• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی

چیئرمین ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بینکنگ اینڈ فنانس

خالق کائنات نے پاکستان کو انتہائی فیاضی سے انسانی و مادی وسائل سے نوازا ہے۔ اگر گزشتہ چند دہائیوں میں ہی انسانی وسائل کو ترقی دی جاتی، مادی وسائل سے کماحقہ استفادہ کیا جاتا اور دانشمندانہ معاشی و مالیاتی پالیسیاں اپنائی جاتیں تو آج پاکستانی معیشت کا حجم تقریباً 1500؍ارب ڈالر نا کہ 277؍ارب ڈالر اور برآمدات کا حجم 300؍ارب ڈالر ہوتا نا کہ 26؍ارب ڈالر!

یہ امر افسوسناک ہے کہ وطن عزیز میں بیشتر اہم معاشی و مالیاتی پالیسیاں طاقتور طبقوں کے مفاد میں یا ان کے دبائو پر بنائی جاتی ہیں خوآہ اس کیلئے قانون سازی کرنا پڑے یا قانون کو توڑنا پڑے۔ ان نقصانات کو پورا کرنے کیلئے عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جاتا ہے، ترقیاتی اخراجات و انسانی وسائل کی ترقی کیلئے کم رقوم مختص کی جاتی ہیں اور ملکی و بیرونی قرضوں پر بے تحاشا انحصار کیا جاتا ہے۔ یہی نہیں طاقتور طبقوں بشمول ٹیکس چوری کرنے والوں، قومی دولت لوٹنے والوں، بینکوں سے اپنے قرضے غلط طریقوں سے معاف کرانے والوں، پاکستان سے لوٹ کر یا ناجائز طریقوں سے حاصل کی ہوئی رقوم سے ملک کے اندر اثاثے بنانے یا ملک سے باہر اثاثے منتقل کرنے والوں کے مفادات کا تحفظ حکومت اور ریاستی اداروں کی طرف سے کیا جاتا رہا ہے۔ آج بھی ایک روپیہ قومی خزانے میں جمع کروائے بغیر ناجائز دولت کو قانونی تحفظ دینا ممکن ہے۔ قانونی اور غیر قانونی میں پاکستان 23؍مرتبہ آئی ایم ایف کے قرضوں کے پروگرام کے اندر رہا ہے جبکہ لمبے عرصے سے ہر حکومت لوٹی ہوئی اور ناجائز دولت کو قانونی تحفظ دینے کیلئے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اجرا کو اپنا فرض منصبی سمجھتی رہی ہے۔

اقتدار میں آنے، اقتدار برقرار رکھنے اور اسے طول دینے کیلئے طاقتور اشرافیہ کے علاوہ امریکا کی آشیرباد پر بھی بڑی حد تک انحصار کیا جاتا ہے چنانچہ ملکی اشرافیہ، حکمرانوں، کچھ ریاستی اداروں اور بیرونی اشرافیہ (استعماری طاقتوں آئی ایم ایف، عالمی بینک اور ایف اےٹی ایف) میں گٹھ جوڑ نظر آتا رہا ہے۔ گزشتہ تقریباً دس برسوں میں پاکستان برآمدات بڑھانے کے بجائے بیرونی ممالک سے آنے والی ’’کارکنوں کی ترسیلات‘‘ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو صحت مند علامت نہیں ہے۔ 2017ء میں سپریم کورٹ کو بتلایا گیا تھا کہ ’’مالی سال 2017ء میں پاکستانیوں نے کھلی منڈی سے بیرونی کرنسی (جائز اور ناجائز طریقوں سے کمائی ہوئی پاکستانی روپے سے) خرید کر 15؍ارب ڈالر بینکوں کے ذریعے قانونی طریقے سے ملک سے باہر منتقل کردیئے۔‘‘ ہنڈی/حوالہ وغیرہ کے ذریعے باہر بھیجی ہوئی رقوم اس کے علاوہ ہیں۔

یہ بات نوٹ کرنا اہم ہے کہ اس مالی سال میں 19.4؍ارب ڈالر کی ترسیلات ’’کارکنوں کی ترسیلات‘‘ کے نام پر پاکستان آئیں۔ مندرجہ ذیل اعدادوشمار چشم کشا ہیں۔

