• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یسریٰ اصمعیٰ

افف… پسینے میں شرابور سائرہ تیزی سے دوپٹ کے لوہے کے دروازے کو دھکیلتی ہوئی گھر کے اندر داخل ہوئی۔ کیا ہوا اتنی جھنجھلائی ہوئی کیوں ہو؟ کیا کہوں آپی لوگ اتنے بدتمیز ہوتے ہیں، برقعے والیوں تک پر آوازیں کسنے سے باز نہیں آتے، سائرہ نے بیزاری سے اپنے شوخ رنگ کے اسکارف اور نئے فیشن کے کامدار عبائے کو تیزی سے اتار کر صوفے پر پھینکتے ہوئے جواب دیا۔

توبہ ہے یہ لڑکا کتنی دیر سے یہیں ٹکا ہم کو گھور گھور کر دیکھ رہا ہے، ثناء نے بس اسٹاپ پر کھڑی اپنی باقی دونوں سہیلیوں کی توجہ ایک جانب مبذول کروائی تو باتوں میں مصروف قہقہے لگاتی زارا اور تہمینہ نے بھی یک دم خاموش ہو کر اسی جانب دیکھا، ذرا شرم نہیں ہے، نقاب والیوں تک کو ایکسرے کی نظر سے گھورتے ہیں، زارا نے غصیلے لہجے میں کہا۔ خیر چھوڑو اس کو میں بتا رہی تھی وہ مس رخشندہ کی کلاس میں… تہمینہ نے ایک بار پھر سلسلہ کلام وہیں سے جوڑا اور تھوڑی دیر میں تینوں سہیلیاں سب بھول بھال کر ایک بار پھر ہنسی مذاق اور باآواز بلند چھیڑ چھاڑ میں مصروف ہوگئیں۔

چھن چھن چھناناں نن… چوڑیوں کی خوبصورت چھٹکار نے ایک یکا یک بس کے سب ہی اونگھتے مسافروں کو چونکا دیا۔ یہ لیں بھائی کرایہ… ساتھ ہی سر سے پیر تک کالے برقعے میں ملبوس خاتون نے ہاتھ لمبا کر کے جوکنڈیکٹر کی طرف کرایہ بڑھایا تو کلائی میں پڑی نازک خوبصورت کانچ کی چوڑیوں نے بلاشبہ بڑی دلکش آواز پیدا کی۔

ارے مار ڈالا ظالم… کیا خوشبو ہے بھئی… لوگ گزر جاتے ہیں لیکن خوشبو بکھیر جاتے ہیں۔ گلی کے نکڑ پر کھڑے محلے کے دو لفنگے کالی چادر میں منہ تک لپٹی ایک لڑکی کے برابر سے گزرنے پر انتہائی لوفرانہ انداز میں تبصرہ کرکے تالی مار کر ہنسے۔

ہیلو… جی کون؟ بھائی؟؟ اوہ نہیں بھائی تو گھر پر نہیں ہیں؟ کوئی میسج ہو تو دے دیں میں پہنچا دوں گی۔ سارہ نے بہت نرم اور مہذبانہ انداز میں اپنے بھائی کے دوست کو اطلاع دی۔

آہاں… سعد کی کوئی بہن بھی ہے؟ آواز تو بڑی سریلی ہے لگتا ہے محترمہ خود بھی بڑی من مومنی ہوں گی۔ سعد کے دوست نے فون کے دوسری طرف ایک عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ سوچا۔

یہ مناظر ہمارے اردگرد پھیلی اسی رنگین دنیا سے لئے گئے ہیں۔ یوں تو الحمدللہ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں پردے کا شعور بڑھا ہے، اس کے لئے پسندیدگی کے جذبات بھی نظر آتے ہیں، تعلیمی اداروں سے لے کر تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی میں بھی باپردہ اور باحجات خواتین کی نمایاں تعداد دیکھنے کو ملتی ہے اور اب اکثر گھرانے بڑے فخر سے اس بات کا ذکر بھی کرتے ہیں کہ اللہ کے فضل سے ان کے گھر کی خواتین حجاب لیتی ہیں۔ 

گویا دھیرے دھیرے سوسائٹی میں عبائے اور حجاب کے لئے قبولیت کا درجہ بڑھ رہا ہے، جوکہ یقیناً ایک قابل اطمینان پہلو ہے، ورنہ اس سے قبل ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب برقعے اور نقاب کو دقیانوسیت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور اس کو اپنانے والیوں کو پردے کی بوبو کاخطاب دے کر ترقی کے دروازے بند نہ سہی تو تنگ تو ضرور کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

