وفاق اور صوبے بلدیاتی انتخابات کی حمتی تاریخ بتائیں ، مقامی حکومتوں کا نظام لاگو ہونے تک حالات بہتر نہیں ہوں گے، چیف جسٹس سپریم کورٹ۔
حتمی تاریخ تو حکمران صرف لندن اور امریکہ یاترا کی بتا سکتے ہیں، باقی معاملات میں وہ صرف حتمی تاخیر ہی بتا سکتے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات حکومت کو عام آدمی کی دہلیز پر لے آتے ہیں اور وہ گھن چکر باقی نہیں رہتا جو ایم پی ایز اور ایم این ایز عوام الناس کے پیروں میں ڈال کر فارغ التحصیل ہو جاتے ہیں، اور اُن پربھی اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے
ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبال اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں
چیف جسٹس کو اللہ خوش رکھے کہ قدم قدم حکومت کو بتاتے جاتے ہیں کہ ”زیں راہ کہ تو میروی اے اعرابی بترکستان است“ (اے بدو! جس راہ پر تو چل نکلا ہے یہ ترکستان کو جاتا ہے)
مسلم لیگ ن کی حکومت اچھی بچی ہے کہنا مان لیتی ہے، امید ہے کہ وہ بلدیاتی انتخابات کی حتمی تاریخ ضرور دے گی کیونکہ وہ حسبِ سابق عدالتِ عظمیٰ کا بہت احترام کرتی ہے، مقامی حکومتوں کے نظام سے ہمیشہ بڑے بڑے کام ہوئے ہیں جب کہ حکومت بڑے بڑے کام نہ کر سکی، وفاق نے پوری رضا مندی ظاہر کرنے کے ساتھ یہ بھی فرما دیا ہے کہ حالات الیکشن کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔کیا حالات، لوڈ شیڈنگ، بدامنی، مہنگائی اور اس طرح کی دیگر ”اچھائیوں“ کی اجازت دیتے ہیں۔ چلو فکر کسی بات کی بلدیاتی الیکشن کرا دیں کوئی بات نہیں جہاں ستیاناس وہاں سوا ستیاناس، آخر حکومت کیوں ایک بہتر کام سے خود بھی خوف زدہ ہے اور دوسروں کو بھی ڈراتی ہے، بلدیاتی انتخابات سے جمہوریت کے پھلوں سے لدے بلند قامت درخت کی شاخیں نیچے آ جاتی ہیں اور نارسائی کے مارے عوام بھی پھل حاصل کر لیتے ہیں، پھر یہ کہ مقامی حکومتوں کے قیام سے مجموعی طور پر ملک میں جمہوری کلچر پیدا ہوتا ہے، اور لوگ اب صحیح ترین صالح امیدواروں کو ووٹ دیں گے کیونکہ جنرل الیکشن نے اُن کو بہت کچھ سکھا دیا ہے، کیونکہ حکومت قائم ہے حکمرانوں کی آنیاں جانیاں زوروں پر ہیں، مگر تاحال کچھ ہوتا نظر نہیں آتا ویسے کہنے کو وعدے ہیں، ارادے ہیں، منصوبے ہیں، حکمران کاموں میں ڈوبے ہیں مگر بقول شاعرِ مشرق
نہ بادہ ہے نہ صراحی نہ دور پیمانہ
فقط نگاہ سے رنگیں ہے بزمِ جانانہ
ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے چلڈرن ہسپتال میں 8 بچے جاں بحق، ورثاء کا احتجاج والدین نے کہا ہنستا کھیلتا بچہ لائے میت لے جا رہے ہیں، ڈاکٹر کہتے ہیں اکثر بچوں کو آخری سٹیج پر ہسپتال لایا جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس جانکا خبر کی ساری جزئیات سچ ہیں، یہ بھی ٹھیک ہے کہ ڈاکٹر غفلت کر جاتے ہیں، یہ بھی درست ہے کہ والدین ہنستا کھیلتا بچہ ہسپتال لاتے ہیں اس کی میت لے کر جاتے ہیں، اور ڈاکٹرز بھی غلط نہیں کہتے کہ اکثر بچے آخری سٹیج پر ہسپتال لائے جاتے ہیں، اگر یہ سب کچھ سچ ہے پھر جھوٹ کیا ہے، جھوٹ یہ ہے کہ اجتماعی بیداری ہے ڈاکٹروں میں کامل انسانی احساس ہے، والدین بچہ بیمار ہوتے ہی فوری ہسپتال لاتے ہیں، اور پُر امن احتجاج کرتے ہیں۔ جب والدین نے سڑکوں پر نکل کر میٹرو بس روک دی، کیا اس طرح سڑک پر بچوں کی رکھی گئی میتیں زندہ ہو جائیں گی؟ بلکہ عوام کے پیسوں سے جو جدید ترین آرام دہ میٹرو بس سروس چلائی گئی وہ بھی ہاتھ سے جاتی رہے گی، گویا بچے بھی گئے، اپنی ہی قومی دولت بھی گئی، پھر علاج اس کا بھی اے چارگراں ہے کہ نہیں؟ ہاں ہے، یہی کہ ہر پاکستانی اپنی اپنی غلطی کا احساس کرے اسے دہرائے نہیں، تو عین ممکن ہے کہ اس طرح کے بہبود آبادی کے حق میں جانے والے حادثات و المیئے وقوع پذیر ہی نہ ہوں #
فزوں ہے سود سے سرمایہٴ حیات ترا
مرے نصیب میں ہے کاوشِ زیاں پھر کیا
ہمارے لفظوں میں لطیف لطیفے پنہاں ہوتے ہیں ذرا عینک بدل کر پڑھا کیجئے کہ خونِ جگر میں قلم ڈبو کے لکھتے ہیں اور حتی الامکان تحریر برائے تحریر و تشہیر نہیں ہوتی، کچھ نہیں کر سکتے مگر جس نے قلم کی قسم کھائی وہ اسی قلم سے ظلم و زیادتی قلم کراتا ہے، ہمارا اس میں دخل ہے نہ کمالِ ہنر، بس ہے تو امید اک نئی سحر، کسی ایک کو مرکز الزام بنا دینا، مورد الزام ٹھہرا لینا، مسئلے کا حل نہیں ہر جرم میں ہر نقصان میں ہم سب من حیث القوم شامل ہوتے ہیں، دیکھتے نہیں کہ اسی لئے تو پوری قوم طرح طرح کی سزائیں بھگت رہی ہے، ہر شخص اقبال کے قول ”ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ“ کو سچ ثابت کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ اپنی غلطی مان لے، اگر نقصان ہو گیا تو دوسروں اور اپنوں کا مزید نقصان کرنے سے طوفان کھڑا ہو سکتا ہے، ایک ایسا طوفان کہ ہم پہلے ہی جس کی زد پر ہیں۔
طالبان رہنما عدنان رشید نے کہا ہے ملالہ پاکستان آ کر مدرسے میں تعلیم حاصل کرے مدرسہ سکول کا ترجمہ ہے، اردو میں عربی میں مدرسہ سکول کو کہتے ہیں، اسی لحاظ سے وہ مدرسے میں تو پڑھ رہی تھی، پھر اس کے سر میں گولی کیوں ماری گئی؟ یا پھر یہ ثابت کیا جائے کہ عدنان صاحب جسے سکول کہتے ہیں اُس میں کفر کی تعلیم دی جاتی ہے اس لئے وہاں تعلیم حاصل کرنا جائز نہیں، صرف لڑکوں کے لئے جائز ہے لڑکیوں کے لئے نہیں، اگر کوئی مدرسہ اسلام سے متصادم تعلیم دے تو وہ دینی مدرسہ ہو یا سکول ہو دونوں میں تعلیم کا حصول روا نہیں ہو گا، کیا جدید علوم، علم کے دائرے سے خارج ہیں؟ جبکہ عربوں کے ہاں علم جو عربی کا لفظ ہے اس سے مراد سائنس ہے، اور حدیث نبوی کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے، وہاں علم دینی نہیں لکھا ہوا، مطلقاً علم ہے جس میں تمام علوم شامل ہیں البتہ کوئی ایسا علم جو دین کے اصولوں کے مطابق نہ ہو وہ حاصل نہ کیا جائے، ہر شخص جانتا ہے کہ ہمارے لڑکیوں کے سکولوں میں ہندو مت یا کفر کی تعلیم نہیں دی جاتی تمام علوم نافعہ سکھائے جاتے ہیں، طالبان کا مطلب ہی علم کے طالب ہیں، پھر