• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فرلو اسکیم میں تبدیلی، آجروں کو 20 فیصد تنخواہ دینا ہوگی، بیروزگاری بڑھنے کا خدشہ

لندن (سعید نیازی) یکم اگست سے فرلو اسکیم میں تبدیلی کے بعد اب فرلو کیے جانے والے ورکرز کی تنخواہوں کا60فیصد حکومت اور20فیصد ایمپلائز کو ادا کرنا ہوگا، جس کے نتیجہ میں ایک سروے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک فرم اپنے ورکرز کو فارغ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ برٹش چیمبر آف کامرس نے کہا ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں متوقع فارغ کیے جانے والے ورکرز کو بیروزگاری سے بچانے کے لیے اضافی تربیت فراہم کرنا ہوگی۔ فرلو اسکیم کے آخری دو ماہ کا آغاز یکم اگست سے ہوا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی حکمت عملی درست ہے اور اب وہ معیشت کی بحالی کے لیے دوسری طرف اپنی توجہ مرکوز کرسکے گی۔ 30جون تک اعدادو شمار کے مطابق اب بھی1.9ملین افراد فرلو اسکیم سے مستفید ہورہے ہیں جبکہ جنوری میں یہ تعداد5.1ملین تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اپریل2020ء میں ورکرز کی جابس بچانے کے لیے شروع کی جانے والی جاب ری ٹیشن اسکیم سے11.6ملین افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسکیم کے آغاز سے حکومت ورکرز کی تنخواہوں کا80فیصد حصہ ادا کررہی تھی لیکن فرلو اسکیم کے اختتام کی طرف بڑھتے ہوئے ایمپلائرز سے بھی کہا گیا کہ وہ ورکرز کی تنخواہوں میں حصہ ڈالیں، جس کا آغاز یکم جولائی سے10فیصد ادائیگی سے شروع ہوا اور اب اگست اور ستمبر میں ایمپلائرز کو تنخواہ کا20فیصد ادا کرنا ہوگا۔ برٹش چیمبر آف کامرس کے250بزنس اداروں کے سروے کے نتائج کے مطابق18فیصد نے کہا کہ وہ فرلو اسکیم میں تبدیلی کے سبب ورکرز کو ریذیڈنٹ کریں گے۔ 25فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ورکرز کے کام کے اوقات میں کمی یا انہیں جزوتی کردیں گے۔ ان اقدامات کے سبب مارکیٹ میں ورکرز کی بھرمار ہونے کا خدشہ ہے۔ ریزرولوشن فائونڈیشن کی ماہر اقتصادیات یننا سلاٹر نے کہا ہے کہ فرلو کیے جانے والے زیادہ تر افراد کی عمر25برس سے کم تھی لیکن تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق60برس سے زائد عمر کے افراد کے فرلو کیے جانے کا امکان زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرلو اسکیم کے اختتام پر بیروزگاری بڑھنے کا خدشہ ہے اور جو افراد اسکیم کے اختتام تک فرلو پر ہوں گے ان کے بیروزگار ہونے کا خطرہ بھی زیادہ ہوگا۔

یورپ سے سے مزید