد اپنے بچے کو باقاعدہ طور پر اپنے پینا کا پانی، جوس یا دودھ کو گلاس میں انڈیل کر پینے کی دعوت دیں۔ ابتدا میں یقیناً وہ تھوڑا بہت پانی یا دودھ گرائے گا لیکن وہ جلد ہی اس میں مہارت حاصل کرلے گا۔ اس عمل سے آپ کے بچے میں کاموں کو انجام دینے کی عادت، خود انحصاری اور اعتماد پیدا ہوگا۔

کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا

اپنے بچے میں عادت ڈالیں کہ وہ جس کام میں ہاتھ ڈالے، اسے پایہ تکمیل تک پہنچا کر ہی چھوڑے۔ چاہے باسکٹ میں کھلونے رکھنا ہی کیوں نہ ہو، ایسا نہ ہو کہ وہ کچھ کھلونے باسکٹ میں ڈال کر رکھ دے جب کہ کچھ فرش پر ہی ادھر ادھر پڑے ہوں۔