افغان حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کابل کے مضافات میں داخل ہو گئے ہیں، طالبان کابل میں تمام اطراف سے داخل ہونے لگے، افغان وزارتِ داخلہ نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے۔
دوسری طرف نیٹو عہدے دار کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اسٹاف کے کئی ارکان کابل میں نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔
امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ امریکی سفارت خانے کا 50 افراد سے کم عملہ کابل میں موجود ہے۔
ادھر طالبان نے کہا ہے کہ ہم تنہا، معصوم افغان شہریوں کو زخمی یا قتل نہیں کرنا چاہتے، ہم نے کسی سیز فائر کا اعلان نہیں کیا۔
طالبان کے مطابق کابل ایک بڑا اور گنجان آباد شہر ہے، امارتِ اسلامیہ کے مجاہدین طاقت یا جنگ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ کسی کی جان، مال اور عزت پر سمجھوتہ کیئے بغیر کابل میں پُرامن طریقے سے داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی تمام افواج کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ کابل کے دروازوں پر کھڑی رہیں، شہر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں، ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ امارتِ اسلامیہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق افغان وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہو رہے ہیں۔
افغانستان میں کابل وہ واحد اہم شہر ہے جو اس وقت افغان طالبان کے قبضے میں نہیں ہے۔
افغانستان کے دارالحکومت سے سفارتی اور بین الاقوامی عملے کی واپسی کے لیے کوششوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اتوار کی صبح کئی ہیلی کاپٹروں کو امریکی سفارت خانے آتے دیکھا گیا ہے جبکہ یہاں بکتر بند گاڑیوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فوجی اہلکاروں نے اے پی کو بتایا کہ سفارتی عملے کی جانب سے حساس دستاویزات کو جلا دیا گیا ہے اور سفارت خانے سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
دوسری جانب دوحہ میں طالبان رہنماؤں نے کہا ہے کہ مسلح جنگجوؤں کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کابل میں پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں، شہر سے باہر نکلنے والوں کو راستہ دیں اور خواتین و بچوں کو حفاظتی مقامات تک پہنچائیں۔
نیٹو اہلکار نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ کابل میں یورپی یونین کے ارکان کو نامعلوم حفاظتی مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق کابل میں کچھ دکانیں بند کر دی گئی ہیں اور حکومتی دفاتر خالی کرا لیئے گئے ہیں جبکہ سرکاری سطح پر اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