(1)ہمارے تخمینے کے مطابق گزشتہ 27؍برسوں میں افراد نے اپنی جائز اور ناجائز رقوم سے کھلی منڈی سے بیرونی کرنسی خرید کر بینکوں میں بیرونی کرنسی کے کھاتوں کے ذریعے ملک سے قانونی طریقوں سے باہر منتقل کی گئی رقوم کا حجم165؍ارب ڈالر

(ii) 31؍مارچ 2021ء کو پاکستان بیرونی قرضوں اور ذمہ داریوں کا مجموعی حجم 117؍ارب ڈالر آج بھی کوئی بھی ’’فائلر‘‘ اس اسکیم سے فائدہ اٹھا کر اپنی رقوم بینکوں کے ذریعے ملک سے باہر بھیج سکتا ہے۔ کوئی بھی حکومت اس قانون میں ترمیم کرنے کیلئے آمادہ نہیں ہے کیونکہ اس سے اشرافیہ اور مافیا کے ناجائز مفادات پر ضرب پڑتی ہے۔

ہم برسہا برس سے روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں اپنے کالموں میں وقتاً فوقتاً کہتے رہے ہیں کہ تعلیم و علاج معالجے کے علاوہ اسٹیٹ بینک کی پیشگی اجازت کے بغیر بینکوں میں اس قسم کی جمع کرائی ہوئی رقوم کو ملک سے باہر منتقل کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اگر پچھلی تقریباً دو دہائیوں میں یہ پابندی لگا دی جاتی تو عملاً بیرونی قرضے صرف پیداواری مقاصد کیلئے حاصل کئے جاتے مثلاً بڑے بڑے ڈیمز کی تعمیر، قدرت کے عطا کردہ تیل و گیس اور دوسرے مادی وسائل سے استفادہ کرنے، درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے وغیرہ اس کے علاوہ پاکستان سے ناجائز طریقوں سے کما کر غیر قانونی طریقوں مثلاً ہنڈی/ حوالہ کے ذریعے ملک سے باہر منتقل کی ہوئی تقریباً 175؍ارب ڈالر کی رقوم اب بھی ملک سے باہر موجود ہے لیکن تمام تر دعوئوں کے باوجود کوئی بھی حکومت ان کو واپس لانے کا عزم نہیں رکھتی۔

جی ڈی پی فی کس آمدنی اور آبادی

منتخب ممالک کا تقابلی جائزہ برائے 2021ء

نوٹ… جی ڈی پی ارب ڈالر میں، فی کس آمدنی ڈالر میں، آبادی ملین میں، مندرجہ بالا اعدادوشمار غور کرنے کیلئے بہت سا مواد فراہم کرتے ہیں۔

(i)اب سے چند برس قبل پاکستان کی جی ڈی پی اور فی کس آمدنی بنگلہ دیش سے زائد تھی لیکن بنگلہ دیش اب پاکستان سے بہت آگے نکل گیا ہے۔

(ii)نائن الیون کے وقت پاکستان کی فی کس آمدنی بھارت سے زیادہ تھی مگر اب بھارت کی فی کس آمدنی پاکستان سے کہیں زیادہ ہوگئی ہے۔

(iii)پاکستان کی آبادی بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے۔

(iv)پاکستان اگرچہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے مگر عالمی رینکنگ میں پاکستان کا نمبر 47؍واں ہے اور فی کس آمدنی کے لحاظ سے پاکسان کا نمبر 162؍واں ہے۔

(v)بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور جی ڈی پی کے حجم کے لحاظ سے بھارت کا نمبر چھ ہے مگر فی کس آمدنی کے لحاظ سے بھارت کا نمبر 144؍واں ہے۔

