• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاذیہ عبدالقادر، لاہور

’’نسل کُشی یا Genocide‘‘ یقیناً یہ لفظ آپ نے بارہا سُنا ہوگا،لیکن آج ہم اس لفظ سے منسلک ایک قوم، بنی اسرائیل کی تاریخ آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ اس قوم کی سفّاکیت بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے متعدّد انبیائے کرامؑ مبعوث فرمائے ،مگراس قوم نے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو ہمیشہ جھٹلایا، یہاں تک کہ کئی ایک کو شہید کردیا۔ ان پرظلم ڈھائے، مسلسل اپنے ربّ کی نافرمانی کی ،مجرمانہ اور سفّاکانہ رویّہ اختیار کیے رکھا۔ 

یہی وجہ ہے کہ اگر بنی اسرائیل کو نسل کُشی کی موجد کہا جائے ،تو بے جا نہ ہوگا۔واضح رہے، بنی اسرائیل کواللہ تعالیٰ نے بہت نوازاتھا،بار بار نافرمانیوں کے با وجود سُدھرنے، ایمان لانے کےکئی مواقع عطاکیے ۔ من و سلویٰ اُتارا، لیکن یہ نا فرمان کی نافرمان قوم،سدامغرورومتکبّر ہی رہی۔ یہ وہی یہود ہیں ،جنہوں نے بارہا حضرت محمّدﷺ سے کیے گئےمعاہدے توڑ کر دشمنانِ اسلام سے ساز باز کی ۔

نومبر1947ءمیں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان تقسیم کرنے کا فیصلہ صادر کیا تھا،جس کے مطابق 55 فی صد رقبہ 33 فی صد یہودی آبادی کو اور 45فی صد رقبہ 67فی صد عرب آبادی کو دیا جانا طے ہوا۔مگر یہودیوں نے 9 اپریل 1948 ءمیں دیر یاسین میں مسلمان عربوں کے قتلِ عام کے دوران عورتوں، بچّوں اور مَردوں کو شہید کیا۔بعد ازاں، 14مئی 1948 ءکو عین اُس وقت ،جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی فلسطین کے مسئلے پر پھر بحث کررہی تھی، یہودی ایجینسی نے رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح چُھپ کراسرائیلی ریاست کے قیام کا باقاعدہ اعلان کردیا، جس سے اس خطّے میں جنگ و جدل شروع ہوگئی اور جب تک اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کا فیصلہ کیا، اُس وقت تک فلسطین کے رقبے کا 77 فی صد سے زائدحصّہ یہودیوں کے قبضہ میں جاچُکا تھا۔

وقت گزرتا گیا، مگرمعصوم فلسطینیوں کی نسل کُشی کا سلسلہ نہ رُکا۔ 2008ء، 2009ء اور 2012ء میں اسرائیل نےبلا شتعال غزہ پر جنگ مسلّط کی ، جس میں کیمیائی ہتھیار تک استعمال کیےگئے۔ یہ سفّاک قاتل غزہ کے عوام سے بس ایک ہی مطالبہ کر رہے تھے کہ ’’مسجدِ اقصیٰ سے دست بردار ہوجاؤاور اسرائیل کو تسلیم کرلو۔‘‘مگر فلسطینی اپنے موقف سے پیچھے نہ ہٹے۔ جدّو جہد ، قربانیوں کا جوسلسلہ کئی سال پہلے ان کے آبا نےشروع کیا تھا ،وہ آج بھی جا ری ہے۔

حالاں کہ اب ہم 2021ء میں داخل ہو چُکے ہیں، لیکن مظلوم فلسطینیوں کے حالات ابتر سے ابتر ہی ہوتے چلے جا رہے ہیں کہ گزشتہ دنوںشیخ جراح سے مقامی فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے لیے اُن پرظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے گئے، وہ کسی سے ڈھکے چُھپے نہیں۔ اسرائیل نے گولہ باری،راکٹ حملوں اور زمینی فوج کی مددسے مقامی باشندوں کو ہلاک و زخمی اور ان کی املاک کو تباہ و برباد کردیا۔یہاں تک کہ کوریج کرنے والے میڈیا نمایندگان تک کوعالمی جنگی قوانین توڑتے ہوئے اپنی بربریت کا نشانہ بنایا ، اُنہیں گرفتار کیا۔

جب ہٹلر نے یہودیوں کی زندگی اجیرن کر دی تھی، تو انہیں فلسطین نے پناہ دی، لیکن ،جو قوم اپنے ربّ کی نا فرمان، احسان فراموش تھی، وہ بھلا مسلمانوں کی احسان مند کیا ہوگی۔ یہ وقت کُل مسلم اُمّہ کے لیے سوچنے سمجھنےکا ہے کہ اس وقت دنیا کی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر اسرائیل کی اجارہ داری ہے، یہ ہماری ہی جیبوں سے پیسا نکلوا کر ہمارے ہی بھائیوں اور قبلۂ اوّل کو تباہ و برباد کرنے میں استعمال کر رہے ہیں۔ مگر مسلمان ممالک کے حکمرانوں میں سے کسی میں اتنی جرأت و ہمّت نہیں کہ مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کرسکے کہ ’’القدس مسلمانوں کا قبلۂ اوّل ہے ،اس کی اہمیت قرآن و سنت کی روشنی میں اظہر من الشمس ہے۔