طالب، طالبات کو گولی ماریں یہ سمجھ سے بالا ہے، اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے طالبان سوچیں تو اُن کا لڑکیوں کے سکولوں اور وہاں پڑھنے والی طالبات پر حملہ کرنا شرعاً جائز نہیں، تھوڑی سی ذہانت اور فہم سے کام لیا جائے تو ایسا کرنا درست ثابت نہیں ہوتا، یہ پاکستان اتنا ہی ملالہ کا ہے جتنا عدنان رشید کا، اس لئے یہ گولی کے ذریعے اصلاحِ احوال کیلئے کسی سکول میں پڑھنے والی بچی کو دینی مدرسے میں پڑھنے پر مجبور کرنا کہاں کا انصاف ہے کیا ہمارے سکولوں میں دینی تعلیم نہیں دی جاتی اور کیا اسلام کے مشاہیر علماء نے بنیادی سائنسز کیمسٹری، فزکس، ریاضی، بیالوجی اور فلکیات میں بنیادی کام نہیں کیا، کیا بو علی سینا کی طبی کتابیں امریکی یونیورسٹیوں میں نہیں پڑھائی جاتی رہیں، ہمارے علماء دین نے دینی و دنیوی علوم ایک ساتھ نہیں پڑھے کیا مشہور فلاسفر اور فلکیات کے ماہر ابن رشد ایک مسجد کے پیش امام نہیں تھے، سکولوں والوں کو بھی اپنے نصابوں پر اقبال کے حوالے سے ایک نظر ڈال لینی چاہئے #
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نا زن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہٴِ زن
ہے عشق و محبت کے لئے علم و ہنر موت
####
پیرس کی ایک کار ریس میں تیسری پوزیشن لینے والے ڈرائیور نے جوں ہی ٹرافی ہاتھ میں لی گر کر ٹوٹ گئی، مگر اُس نے پرواہ نہ کرتے ہوئے ٹوٹی ہوئی ٹرافی فضا میں لہرا کر فوٹو گرافرز کو پوز دیا۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ انسان سے کوئی غلطی ہو جائے تو وہ اسے چھوٹتے ہی قدرت کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے، عمر خیام جو اپنے عہد کے ایک نامور مسلمان ریاضی دان تھے انہیں کسی مہربان نے پینے کے لئے حلب کا پیمانہ بھیجا، جس کی ساخت ایسی تھی کہ شیشے کے اس پیمانے کو اگر ہموار سطح پر رکھا جاتا تو یہ Rock کرنے لگتا، اسے پیمانہٴِ لرزاں بھی کہا جا سکتا ہے، باریک اور شفاف شیشے کے پیمانے کو جب خیام نے ہونٹوں سے لگایا تو یہ ہاتھ سے چھوٹ کر چکنا چور ہو گیا اور شوق کے اس عالم میں رخنہ پڑنے پر اُس کے منہ سے یہ شعر نکلا #
ابریق مئے مرا شکستی ربا
خاکم بدہن مستی ربا
(میرے رب! تو نے میرا پیمانہٴ مے توڑ دیا، خاکم بدہن کیا تجھ پر مستی طاری تھی)
اس کے بعد اس کے منہ کو لقوہ ہو گیا، اس پر اُس نے ایک رباعی کہی جس کا مفہوم تھا ایک بندہ عاجز سے غلطی ہو گئی تیرے شایان شان نہ تھا کہ فوری سزا دیتا کرم کر کے معاف کر دیتا، اللہ نے دعا قبول فرمائی اور اس کا لقوے سے ٹیڑھا منہ سیدھا کر دیا۔ ملکہ ہند نور جہاں کو چین کی شہزادی نے ایک عمدہ چینی آئینہ تحفہ بھیجا، جس کنیز نے یہ آئینہ تھام رکھا تھا اس سے گر کر ٹوٹ گیا، ڈرتے ہوئے کنیز نے کہا #
از قضا آئینہٴِ چینی شکست
(قضا سے چینی آئینہ ٹوٹ گیا میں نے عمداً نہیں توڑا)
اسی پر ملکہ ہند نے گرہ لگائی #
خوب شد سامانِ خود بینی شکست
(اچھا ہوا خود کو دیکھنے کا سامان ٹوٹ گیا)