مشرق وسطیٰ میں فوری جنگ بندی نہ ہوئی تو مستقبل قریب میں ائیر لائنز کا وجود خطرے میں پڑ جائیگا، جون میں 85 ہزار تک پروازیں منسوخ ہونیکی وجہ سے سفری ہلچل برپا ہے اور یہ دنیا کا نظام بری طرح مفلوج کر کے رکھ دیگی۔
ان خدشات کا اظہار ٹریول ماہرین نے اپنی ایک تنبیہ میں کیا ہے، سفری ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگی صورتحال برقرار رہی اور جیٹ ایندھن کی سپلائی کا سلسلہ بحال نہ ہوا تو نہ صرف تیل کے ذخائر بری طرح متاثر ہوں گے بلکہ ائیر لائنز کے تحفظاتی اقدامات دنیا کو ہلاکر رکھ دیں گے۔ دنیا کا سیاحتی نظا م افراتفری کا شکار ہو جائیگا۔
مشرق وسطیٰ جنگ کے بعد پہلے ہی تیل کی قیمتیں بڑھنے سے کرایوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا جا رہا ہے تو دوسری طرف چھٹیوں کے دوران سیاحوں کو پروازیں منسوخ ہونے کی وجہ سے اپنے تمام پروگرام ملتوی کرنا پڑ سکتے ہیں۔ خلیجی ائیر لائنز بھی برطانوی ائیر لائنز کی طرح سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
ٹریول کنسلٹنسی سے پال چارلس پی سی ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہمیں سیزن کے سب سے مصروف وقت کے دوران مشکل فیصلوں پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف امریکہ ایران کیساتھ اپنے جنگ بندی کے مستقل معاہدے اور آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے پر امید ہے۔