• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا سائنس قریب الموت کے تجربات کی وضاحت کرسکتی ہے؟

کراچی( رفیق مانگٹ) کیا سائنس قریب الموت کے تجربات کی وضاحت کرسکتی ہے؟ اس حوالے سے سائنسی جریدے نے کئی پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔ایک اندازے کے مطابق صرف امریکہ میں 90لاکھ افراد نے قریب الموت کا تجربہ کیا ہے۔ سائنس دان ان کے دماغوں میں ہونے والی سرگرمیوں کا کھوج لگانے کی کوشش میں ہیں ۔آپ موت کے جتنے قریب پہنچیں گے، آپ خوابوں میں ان لوگوں کو دیکھنے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں جو مر چکے ہیں جن سے آپ پیار کرتے ہیں۔ موت کے قریب افراد کو زندگی کے خاتمے کے تجربات کے خواب زیادہ آتے ہیں۔نیو یارک یونیورسٹی کے محقق سیم پارنیا کہتے ہیں جب لوگ مر جاتے ہیں، چاہے وہ کار حادثے کا شکار ہوں یا جنگ میں ہوں یا انفیکشن ہو، حتمی بات یہ ہے کہ ان کا دل رک جائے گا ،جو کہ ناقابل واپسی ہے چونکہ دل پھیپھڑوں اور دماغ سے گہرا جڑا ہوا ہے، لہذا کوئی بھی عمل جو ایک عضو کو کام کرنے سے روکتا ہے وہ لامحالہ دوسرے دو کے خاتمے کا باعث بنتا ہے۔ مختصرا اگر ان تینوں اہم اعضاء میں سے کوئی کام کرنا چھوڑ دے تو جلد ہی موت واقع ہو جاتی ہے۔ آج بھی، ڈاکٹر اب بھی اکثر اس وقت موت کا اعلان کرتے ہیں جب مریض کے دل کی دھڑکن رک جاتی ہے ۔ انسانی تاریخ کے بیشتر حصوں میں موت کو ایک سادہ اور مستقل معاملہ کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ سی پی آر کی آمد کے ساتھ ساتھ انتہائی نگہداشت کی ادویات نے ان لوگوں کو جو حیاتیاتی موت کی دہلیز سے گزر چکے تھے واپس آنے کے قابل بنا دیا، وینٹیلیٹروں کی طرح لائف سپورٹ مشینوں کے ذریعے زندہ رکھا۔پارنیا کا خیال ہے کہ، کسی دن، سائنس دان موت کی دہلیز کو اور بھی آگے بڑھانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں دراصل، جب آپ مرتے ہیں تو آپ کے جسم کے اندر خلیے نہیں مرتے ۔ ایک مطالعہ میں پارنیا کا کہنا ہے کہ جب زندگی کی تمام نشانیاں ختم ہوچکی ، اور دماغی خلیات آکسیجن سے محروم ہیں، وہ بنیادی خلیات کئی گھنٹوں اور ممکنہ طور پر دنوں تک نہیں مرتے۔ پارنیا کہتے ہیں کہ جیسےہم موت کوناقابل واپسی کہتے ہیں وہ صرف طبی ذرائع کی کمی ہے جو کسی کو دوبارہ زندہ کرے۔طبی بحالی میں پیش رفت نے این ڈی ای کے مطالعے کو ایندھن فراہم کرنے میں مدد کی ہے، کیونکہ محققین اب بڑی تعداد میں کارڈیک گرفت سے بچ جانے والے افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کرسکتے ہیں۔جب ہم کسی ایسی صورت حال میں ہوتے ہیں جس سے لگتا ہے یہ ہماری موت کا باعث بن سکتا ہے، بائیوکیمسٹری،اور نیورو فزیالوجی ہماری نفسیات کے ساتھ اسی طرح کے ردعمل پیدا کرنے کے پیچیدہ طریقوں سے بات چیت کرتی ہے۔ کچھ این ڈی ای کو صاف طور پر نیوروسائسنی فریم ورک میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ ان حالات میں متحرک ہوسکتی ہے جہاں کسی کی جان کو خطرہ نہیں۔