• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ظاہر جعفر کی سفاکیت کو ظاہر کرنیوالی پینٹنگ بنانے والے آرٹسٹ پر تنقید

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلام آباد میں سابق سفیر کی بیٹی نور مقدم کے قتل میں ملوث ظاہر جعفر کی پینٹنگ بنانے والے آرٹسٹ کو خوفناک انداز میں تصویرکشی پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔نوجوان آرٹسٹ عبدالمفتی نے حال ہی میں ظاہر جعفر کی پینٹنگ بنائی تھی، جس میں انہوں نے ملزم کو سفاکانہ انداز میں دکھایا تھا۔آرٹسٹ کی جانب سے بنائی گئی تصویر میں ایک شخص کو سفید رنگ کی شلوار اور بنیان میں دکھایا گیا ، جس کے کپڑوں اور جسم پر خون کے نشانات تھے اور وہ بستر پر بیٹھ کر مسکرارہا ہے۔پینٹنگ میں فرش پر بھی خون بکھرا ہوا ہے جب کہ دیوار پر خون سے جملہ لکھا ہوا ہےکہ وہ پاکستانی نہیں امریکی شہری ہیں۔مذکورہ پینٹنگ کو شیئرنگ کرتے وقت آرٹسٹ نے لکھا کہ عین ممکن ہے کہ مذکورہ تصویر لوگوں کو خوفناک محسوس ہو اور وہ بعض افراد کو متاثر بھی کرے، تاہم ان کی جانب سے تیار کی گئی پینٹنگ کا مقصد قاتل کی سفاکیت کو دکھانا تھا۔انہوں نے لکھا وہ پینٹنگ میں قاتل کو عام کپڑوں میں دکھانا نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ انہیں ایسے انداز میں دکھانا چاہتے تھے، جس سے محسوس ہو کہ وہ بہیمانہ کارروائی کے وقت ہوش و حواس میں تھے اور انہیں وہ رحم کے قابل نہیں۔آرٹسٹ نے لکھا کہ ان کی جانب سے قاتل کی پینٹنگ کو خون کے ساتھ بنانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ خدا نخواستہ اگر ہمارا نظام مقتول کو انصاف فراہم نہ کر سکے تو سفاکانہ ظلم کو یاد رکھا جائے۔انہوں نے طویل پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے مذکورہ پینٹنگ کو مذکورہ طرز پر اس لیے بنایا تاکہ دکھایا جا سکے کہ سماج میں کیسا ظلم اور ایسی کارروائیوں میں ملوث ملزمان کس طرح پر سکون رہتے ہیں اور خواتین کو کس طرح پے در پے قتل کیا جاتا ہے۔تاہم ان کی مذکورہ پینٹنگ پر کئی لوگ ناخوش دکھائی دیے اور آرٹسٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے ڈیلیٹ کردیں، کیوں کہ وہ بہت ہی بھیانک ہے۔متعدد افراد نے ٹوئٹر پر مذکورہ پینٹنگ کو خطرناک قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اسے دیکھ کر متاثرین یا ان کے اہل خانہ مزید صدمے سے دوچار ہو سکتے ہیں، اس لیے اسے ہٹایا اور ڈیلیٹ کردیا جائے۔

دل لگی سے مزید