مختلف شعبوں میں پاکستان کی درجہ بندی ،عالمی اداروں کی نظر میں 

وطن عزیز میں طویل عرصے سے مختلف حکومتیں معیشت کے شعبے میں کامیابی کے دعوے کرتی رہی ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ 1980ء سے 2018ء تک پاکستانی معیشت کی اوسط (سالانہ) شرح نمو تقریباً 4.75؍فیصد رہی جو بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے بھی کم ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں یہ شرح نمو صرف 1.9؍فیصد رہی۔ عالمی اداروں نے مختلف شعبوں میں جو درجہ بندی کی ہے، اس ضمن میں چند حقائق پیش ہیں۔

(1)بھوک کی صورتحال کے لحاظ سے دنیا کے 117؍ملکوں میں پاکستان کا نمبر94 ہے یعنی 93؍ملکوں میں صورتحال پاکستان سے بہتر ہے۔ اس درجہ بندی میں پاکستان کی صورتحال گزشتہ برسوں میں بہتر ہوئی ہے۔

(2)انسانی وسائل کی ترقی کی درجہ بندی میں 189؍ملکوں میں پاکستان کا نمبر154 ہے یعنی 153؍ممالک پاکستان سے بہتر ہیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش اس درجہ بندی میں پاکستان سے بہتر ہیں۔

(3)عالمی مسابقت رپورٹ میں 141؍ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر110ہے یعنی 109؍ملک پاکستان سے بہتر ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا اس درجہ بندی میں پاکستان سے آگے ہیں۔

(4)کاروبار میں آسانی کے لحاظ سے 190؍ملکوں کی درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر108 ہے۔ گزشتہ برسوں میں پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کا رجحان نظر آیا ہے۔

(5)عالمی پائیدار ترقیاتی مقاصد کی درجہ بندی میں 193؍ملکوں کی درجہ بندی میں 128؍ملکوں کی درجہ بندی میں پاکستان سے بہتر ہے۔ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا ہم سے آگے ہیں۔

(6)بدعنوان ممالک کی فہرست میں 180؍ممالک میں پاکستان کا نمبر124ہے یعنی اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شمار بدعنوان ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں اس درجہ بندی میں ابتری آئی ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بدعنوانی بھارت میں کم اور بنگلہ دیش میں زیادہ ہے۔

اگر پاکستان کو مختلف شعبوں میں بہتر درجہ بندی حاصل کرنا ہے تو معیشت کی تنظیم نو کرنا ہوگی خصوصاً ٹیکسوں اور توانائی کے شعبے میں، علم پر مبنی معیشت اپنانا ہوگی اور کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے (بشمول) احتساب کا موثر نظام اپنانا ہوگا۔ اس ضمن میں سب سے پہلے قومی احتساب بیورو (نیب) کا احتساب کرکے اس کی تنظیم نو کرنا ہوگی اور ملک میں احتساب کا یکساں نظام نافذ کرنا ہوگا۔

سست ترین شرح نمو مالی سال 1960ء سے مالی سال 2021ء تک 

علم پر مبنی معیشت

یہ امر مسلمہ ہے کہ اگر گزشتہ چند دہائیوں میں پاکستان نے تعلیم، صحت، تحقیق و ترقی، ٹیکنالوجی اور ووکیشنل ٹریننگ کی مد میں جی ڈی پی کے تناسب سے اتنی ہی رقوم دیاندارانہ طریقے سے استعمال کی ہوتیں جتنی ایشیا کے ان ملکوں نے کی ہیں جنہوں نے عملاً قدرتی مادی وسائل نہ ہونے کے باوجود حیرت انگیز تیز رفتاری سے معاشی ترقی کی ہے تو پاکستان کی جی ڈی پی، فی کس آمدنی اور برآمدات میں زبردست اضافہ اور درآمدات میں زبردست کمی ہوچکی ہوتی۔ یہی نہیں غربت، بیروزرگاری، مہنگائی، بجٹ خسارے اور قرضوں کے بوجھ میں کمی ہوچکی ہوتی اور پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے باہر نکل چکا ہوتا۔

تعلیم و صحت

یہ ملک و قوم کی بدقسمتی ہے کہ تعلیم و صحت مختلف حکومتوں کی ترجیح کبھی نہیں رہی۔ پاکستان میں تعلیم کا شعبہ زوال کا شکار ہے۔ وطن عزیز میں 23؍ملین سے زائد بچے اسکول جا ہی نہیں رہے۔ یہ امر یقیناً تکلیف دہ ہے کہ اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کے لحاظ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔ آئین پاکستان کی شق 25(الف) میں کہا گیا ہے کہ

