• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گلگت، کشمیر کے بعد سندھ میں حکومت بنائیں گے، وفاقی وزراء، اپوزیشن متحد ہو تو وفاق، پنجاب حکومتیں بھی گرجائیں گی، بلاول بھٹو


کراچی،راولپنڈی،ملتان(جنگ نیوز، خبر ایجنسیاں)وفاقی وزراء کاکہناہےکہ گلگت وکشمیرکے بعد اب سندھ میں حکومت بنائینگےجس پر چیئرمین پیپلزپارٹی کاکہناہےکہ اپوزیشن متحدہوتو وفاق، پنجاب حکومتیں بھی گر جائینگی۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کاکہناہےکہ تحریک انصاف روز بروز بہتر پوزیشن میں آرہی ہے،الیکشن وقت پر ہوں گے، پہلے ہی کہا تھا ن سے ش نکلے گی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کاکہناہےکہ سندھ کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں ، ہم انہیں متبادل فراہم کریں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کاکہناہےکہ کشمیر میں دھاندلی ہوئی،ثبوت بھارت کے پاس، اسٹیبلشمنٹ کی الیکشن میں مداخلت روکنا ہوگی، پارلیمانی طریقہ کاراپنانا ہوگا،فضل الرحمٰن حکومت کیخلاف نہیں لڑناچاہتے، نااہل،ناجائزاورسلیکٹڈ حکومت کوبھگاکرعوامی حکومت لائینگے۔

راولپنڈی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئےوفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہاہےکہ عمران خان نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں حکومت بنالی ، اب وہ سندھ میں بھی حکومت بنائیں گے، مستقبل میں سندھ میں بھی پی ٹی آئی کی حکومت ہوگی،پہلے ہی کہا تھا کہ ن سے ش نکلے گی، یہ بھی کہا تھا کہ آزادکشمیر میں پیپلزپارٹی زیادہ اور (ن) کم نشستیں لےگی، الیکشن وقت پر ہوں گے۔ 

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےوزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےبھی سندھ میں تبدیلی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس دن سندھ کے عوام قائل ہوگئے آپ سندھ میں بھی تبدیلی دیکھیں گے، وزیراعظم کی سربراہی میں حکمتِ عملی بنائیں گے، سندھ کے لوگوں کو ہم ایک متبادل فراہم کریں گے، سندھ کے لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔

یہاں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ اپوزیشن متحدہوتو وفاق اور پنجاب حکومت بھی گر جائینگی،کشمیرمیں دھاندلی ہوئی،کشمیر میں دھاندلی کےثبوت بھارت کے پاس ہیں،فضل الرحمٰن حکومت کیخلاف نہیں لڑناچاہتے۔

انہیں زبردستی نہیں لڑاسکتا،عمران نے آزادکشمیر علما کی سیٹ پرطالبان کے سابق نمائندے کوٹکٹ دیدیا، نااہل،ناجائزحکومت سے نجات کی کوششیں کرنا ہوں گی، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ شفاف الیکشن کے لیے آوازاٹھائی، اسٹیبلشمنٹ کی الیکشن میں مداخلت کوروکنا ہوگا، الیکشن میں فیصلہ صرف پاکستان کے عوام کوکرنا چاہیے۔

پارلیمانی طریقہ کاراپنایا جائے، آزادکشمیرکے وزیرنے پیسے بانٹے اورالیکشن کمیشن کچھ نہ کرسکا، پیسے، تشدد کی بنیاد پرآزادکشمیرمیں حکومت بنانے کی کوشش کررہے ہیں، کراچی سے لیکرکشمیرتک سلیکٹڈ حکومت کوبھگاکرعوامی حکومت لائیں گے۔ 

وزیراعظم کی حرکتوں سے خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچے گا، عمران خان یہ کوئی کرکٹ میچ نہیں ہے، آزادکشمیرکے انتخابات کو دنیا نے دیکھا، آزادکشمیر الیکشن شفاف نہ کرانا پاکستان کی ناکامی ہے،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کشمیر میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔

بھارت کے پاس آزاد کشمیر میں ہونے والی دھاندلی کے ثبوت ہیں، مقبوضہ کشمیرمیں مودی اور ادھر خان کی حکومت ہمارے جیالوں کے خلاف جعلی مقدمات بنارہی ہے، چودھری یاسین پرحملہ ہوا اورالٹا مقدمہ ان کے خلاف درج کیا گیا،جوڈیشل انکوائری کروائی جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ دوسری جماعتوں بارے زیادہ بات نہیں کرونگا، اپوزیشن کے دوستوں کے پاس کوئی پالیسی اورنہ کلیئریٹی ہے، ہم پی ڈی ایم میں ساتھ تھے، آج بھی اپوزیشن کے لیے وہی پیغام ہے، ملکرکام کریں گے توپنجاب سے عثمان بزداراورپھروفاق کوختم کرسکتے ہیں، اگر اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف نہیں لڑنا چاہتے تو ان سے زبردستی نہیں کر سکتا۔ 

بلاول نے مسلم لیگ ن کا نام لیے بغیر اپنے پیغام میں کہا کہ میری تجاویزہو نگی کہ واضح موقف کیساتھ متحد ہوں اور اپنا موقف اپنا پیش کریں، سب کوتاریخ سے سیکھنا چاہیے۔

اہم خبریں سے مزید