• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ادب و احترام اور تہذیب کے تقاضے کیسے بدل گئے

ہمارے گھروں میں جب کوئی باہر سے عورتیں آتیں،امی بیٹوں سے کہتی ہیں، تم ادھر جا کر بیٹھو یہاں خواتین بیٹھیں گی،جس کمرے میں بہنیں سوئی ہوں،وہاں بھائیوں کوبے دھڑک جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ۔اگر راستے میں کسی عورت کو مدد چاہیے ہوتی تو ماں کہتی بیٹا جاؤ، ’’تمہاری ماں جیسی ہے اس کی مدد کرو‘‘ بیٹا ماں ہی سمجھ کر ایسا کرتا۔

کسی کی بیٹی کو کوئی کام ہوتا تو امی یوں کہتیں ’’جاؤ تمہاری بہن جیسی ہے،اس کا فلاں کام کر دو، یا اُسےگھر چھوڑ آؤ۔بیٹے کے دل میں بیٹھ جاتا کہ ’’میری بھی بہن ایسی ہی ہے، یہ بھی میری بہن جیسی ہے" بہنوں کی سہیلیاں گھر آتیں تو ان کا بہنوں ہی کی طرح احترام کیا جاتا۔ بیٹوں، بیٹیوں کے رشتے طے ہو جاتے تھے ،لیکن اُنہیں پتا تک نہ ہوتا تھا،شادی ماں باپ کی پسند سے کر لیتے اورمرتے دم تک نبھاتے خوش رہتے ،کبھی ڈپریشن نہ ہوتا تھا،یہ تربیت ہوتی تھی، یہ ہمارا معاشرہ تھا جو ماؤں نے تشکیل دیا تھا۔

اب تو لگتا ہے ،نئی نسلوں کی مائیں ، تربیت کرنا جانتی ہی نہیں ہیںیاوہ تربیت کرنا بھول گئی ہیں۔

ماؤں ،بہنوں ،بیٹیوں یاد رکھو :

اگر کھیت میں’’ دانہ‘‘ نہ ڈالا جائے تو قدرت اسے ’’گھاس پھوس‘‘ سے بھر دیتی ہے۔ اگر’’دماغ‘‘کو’’اچھی فکروں‘‘ سے نہ بھرا جائے تو ’’کج فکری ‘‘اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف ’’الٹے سیدھے ‘‘خیالات آتے ہیں اور وہ ’’شیطان کا گھر‘‘ بن جاتا ہےا ور جس کے پاس ’’جو کچھ‘‘ ہوتا ہے وہ’’وہی کچھ‘‘ بانٹتا ہے۔ مثلاً

٭خوش مزاج انسان ’’خوشیاں ‘‘بانٹتا ہے۔

٭غمزدہ انسان ’’غم‘‘ بانٹتا ہے۔

٭عالم ’’علم‘‘ بانٹتا ہے۔

٭دیندار انسان ’’دین‘‘ بانٹتا ہے۔

٭خوف زدہ انسان ’’خوف‘‘ بانٹتا ہے۔

اس لیے :

٭آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو، اسے ’’ہضم ‘‘کرنا سیکھیں، اس لیے کہ۔ ۔ ۔

٭ کھانا ہضم نہ ہونے پر’’بیماریاں‘‘ پیدا ہوتی ہیں۔

٭مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں’’ریاکاری‘‘ بڑھتی ہے۔

٭بات ہضم نہ ہونے پر ’’چغلی‘‘ اور ’’غیبت‘‘ بڑھتی ہے۔

٭ تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں ’’غرور‘‘ میں اضافہ ہوتا ہے۔

٭ مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے ’’دشمنی‘‘ بڑھتی ہے۔

٭غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں ’’مایوسی‘‘ بڑھتی ہے۔

٭اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں ’’خطرات‘‘ میں اضافہ ہوتا ہے۔

اپنی زندگی کو آسان بنائیں ۔ ایک’’ با مقصد‘‘ اور ’’با اخلاق‘‘ زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔خوش رہیں ۔۔۔ خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