’’ریاست 5؍سے 16؍برس کی عمر کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔‘‘

آئین کی اس شق کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کی جاتی رہی ہیں۔ 18؍ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم و صحت کے شعبے صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں مگر وفاق کی تقلید کرتے ہوئے چاروں صوبائی اسمبلیوں نے ایسے 12؍بجٹ منظور کئے ہیں جن میں تعلیم کی مد میں مختص کی ہوئی رقوم سے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم دینے کے ضمن میں پیشرفت ہو ہی نہیں سکتی تھی چنانچہ یہ 12؍بجٹ بھی آئین سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

مالی سال 2009-10ء کے اقتصادی سروے میں کہا گیا تھا کہ وفاق اور چاروں صوبوں سے طویل مشاورت کے بعد قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کی منظوری دی ہے جس کے مطابق 2015ء تک جی ڈی پی کے تناسب سے تعلیم کی مد میں 7؍فیصد رقوم مختص کی جائیں گی۔ اس کے 3؍برس بعد مسلم لیگ (ن) کے دور میں 2012-13 ء کے اقتصادی سروے میں قومی تعلیمی پالیسی 2009ء کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ حکومت 2015ء تک تعلیم کی مد میں جی ڈی پی کے تناسب سے 7؍فیصد مختص کرنے کی پابند ہے اور یہ کہ 18؍ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم کا شعبہ صوبوں کو منتقل ہوگیا ہے اور اب صوبوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر عمل کریں گے۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ کسی بھی صوبے نے اس فیصلے پر عمل نہیں کیا۔

پاکستان تحریک انصاف کے 2013ء کے انتخابی منشور میں کہا گیا تھا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے 2018ء تک تعلیم کی مد میں جی ڈی پی کا 5؍فیصد اور صحت کی مد میں 2.6؍فیصد مختص کیا جائے گا لیکن مالی سال 2021ء تک اس کا نصف بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف نے بھی خیبر پختونخوا میں اپنے اقتدار کے 9؍برسوں اور صوبہ پنجاب میں اقتدار کے 4؍برسوں میں تعلیم و صحت کی مد میں جی ڈی پی کے تناسب سے تقریباً اتنی ہی رقوم مختص کی ہیں جتنی مسلم لیگ (ن) نے اپنے دوراقتدار میں پنجاب میں اور پیپلزپارٹی نے سندھ میں خرچ کی تھیں۔

تحریک انصاف نے 2018ء کے انتخابات سے چند ہفتے قبل کہا تھا کہ ’’اقتدار میں آنے کے 100؍روز کے اندر عدل پر مبنی ٹیکسوں کی پالیسی نافذ کردی جائے گی۔‘‘ اس سے قبل کے انتتخابی منشور میں کہا گیا تھا کہ صوبے زرعی شعبے اور جائداد سیکٹر پر موثر طور سے ٹیکس عائد کریں گے اور غیر منقولہ جائدادوں کے ڈی سی ریٹ کو مارکیٹ کے نرخوں کے برابر کردیا جائے گا۔ ان نکات پر عملدرآمد سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات پر ضرب پڑتی ہے اس لئے ان وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا چنانچہ وعدے کے مطابق تعلیم و صحت کی مد میں رقوم مختص کی ہی نہیں گئیں اور نہ ایسا کرنے کا کوئی عزم نظر آتا ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری سے وعدہ کیا ہے کہ 2030ء تک ملک کا ہر بچہ اسکول جارہا ہوگا۔ یہ بات بہرحال واضح ہے کہ اگر موجودہ پالیسیاں جاری رہیں تو 2075ء تک بھی خدانخواستہ پاکستان کا ہر بچہ اسکول نہیں جارہا ہوگا۔ پیشہ ورانہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی عمومی طور پر تعلیم کا معیار گر رہا ہے اور تحقیق و ترقی کی پرجوش سرگرمیوں کے بجائے سیاست ہوتی رہتی ہے۔ ماضی میں وائس چانسلرز اور سینیٹ و سنڈیکیٹ میں تقرریاں و نامزدگیاں میرٹ کے بجائے سیاسی بنیادوں پر بھی ہوتی رہی ہیں۔ متعدد اعلیٰ تعلیمی درسگاہوں میں کرپشن ہونے اور نظم و ضبط کے فقدان کی رپورٹیں سامنے آرہی ہیں جبکہ شفاف اور موثر احتساب کا تصور عملی طور پر نظ آہی نہیں رہا۔

