• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صنعتی ترقی نے ہر دور میں دنیا کے منظرنامے کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اکیسویں صدی کی آمد کے آس پاس صنعتی ترقی ایک نئے دور میں داخل ہوچکی تھی، جسے ہم چوتھے صنعتی انقلاب کے طور پر جانتے ہیں۔ فیس بک، سِپاٹی فائی اور نیٹ فلکس جیسے پلیٹ فارمز نے میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کی صنعتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ ایمیزون اور علی بابا جیسے ای-کامرس کے بڑے ادارے اینٹ اور گارے سے بنی چار دیواریوں کے اندر بیٹھ کر کاروبار کرنے والے ریٹیلرز کو ماضی کا قصہ بنا رہے ہیں۔ اسی طرح ڈیجیٹل موبلٹی کمپنیاں، روایتی گاڑیاں بنانے والوں کو چیلنج کررہی ہیں۔

نئی ٹیکنالوجی، بہتر تفریح، بہتر خریداری اور بہتر آمدورفت کے لیے صارفین کی ضروریات کو پورا کررہی ہے بلکہ اختراع اور جدیدیت نے ان کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت اور پائیداری کو بھی بڑھا دیا ہے۔ ساتھ ہی، جدید دور کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی ہنر اور صلاحیت کو بھی نئی معنی دے رہی ہے۔

اسی طرح، تعمیراتی صنعت میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اپنے قدم مضبوط کرنا شروع کردیے ہیں۔ انفرااسٹرکچر، ریئل اسٹیٹ اور دیگر تعمیراتی اثاثہ جات کو کس طرح ڈیزائن، تعمیراور آپریٹ کیا جاتا ہے، اس میں بتدریج تبدیلی آنا شروع ہوگئی ہے۔ تعمیراتی صنعت میں متعارف ہونے والی نئی ٹیکنالوجی میں بلڈنگ انفارمیشن ماڈل (BIM)، پری فیبریکیشن، وائرلیس سنسرز، 3Dپرنٹنگ، آٹومیٹڈ اور روبوٹک آلات شامل ہیں، جو تعمیرات کی پوری صنعت پر اثرانداز ہورہے ہیں۔ عالمی معیشت میں 6فیصد کا حصہ رکھنے کے باعث، اس صنعت میں متعارف ہونے والی ٹیکنالوجی کے معاشی اور سماجی اثرات نمایاں اور دور رس ہوں گے۔

اندازہ ہے کہ تعمیراتی صنعت میں پوری طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے متعارف ہونے سےصرف ایک عشرے کے اندر لاگت میں 12سے 20فی صد بچت کی جاسکتی ہے، جس سے عالمی معیشت کو 1ٹریلین ڈالرسے 1.7ٹریلین ڈالر کی بچت ہوسکتی ہے۔

عالمی سطح پر ظہور پذیر ہونے والے نئے رجحانات بھی تعمیراتی صنعت کو تبدیل ہونے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، تیزی سے ختم ہوتے وسائل، باصلاحیت افرادی قوت کی طلب و رسد میں فرق اور تیزی سے شہری آبادی میں اضافہ(روزانہ عالمی سطح پر تقریباً 2لاکھ لوگ گاؤں، دیہات کی زندگی چھوڑ کر شہروں میں آرہے ہیں)، یہ چند وہ رجحانات ہیں، جن پر تعمیراتی صنعت کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی ایک نئی رپورٹ میں نئے عوامل کی بنیاد پر تین ممکنہ نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ تعمیراتی صنعت کے مستقبل میں، ان تین میں سے ممکنہ طور پر کم از کم ایک عمل کارفرما ہوسکتا ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی انفرااسٹرکچر اینڈ اربن ڈیویلپمنٹ کمیونٹی کے شریک چیئرمین مائیکل برکے کہتے ہیں، ’مستقبل کی دنیا میں تعمیراتی صنعت کے موجودہ کاروباری طریقہ کار، لائحہ عمل اور صلاحیتیں کارگر نہیں رہیں گی۔ ممکنہ تغیر کے پیشِ نظر، اس صنعت کے کسی بھی شعبے سے وابستہ شراکت داروں کو، خود کو تیار کرنا ہوگا‘۔

یہی وجہ ہے کہ تعمیراتی صنعت سے وابستہ 74فیصد چیف ایگزیکٹو آفیسرز نے نئے باصلاحیت لوگوں کو اس صنعت میں لانے اور موجودہ ورک فورس کے ہنر کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کو اپنی ترجیحات میں سرِفہرست بتایا ہے۔ ان کے مطابق، متنوع وسائل کو ایک جگہ اکٹھا یا ضم کرنا اور ویلیو چین میں شراکت پیدا کرنا سب سے اہم ہوگا، جبکہ 61فیصد سی ای اوز سمجھتے ہیں کہ جدید ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اختیار کرنا سب سے اہم اور ناگزیر عمل ہوگا۔

تعمیراتی صنعت سے وابستہ فیصلہ سازوں کو مستقبل کے منظرنامے میں آنے والے تغیر کے پیشِ نظر اپنی آنکھیں کھُلی رکھنی چاہئیں۔ انھیں، ایک خوشحال مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے جن عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے، تیار رہنا ہوگا، جس سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، سماجی ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کو فروغ ملے گا۔

عالمی رجحانات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ڈیووس کانفرنس میں ورلڈ اکنامک فورم اور تعمیرات کی صنعت سے وابستہ دنیا کی 30بڑی کمپنیوں نے کئی منظرنامے تیار کیے ہیں۔ تمام منظرناموں میں جو ایک چیز مشترک ہے، وہ یہ کہ مستقبل میں کامیابی کے لیے موجودہ استعداد، کاروباری طریقہ کار اور لائحہ عمل کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ ان منظرناموں میں کئی ایسے اقدام بھی تجویز کیے گئے ہیں، جو اس صنعت سے وابستہ سی ای اوز کو لینے چاہئیں، تاکہ وہ مستقبل میں مؤثر رہ سکیں۔ 

ان تجویز کردہ اقدامات میں، (1نئے باصلاحیت لوگوں کو اس صنعت کی طرف راغب کرکے ان میں مطلوبہ ہنر پیدا کرنا، (2تعمیرات کی ویلیو چین میں وسائل کا انضمام اور شراکت داری پیدا کرنا، (3بڑے پیمانے پر جدید ٹیکنالوجی کو اختیار کرنا، (4تعمیرات کے ہر مرحلے پر مواد(Data)اور ڈیجیٹل ماڈلز کا وسیع تر استعمال، شامل ہیں۔

موجودہ تعمیراتی صنعت کو مستقبل میں مؤثر رہنے کے لیے ٹیکنالوجی کے اس متوقع تغیر کے لیے تیار رہنا ہوگا، بصورتِ دیگر اس صنعت کے اُفق پر نمودار ہونے والی ڈرامائی تبدیلیاں اس کے مستقبل اور اس سے وابستہ 10کروڑ ملازمین اور ورک فورس کے مستقبل کو بے یقینی بنادیں گی۔