اس میں جسم کے باہر کے تجربات بھی ہیں مرگی اور نیند میں فالج جیسی مثال ہے۔ امریکی سائنسی میگزین میں شائع تحقیق میں کہا گیا کہ فلسفی سقراط کے جنگجو کے دوبارہ زندہ ہونے کاواقعہ دیومالائی قصہ لگتا تھا لیکن آج حقیقی لوگوں نے بھی ایسے واقعات کا ذکر کیا جوپوری انسانی تاریخ میں پھیلے ہوئے ہیں ، قدیم یونان سے لے کر آج تک، جو لوگ موت سے بچ جاتے ہیں وہ اکثر جسمانی تجربات اور کسی دوسرے دائرے یا جہت میں داخل ہونے کا احساس بیان کرتے آرہے ہیں۔ سائنس دان اور ڈاکٹر ان واقعات کو قرب الموت تجربات(این ڈی ای) کہتے ہں جس کی کوئی وسیع پیمانے پر قبول شدہ تعریف نہیں ہے، یہ اصطلاح عام طور پر صوفیانہ، گہرے تجربات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔یونیورسٹی آف ورجینیا کے ماہر نفسیات بروس گریسن کہتے ہیں کہ دوسرے الفاظ میں وہ حالات جن میں آپ مریں گے، اور مردہ رہیں گے، جب تک کہ کوئی آپ کی مدد کے لیے ہنگامی طبی طریقہ کار قائم نہ کرے ۔ محققین اس بات سے متفق نہیں ہیں کہ اس دوران کیا ہو رہا تھا، کچھ ان کو تخیل کی فریب انگیز پروازوں سے منسوب کرتے ہیں، کوئی مرتے ہوئے دماغ کی آخری ہچکیاں۔ لیکن کچھ اس امکان کو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ ہمارے جسموں اور دماغوں کے ختم ہونے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔مرنے کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے؟ یہ سوال کم از کم 34 ہزاروں سال سے انسانی سرگرمیوں پر الجھا ہوا ہے، سب سے پہلے اس رجحان کا مشاہدہ اور سائنسی تجزیہ 1740 میں سامنے آیا جب این ڈی ای کی پہلی میڈیکل رپورٹ شمالی فرانس کے ایک فوجی ڈاکٹر سے آئی۔ جب ایک مریض بہت زیادہ خون نکالنے کے بعد ہوش کھو بیٹھا۔ اس نے بعد میں اطلاع دی کہ اس نے ایسی روشنی دیکھی کہ جیسے وہ جنت میں ہے ، ڈاکٹر نے قیاس کیا کہ دماغ میں بہت زیادہ خون کے بہاؤ نے ان کے پرسکون جذبات کو جنم دیا ہے، اس کا موازنہ ایسے لوگوں کی رپورٹوں سے کیا جو ڈوبنے، ہائپوتھرمیا اور پھانسی سے بچ گئے تھے۔ 2019 کی ایک دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح جانوروں کے مارے جانے کے 10 گھنٹوں کے بعد سور میں دماغی سرگرمی بحال کی جا سکتی ہے، ۔ مثال کے طور پر، 2001 میں 344 مریضوں کے مطالعے میں جنہیں ڈچ ہسپتالوں میں کامیابی کے بظاہر موت سے دوبارہ زندہ کیا گیا، 18 فیصد نے این ڈی ای کی اطلاع دی۔ مزید حالیہ مطالعات نے یہ بھی واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب ہم مرتے ہیں تو ہمارے شعور کا کیا ہوتا ہے، ایک ایسا معمہ جس نے انسانوں کو ہزاروں سالوں تک رات کو بیدار رکھا۔ بہت سے لوگ رپورٹ کرتے ہیں کہ ان کا شعور ان کے جسم کے اوپر تیرتا دکھائی دیتا ہے ۔ کچھ سائنس دان اور اسکالرز ابھی بھی قریب الموت تجربات کو نفسیات،حیاتیات اور نیورو سائنس کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ این ڈی ای رپورٹ میں عالمگیر مماثلت کی ایک وضاحت اکثر نظر انداز کی جاتی ہے یہ نہیں ہم دوسری دنیا کے دائرے میں ہیں۔

تازہ ترین