اب سے چند برس قبل پاکستان میں جاپان کے قونصل جنرل نے کہا تھا کہ جاپان کی تیزرفتار ترقی کا راز یہ ہے کہ جاپان کا تعلیمی نظام دنیا کے بہترین تعلیمی نظام میں شمار ہوتا ہے۔ جاپان میں تعلیم جاپانی زبان میں دی جاتی ہے اور جاپانی تعلیم یافتہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ جاپانیوں نے جن خصوصیات کو اپنایا ہوا ہے، ان میں خلوص، ایمانداری اور یکسوئی سے فرائض کی انجام دہی اور نظم و ضبط اور وقت کی پابندی شامل ہیں کیونکہ ان خصوصیات کی اہمیت اتنی ہی ہے جتنی تیکنیکی مہارت حاصل کرنے کی۔ کاش ہم بھی یہی خوبیاں اپنائیں۔

لوٹی ہوئی دولت کی قومی خزانے میں واپسی

پاکستان میں کرپشن، ٹیکس کی چوری، ٹیکسوں میں بے جا چھوٹ و مراعات، ٹیکسوں کی استعداد سے کم وصولی، حکومت و حکومتی اداروں کے شاہانہ اخراجات، کچھ حکومتی اداروں کی مایوس کن کارکردگی، جائز اور ناجائز طریقوں سے سرمائے کی ملک سے باہر منتقلی، ٹیکس ایمنسٹی قسم کی اسکیموں کے وقتاً فوقتاً اجراء اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق (4)(1) کے برقرار رہنے سے قومی خزانے کو 9000؍ہزار روپے سالانہ یا 25؍ارب روپے روزانہ کا نقصان ہورہا ہے۔ انٹیلیکچوئل کرپشن (ذہنی بدعنوانی) سے ہونے والے نقصانات کا حجم اس سے کہیں زیادہ ہے۔

پاکستان سے کمائی ہوئی ناجائز دولت کا ایک حصہ مختلف اثاثوں کی شکل میں ملک کے اندر ہی موجود رہتا ہے جبکہ دوسرا حصہ جائز اور ناجائز طریقوں سے ملک سے باہر منتقل ہوجاتا ہے۔

ملک کے اندر موجود ناجائز اثاثے، ملکی پاناماز

گزشتہ 23؍برسوں سے ہم وقتاً فوقتاً سمجھتے رہے ہیں کہ یہ بات کوئی راز نہیں کہ ملک کے اندر اربوں روپے کے ایسے اثاثے موجود ہیں جو قومی دولت لوٹ کر (بشمول ٹیکس کی چوری اور دوسرے ناجائز ذرائع سے کما کر) بنائے گئے تھے لیکن ان کو قومی خزانے کیں واپس لانے کیلئے کوئی بھی حکومت موثر قدم نہیں اٹھا رہی حالانکہ ملک کے اندر موجود ہونے کی وجہ سے یہ اثاثے حکومت کی دسترس میں ہیں۔ 

گزشتہ کئی دہائیوں سے مختلف حکومتیں ان ناجائز اثاثوں (ملکی پاناماز) کو معمولی شرح ٹیکس پر قانونی تحفظ فراہم کرنے کیلئے ٹیکس ایمنسٹی قسم کی اسکیموں کا اجراء کرتی رہی ہیں حالانکہ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ ملک میں کالا دھن اس کے بعد بھی پیدا ہوتا رہے گا۔ صاف ظاہر ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی قسم کی اسکیموں کا اجراء معیشت کی بہتری کیلئے نہیں بلکہ ناجائز دولت رکھنے والوں کے مفاد میں کیا جاتا رہا ہے۔

