• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری

روایت کے مطابق سرورِ کونین، پیغمبر اعظم حضرت محمد مصطفیٰﷺ ایک دن امّ المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓکے گھر تشریف فرما تھے کہ آپﷺ کی خدمت میں ایک فرشتہ نازل ہوا جو پہلے کبھی حاضر خدمت نہ ہوا تھا، نبی کریم ﷺ نے امّ المؤمنین حضرت ام سلمہؓ سے ارشاد فرمایا، دروازے کا خیال رکھنا اور کسی کو اندر داخل ہونے نہ دینا ،دریں اثناءنواسۂ رسولؐ، جگر گوشۂ بتول حضرت سیدنا امام حسین ؓ نہ صرف یہ کہ گھر میں تشریف لے آئے، بلکہ حجرہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمتِ اقدس میں پہنچ گئے۔

نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنی گود میں بٹھا لیا اور پیار کیا، فرشتے نے خدمت ِ نبوی میں عرض کیا کہ حضورﷺ ،آپ اِن شہزادے سے محبت فرماتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا ،ہاں، فرشتے نے عرض کیا، اے اللہ کے رسولﷺ ! وہ وقت بھی آنے والا ہے کہ جب آپﷺ کی امت انہیں بے یارومددگار شہید کردے گی اور اگر آپ ﷺ چاہیں تو میں وہ جگہ آپﷺ کو دکھا سکتا ہوں، جہاں یہ شہید کیے جائیں گے۔ 

پھر اس فرشتے نے سرخ رنگ کی ریت آپﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ تاج دارِ کائنات ﷺ نے اس ریت کو سونگھا اور فرمایا’’ رِیح کربِِ وَ بَلاء‘‘ یعنی اس سے تکلیف اور شدتِ کرب کی بو آتی ہے، پھر نبی کریمﷺ نے ام المؤمنین امِ سلمہ ؓکو وہ ریت عطا فرما دی، اور فرمایا ،جب یہ ریت خون میں تبدیل ہوجائے تو تم سمجھ لینا کہ میرا حسینؓ شہید ہوچکا ہے۔ انہوں نے وہ ریت ایک بوتل کے اندر محفوظ کرکے رکھ دی۔حضرت ام سلمہ ؓفرماتی ہیں کہ شہادت امام حسینؓ کے دن یہ مٹی خون میں تبدیل ہوگئی۔

اِسی طرح کا ایک واقعہ کتب سیرت و حدیث میں درج ہے۔ سیدنا علی ؓ،صفین کے لیے ارضِ کرب وبلا سے گزرے آپ نے لوگوں سے اس جگہ کا نام پوچھا، بتایا گیا کہ اس جگہ کو کربلا کہا جاتا ہے۔ یہ سن کر سیدنا علی المرتضیٰؓ اس قدر روئے کہ داڑھی مبارک آنسوئوں سے تر ہوگئی، رفقاء نے پوچھا کہ اے امیر المومنینؓ ،کیا معاملہ ہے ؟اِس قدر شدتِ غم، اِس پر حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا، ایک مرتبہ میں خدمتِ نبویؐ میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺگریہ کناں ہیں ،میں نے آپ سے رونے کا سبب معلوم کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا،اے علی، جبرائیل ؑابھی ابھی ہوکر گئے ہیں اور یہ کہہ رہے تھے کہ میرا بیٹا حسینؓ فرات کے کنارے کربلا میں قتل کیا جائے گا، پھر جبرائیلؑ نے مجھے وہاں کی مٹی سنگھائی، مجھ سے برداشت نہ ہو سکا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔

اِسی طرح خصائص کبریٰ میں درج ہے کہ سید نا علیؓ اس مقام سے گزرے جہاں ایک روایت کے مطابق شہید کربلا سیدنا امام حسینؓ کی قبر اطہر ہے تو فرمایا یہ وہ مقام ہے جہاں ان کی سواریاں بٹھائی جائیں گی، یہاں ان کے کجاوے رکھے جائیں گے اور یہاں ان کی شہادت ہو گی ۔آلِ محمدﷺ کے کچھ نوجوان اس میدان میں اس جگہ شہید ہوں گے۔جن پر آسمان و زمین روئیں گے۔