اگر دنیا فلسطین پراسرائیل کا حق تسلیم کرنا چاہتی ہے، تو پھر برطانیہ ، روم کا حق تسلیم کرے کہ 43 قبل مسیح سے 409 قبلِ مسیح تک روم نے برطانیہ پر حکومت کی تھی،تو پھر روم کو برطانیہ پر قابض ہو کراپنے لوگوں کویہاں بسانا چاہیے۔‘‘مسلمان ہی قبلۂ اوّل کے اصل جانشین ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ بیت المقدس مسلمانوں کو بغیر کسی جنگ کے حاصل ہواتھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دَور میں اس کے آس پاس کے علاقے فتح ہوئے، تو بیت المقدس جنگ کے بغیر سلطنتِ اسلامیہ میں شامل ہوا۔اُس وقت یہاں یہودیوں کا کوئی معبد قائم نہ تھا۔ حضرت عمرو بن عاصؓ، حضرت عمر فاروقؓ کے حکم سے جب بیت المقدس پہنچے تو وہاں کے یہودیوں اور عیسائیوں نے کہا کہ ہماری کتابوں کے مطابق فاتحِ بیت المقدس کا حلیہ آپ جیسا نہیں، لہٰذا آپ اسے فتح نہیں کر سکتے۔ 

چناں چہ حضرت عمرو بن عاصؓ نے سیدنا عمر فاروقؓ کو خط میں صورتِ حال لکھ بھیجی اور پھر حضرت عمر فاروقؓ کی بیت المقدس آمد پر چابیاں ان کے حوالے کی گئیں ،کیوں کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے آپ کا حلیۂ مبارک اپنی کتابوں کے مطابق پا لیا تھا۔ حضرت عمرؓ نے اس جگہ مسجد کی تعمیر فرمائی، جہاں رسول اللہﷺ کی امامت میں انبیائے کرامؑ کے نماز ادا کرنے کی علامات ملی تھیں۔

بیت المقدس کبھی یہودیوں کی ملکیت نہیں تھاکہ رومیوں نے جنگوں کے دوران ان کے تمام معبد ختم کردئیے تھے اور یہ علاقہ دَورِ خلافت میں بغیر جنگ کے مسلمانوں کے قبضے میں آیاتھا، جس پر بارہا صیہونیوں نے ناجائز قبضے کی کوشش کی، لیکن مسلمانوں نے اسے جنگ سے واپس حاصل کیا۔ یہاں ہمیشہ سے اکثریت عرب مسلمانوں کی تھی،عیسائی اور یہودی اقلیت کے طور پر رہتے تھے۔1880 کے بعد ایک صیہونی مہم کے نتیجے میں یہاںباہر سے یہودی لا کر بسانا شروع کیے گئے اور 1947-48ءمیں جارحانہ قبضہ کرکے فلسطینیوں پر زبردستی جنگ مسلّط کر دی۔ہمارا سوال مغرب سے ہے کہ وہ جانوروں کے حقوق تو تسلیم کرتے ہیں، ان کے ساتھ نرمی سے پیش آتے ہیں، لیکن جیتے جاگتے انسانوں کی آہیں، سِسکیاں کیوں نظر نہیں آتیں؟کیاکسی کو اس کی زمین سے بے دخل کرنا جرم نہیں؟ انسانی حقوق کی پامالی نہیں؟ اپنے ہی علاقوں سے بے دخل کیے جانے پر مزاحمت کرنے والوں کو مجرم بنا کر پیش کرنا کہاں کی انسانیت ہے؟

یاد رہے، صیہونی ریاست ،اسرائیل کا ہدف بیت المقدس سے آگے ہے ۔اگر آج فلسطین مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا، تو یہودیوں کی جرأت مزید بڑھ جائے گی۔ لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ اقوامِ متّحدہ قراردادوں سے آگے اور او آئی سی احتجاج سے آگے کچھ نہیں کرتی۔یہی وقت ہے کہ جب پوری دنیا کے مسلمانوں کو متحد ہو کر بھرپور احتجاجی تحریک چلانی چاہیے۔ آج بیت المقدس کا معرکہ اپنے عروج پر ہے اور اگرخاکم بدہن ،اسرائیل جیت گیا ، تو مسلمانوں پر غاصبانہ قبضے کی روایت ہی چل نکلے گی۔ لہٰذا،یہ وقت میرے اور آپ کے کھڑے ہونے کا ہے۔

آج کے دَور میں جنگوں کے طریقے بھی بدل گئے ہیں، ہم میدانِ جنگ میں نہیں جا سکتے، لیکن فلسطینی بہن بھائیوں اور بچّوں کا بے دریغ خون بہانے والوں کو اپنی جیب سے منافع بھی تونہ دیجیے۔ آگہی پھیلائیے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائیے۔صدر ِ پاکستان، وزیرِ اعظم ،مقتدر طبقوں کو خط لکھیے اور ان سے کہیے کہ فلسطینیوں کے حق میں دنیا کے ہر فورم پر آواز اُٹھائیں، مغرب کو بتائیں کہ پاکستانی عوام فلسطین کے ساتھ ہے۔ مسلمان اپنے قبلۂ اوّل سے دست بردار ہوں گے اور نہ ہی اپنے بھائیوں کے ساتھ سفّاکانہ رویّہ برداشت کریں گے۔

سنڈے میگزین سے مزید