تحریک انصاف کے چیئر مین کی حیثیت سے مسلم لیگ (ن) کی 2018ء کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو مسترد کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ یہ اسکیم مجرموں کو بچانے کا ایک شرمناک عمل ہے اور ایمانداری سے ٹیکس دینے والوں کے منہ پر تماچہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ جو لوگ اس اسکیم سے فائدہ اٹھائیں گے وہ ان کے معاملات کو اقتدار میں آنے کے بعد ازسرنو دیکھیں گے۔ وزیراعظم کے عہدہ کا حلف اٹھانے کے بعدبہرحال ان کی حکومت نے احکامات جاری کیے کہ ان معاملات کونہ چھڑا جائے۔ 

اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے متعدد ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں کا اجراء بھی کیا۔2019ء میں پاکستان کی تاریخ کی سب سے کم شرح ٹیکس پر ایک ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اجراء کیاگیا۔ اس اسکیم کے ضمن میں ایف بی آر کی جانب سے جو اشتہارات قومی اخبارات میں شائع کرائے گئے تھے ان میں تنبیہ کی گئی تھی کہ جو لوگ اس اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے ان کےملک کے اندر موجود ناجائز اثاثے ضبط کرلیے جائیں گے اور ان کو سات سال کے لیے جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی پُرعزم انداز میں کہا تھا ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی میعاد گزرنے کے بعد ناجائز اثاثے رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا اور یہ کہ ملک کے اندر موجود ان ناجائز اثاثوں کی تفصیلات حکومت کے پاس موجود ہیں۔

ہم یہ بات تواتر سے کہتے رہے ہیں کہ کسی کو بھی جیل نہ بھیجا جائے اور ملک کے اندر موجود ان ناجائز اثاثوں پر ملکی قوانین کے تحت ٹیکس وصول کیا جائے۔ ہماری تحقیق کے مطابق اگر ملک کے اندر موجود ان اثاثوں پر ملکی قوانین کے تحت ٹیکس وصول کیا جائے تو ایک سال کے اندر 900 ارب روپے کے اضافی ٹیکس کی وصولی ممکن ہے۔ان رقوم کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ ملک و قوم کی بدقسمتی ہے کہ ناجائز اثاثے رکھنے والے طاقتور طبقوں کے دباؤ کی وجہ سے حکومت اس ضمن میں اقدامات اٹھانے سےگریزاں ہے۔دریں اثناء حکومت نے 2020ء میں تعمیراتی شعبے کے لئے ایک اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے اجراء کردیا ۔ اس اسکیم کی وجہ سے اب تک تعمیراتی شعبے میں 1000 ارب روپےکی سرمایہ کاری ہوچکی ہے لیکن حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یہ اسکیم آج بھی جاری ہےاور حکومت پر دباؤ ہے کہ اس اسکیم کی مدت میں توسیع کردی جائے۔

لوٹی ہوئی دولت اور بیرونی ملکوں میں ناجائز اثاثے

اب سے تقریبا 23 برس قبل اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر نے کہا تھا کہ امریکیوں کے خیال میں پاکستان سے 100 ارب ڈالر کی رقوم لوٹ کر بیرونی ملکوں میں منتقل ہوچکی ہے اور یہ رقوم پاکستان واپس لائی جاسکے تو پاکستان کے اقتصادی و تجارتی مسائل ہمیشہ کے لیے حل ہوجائیں گے۔

تحریک انصاف کے چیئرمیں عمران خان نے بیرونی ملکوں میں پاکستانیوں کی ناجائز دولت کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی مسلم لیگ (ن) کی 2018ء کی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کو مسترد کرتے ہوئے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ ٘”لوٹی ہوئی دولت باہر سے واپس لا کر تعلیم اور صحت پر خرچ کی جائے گی“۔ 2018ء کے انتخابات سے صرف تین روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ میرے پاکستانیوں! کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ باہر لے جایا جاتا ہے۔ ہم نے یہ پیسہ واپس لانا ہے۔