زوجۂ رسول ؐ،حضرت ام سلمہ ؓبیان فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ رو رہے ہیں اور آپ کے نوری وعنبری گیسو اور داڑھی مبارک خاک آلودہ ہے، پھر فرمایا کہ اے ام سلمہ،ابھی ابھی حسین ؓکو شہید کردیا گیا ہے، اسی طرح حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن دوپہر کے وقت رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپ کے بال مبارک بکھرے ہوئے ہیں۔ مٹی سے اَٹے ہوئے ہیں اور آپ ﷺ کے دست مبارک میں ایک بوتل ہے، جس میں خون بھرا ہوا ہے، میں نے عرض کیا ، یہ کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ یہ حسینؓ اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے، جسے آج میں صبح سے جمع کررہا ہوں، لوگوں نے اِس دن کو خاص طور پر یاد رکھا، پھر کربلا سے لٹے پٹے قافلے واپس آئے تومعلوم ہوا کہ یہ وہی دن تھا کہ جس دن سیدنا امام حسین ؓمیدانِ کربلا میں شہید ہوئے ۔

مشہور مورخ و سیرت نگار امام زہریؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے عبدالملک نے پوچھا، اگر تم مجھے اس دن کی کوئی علامت بتا دو جس دن حضرت حسینؓ شہید کئے گئے تو تم میری نظر میں ممتاز ہوجائو گے۔ زہریؒ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا اس دن بیت المقدس میں یہ حال ہوگیا تھا کہ جس پتھر کو بھی اٹھایا جاتا ، اس کے نیچے سے تازہ خون نکلتا تھا۔ ام حکیم بیان کرتی ہیں کہ جب حسین ؓکو شہید کیا گیا ،میں اس وقت بچی تھی میں نے دیکھا کہ آسمان گوشت کے ٹکڑے کی طرح سرخ رہا۔ ابوقبیل بیان کرتے ہیں کہ جب حسینؓ بن علیؓ کو شہید کردیا گیا تو سورج میں گہن لگ گیا یہاں تک کہ دوپہر ہی کو ستارے نظر آنے لگے۔ ہمیں یہ خیال ہوا کہ شاید رات ہوگئی ہے ۔

امام حسینؓ کی شہادت کا واقعہ تاریخ اسلام میں خون آلودہ حروف سے لکھا گیا۔ سوز کے ساتھ لکھا اور اشک بار آنکھوں سے پڑھا گیا ۔شہید کربلا سیدنا امام حسین ؓ خانوادئہ اہلِ بیتؓ کے ایک اہم فرد ہیں، رسول اللہﷺ کی اپنے اہل بیت اور قرابت داروں سے محبت قرآن مجید فرقان حمید اور فرامین رسول ﷺ سے ثابت ہے، رسول اللہ ﷺ اپنے اہل ِبیت ؓسے محبت کاحکم دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نےاپنے کلام میں اسی کی تاکید فرماتے ہوئے، امت پر لازم کیا ہے کہ وہ بھی محبت واطاعتِ اہل بیتؓ کو اپنا شعار بنائیں فرمان نبوی ؐہے’’اللہ کی محبت کی بناء پر مجھ سے محبت کرو، اور میری محبت کی بناء پر میرے گھرانے کے افراد سے محبت کرو‘‘۔

بلاشبہ ، نواسۂ رسول، شہیدِ کربلا حضرت امام حسین ؓ کی ذاتِ گرامی خاندان رسالت اور اسلامی تاریخ کا گراں قدر اور تاریخ ساز باب ہے۔ آپ نے کربلا میں اپنی جان نثار کرکے اسلام کی عزت و عظمت کو سربلند فرمایا۔

عبادت اور سخاوت کے پیکر…!

امام حسینؓ کی ذاتِ گرامی فضائلِ اخلاق کا مجموعہ تھی، آپ بہت بڑے عبادت گزار، روزہ دار، بکثرت حج کرنے و الے تھے، پاپیادہ متعدد مرتبہ حج بیت اللہ کی سعادت پائی، ایک مرتبہ ایک فقیر مدینے کی گلیوں میں پھرتا پھراتا آپ کے درِدولت پرآپہنچا۔ اس گھڑی آپ محوِ نماز تھے، سائل کی پکار سنتے ہی نماز ختم کرکے باہر آئے، اسی وقت خادم سے پوچھا، ہمارے اخراجات میں سے کچھ باقی رہ گیا ہے؟ 

خادم نے عرض کیا، آپ نے دوسو درہم اہلِ بیتؓ میں تقسیم کے لیے دیے تھے ،وہ ابھی تقسیم نہیں کیے گئے ہیں۔ فرمایا، وہ سب درہم لے آئو، اہل بیت ؓسے زیادہ ایک حق دار آگیا ہے، چناںچہ دو سو درہم کی تھیلی اس کے حوالے کردی، ساتھ ہی معذرت کی کہ اس وقت ہمارے ہاتھ خالی ہیں، اس لیے اس سے زیادہ خدمت سے قاصر ہیں۔ (تاریخ ابن عساکر)

اسپیشل ایڈیشن سے مزید