دراصل پاکستان سے لوٹ کر بیرونی ممالک کو منتقل کی گئی دولت کو پاکستان واپس لاناتحریک انصاف کا سب سے بڑا انتخابی نعرہ تھا ۔یہ امر بہرحال افسوس ناک ہے کہ عمران خان صاحب نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد پاکستان سے لوٹ کر بیرونی ملکوں میں منتقل کی گئی رقوم کو ملک سے باہر ہی رہنے دینے اور ان رقوم کو پاکستان واپس نہ لانے کے باوجود قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایسی دو ٹیکس ایمنسٹی اسکیموں کا اجراء کیا جن کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔

2019ء میں حکومت نےحکمرانوں، ممبران پارلیمنٹ ، سیاستدانوں ،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے وزراء، سول و ملٹری بیوروکریسی اور عدلیہ کے اراکین سمیت ہر شخص کو ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے موقعہ دیا کہ جو ناجائز دولت پاکستان سے آف شور میں منتقل کی گئی ہیں، ان رقوم کو پاکستان لانے کے بجائے ایف بی آر سے معاملات طے کرلیے جائیںاور ملک سے باہر رکھی ہوئی ان رقوم کو قانونی تحفظ دے دیا گیا۔ اس طرح لوٹی ہوئی دولت پاکستان لانے کے دعوے کی نفی کردی گئی۔

حکومت نے 2019ء میں ہی ایک اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اجراء کیا جس کے تحت ملک سے لوٹ کر بیرونی ملکوں میں سرمایہ منتقل کرنے والوں کو چند فیصد ٹیکس بیرونی کرنسی میں ادا کرنے پر ناجائز دولت باہر رکھنے کی اجازت دے دی گئی ۔

اب سے 22 برس قبل 1999ء میں ہم نے سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بینچ کے سامنے ملکی و بیرونی قرضوں پر انحصار کم کرنے کے لیے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بیرونی ملکوں میں رکھی ہوئی ناجائز دولت کا صرف 25 فیصد ہی پاکستان واپس لایا جاسکے تو پاکستان اپنے تمام بیرونی قرضے ادا کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی اس بینچ کے سربراہ نے اپنے 23 دسمبر 1999ء کے فیصلے میں صفحہ 606 سے 610 تک ہماری گزارشات اور تجاویز کو شامل کیا تھا لیکن حکومت نے طاقتور طبقوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ان تجاویز کو نظر انداز کردیا ۔

مسلم لیگ (ن) نے اپنے اقتدار کےآخری ایام میں 8 اپریل 2018ء کوایک ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا اجراء کیا تھا جس کے تحت پاکستان سے لوٹ کر بیرونی ملکوں کو منتقل کی گئی رقوم کو معمولی ٹیکس کی ادائیگی پر ملک سے باہر ہی رکھنے کے باوجود قانونی تحفظ فراہم کیاگیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثارنے اس اسکیم کے ضمن میں پاکستان سے منتقل کی گئی ناجائز رقوم ملک میں واپس لانے کے لیے از خود نوٹس آئین پاکستان کی شق(3)184 کے تحت لیا تھا۔ 

اس شق کا تعلق مفادعامہ اور بنیادی حقوق سے ہےچنانچہ یہ ازحد ضروری تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے تحت ظاہر کی ہوئی رقوم کو لازماً پاکستان واپس لایا جائے۔ سپریم کورٹ نے بہرحال 12 جون 2018ء کو قرار دیا کہ سپریم کورٹ کو اس اسکیم پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ ہم یہ بات کہتے رہے ہیں کہ آئین کی شق (3)184 کے تحت لوٹی ہوئی اور ناجائز رقوم کو باہر ہی رہنے دینے کی اجازت دینے سے بنیادی حقوق کا تحفظ ہونے کے بجائے الٹا ان حقوق کی پامالی ہی ہوئی کیونکہ اگر یہ رقوم واپس پاکستان آجاتیں تو تعلیم ، علاج معالجے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جاسکتا تھا۔

سفارشات

عالمی بینک کمیشن کی 2008ء کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اگر پاکستانی معیشت 8.3فیصد کی رفتار سے ترقی کرے تب بھی وہ 2050ء تک معاشی تعاون و ترقی کی تنظیم کےا راکین کی فی کس آمدنی کی سطح پر نہیں پہنچ پائے گی۔ گزشتہ 13 برسوں میں پاکستانی معیشت کی شرح نمو اس کی تقریباً نصف ہی رہی ہے چنانچہ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان 2075 ء تک بھی ان ملکوں کی فی کس آمدنی کے سطح پر نہیں پہنچ پائے گا ۔یہ امر بھی افسوس ناک ہے کہ 2075 ء تک بھی ہر بچہ اسکول نہیں جارہا ہوگا اور ہر پاکستانی کو علاج معالجے کی مناسب سہولیات میسر نہیں ہوں گی ۔

یہی نہیں، ملک میں سودی معیشت پورے آب وتاب سے پروان چڑھ رہی ہے جبکہ اسلامی نظامِ بینکاری کو سودی نظام کے نقش پا پر چلایا جارہا ہےچنانچہ اس نظام کے فیوض و برکات حاصل نہیں ہورہے۔ اب خدشہ یہ بھی ہے کہ آنے والی دہائیوں میں ملک کو خود انحصاری کی طرف گامزن کرنے، سی پیک کو گیم چینجر بنانے اور پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کا خواب پورا نہ ہوسکے گا الاّ یہ کہ نئی معاشی اور مالیاتی پالیسیاں وضع کی جائیں جن میں مندرجہ ذیل سفارشات کو بھی شامل کیا جائے:

(1)وفاق اور صوبے ایک مقررہ آمدنی سے زائد ہر قسم کی آمدنی پر بلا کسی استثنیٰ مؤثر طورسے ٹیکس لازماًنافذ اور وصول کریں اور ساتھ ہی معیشت کو دستاویزی بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں۔ یہ تجویز تحریک انصاف کے منشور کے مطابق ہے۔

(2)بیرونی ممالک سےبھیجی جانے والی کارکنوں کی ترسیلات ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی حوصلہ افزائی ہوناچاہیے ”کارکنوں کی ترسیلات “کے نام پر انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق (4)111 سے مستفید ہو کر ہنڈی /حوالہ اور دوسرے ناجائز ذرائع سے کمائی ہوئی رقوم کو قانونی تحفظ فراہم کرنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے چنانچہ انکم ٹیکس آرڈننس کی شق (4)111 کو فوری طور سے منسوخ کیا جائے۔

(3)نیب لوٹی ہوئی دولت کی وصولی اور اپنی جانب سے قومی خزانے میں جمع کرائی جانے والی رقوم کے غلط اعداد وشمار اب بھی پیش کررہا ہے۔ اس ضمن میں اور سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کے ریمارکس کی روشنی میں نیب کا احتساب کیا جائے اور اس ادارے کی تنظیم نو کی جائے۔

(4) مائیکرو فنانس اسکیم کے تحت دیئے جانے والے قرضوںکی فراہمی کیلئے ’’ایکویٹی‘‘ کی مد میں درکار رقوم احساس پروگرام سے فراہم کی جائیں۔ہماری اس اسکیم کے تحت پلمبر،الیکٹریشن،کارپینٹر، چھوٹے کسانوںاور گھریلو خواتین وغیرہ کو بڑے پیمانے پر بینکوں کی جانب سے کم شرح سود پر قرضے فراہم کیے جائیں۔اس اسکیم پر عمل درآمدکیے بغیرملک میں بے روزگاری میں پائیدار کمی ہونا ممکن نہیں ہے۔

(5)سودی بینکوں اور ”اسلامی بینکوں“ کا متوازی نظام غیر اسلامی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے شریعہ بورڈ کو خاموشی کے بجائے اس نظام کے ضمن میںقوم کے سامنے واضح موقف پیش کرنا ہوگا۔ یہ بھی ازحد ضروری ہےکہ اسلامی بینکاری کو شرعی اصولوں پر ہی استوار کیا جائےنہ کے سودی نظامِ بینکاری کے نقش پا پر۔ پارلیمنٹ کو اس ضمن میں قانون سازی کرنا ہوگی۔