معاشرے میں بڑھتے ہوئے اس مثبت رجحان کے باوجود بعض باپردہ خواتین اور بچیاں گلی کوچے اور بس اسٹینڈز پر لفنگوں کے اوچھے ہتھکنڈوں اور جملوں کا نشانہ بن کر ذہنی اذیت اور خوف کا شکار ہوتی ہیں۔ ایسے میں اکثر پریشان ہو کر یہ سوال اٹھتا ہے کہ پردہ تو عورت کو عزت اور تحفظ دینے کے لیےاللہ رب العالمین کی طرف سے صنف نازک کے لئے ایک تحفہ ہے تو پھر ہم اس کو اپنانے کے باوجود اس تنگ کئے جانے کی کوفت سے آئے دن کیوں گزرتے ہیں۔ آیئے ،آج اسی حوالے سے سوچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس صورت حال پر کس طرح قابو پایا جائے، تاکہ اس طرح کی ہراسگی کے واقعات سے بچا جا سکے۔

اس بارے میں مزید گفتگو سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا پڑے گا کہ ہماری نظر میں آخر ’’حجاب‘‘ کی تعریف ہے کیا؟؟ ہم کس کس چیز کو قرآن میں نازل کردہ حجاب کے اصولوں میں شامل سمجھتے ہیں اور کیا کیا ہماری نظر میں حجاب کے قانون سے مستشنہ ہے؟؟ کیا حجاب محض دو گز کپڑے کا نام ہے یا یہ ایک مکمل رویہ اور لائف اسٹائل ہے؟ اگر ہماری نظر میں یہ کپڑے کے ایک ٹکڑے کو سر پر باندھ لینے یا اس سے منہ ڈھانپ لینا ہے تو شاید ہم کو اکثر باہر کی دنیا میں ارد گرد پھیلے بدنظر اور بدقماش لوگوں کے واہیات جملوں کا سامنا کرتے رہنا پڑے۔ 

سوچنے کی بات ہے کہ مجھے بخار کی شکایت ہوئی میں ڈاکٹر کے پاس گئی اور ڈاکٹر نے دوا کے ساتھ ٹھنڈا پانی، کھٹی چیزیں سب سے پرہیز لکھ کر دیا، اب اگر میں ڈاکٹر کی دی ہوئی گولی تو پابندی سے کھائوں لیکن باقی کی ہدایات پر کان نہ دھروں تو بھلا مجھے مکمل طور بخار سے چھٹکارہ کیونکر مل سکے گا۔ بالکل یہ ہی بات ’’حجاب‘‘ کے معاملے میں بھی ہے، بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ عورت کو نازک آبگینے قرار دینے والا دین عورت کو ادھورا تحفظ دے کر شکاریوں کی اس دنیا میں تنہا چھوڑ دیتا۔ لہٰذا سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ہوگا کہ ’’حجاب‘‘ دراصل اللہ رب العزت کی جانب سے عورت کو وقار و تمکنت عطا کرنے کے لیےایک مکمل لائف اسٹائل کا نام ہے۔ 

اس میں ہمارا چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا، لب و لہجہ، زیب و زینت اختیار کرنا سب ہی کچھ شامل ہے۔ جب اللہ نے کہہ دیا کہ ’’اپنے گھونگھٹ اپنے چہروں اور سینوں پر ڈال لو ،تاکہ پہچان لی جائو اور ستائی نہ جائو اور زمانہ جاہلیت کی طرح اپنی سج دھج دکھاتی نہ پھرو‘‘ تو بس سوچنے کے بہت سے در وا ہوتے ہیں کہ ایسی کیا کیا زیب و زینت ہے، جس کو ظاہر نہ کرنے سے ہم اس فتنوں بھری دنیا میں ایک آزاد باعزت زندگی گزار سکتے ہیں۔ 

اس حوالے سے مزید ہدایات ہمیں پیارے نبیﷺ کی زبانی ملتی ہیں کہ راستوں کے درمیان میں نہ چلو بلکہ نظریں جھکا کر تیز چال سے کونے سے گزرو، خوشبو لگا کر باہر نہ نکلو کہ ایسی عورت پر جنت کی خوشبو حرام ہے (خوشبو لگا کر نکلنے سے جس شدت کے فتنے کا اندیشہ ہے اسی حساب سے دعید بھی بتائی گئی ہے)، بجنے والے زیورات پہن کر باہر نہ نکلو، نامحرم سے دبی زبان میں بات نہ کرو بلکہ کھرے انداز میں مخاطب ہو کہ کہیں اس کے دل میں کوئی بیماری ہو اور ہمارے لہجے سے ہوا دے دیں اور سب سے سخت ہدایت کہ اسے چست اور باریک لباسوں سے ممانعت کہ جو ستر کے اصولوں کو پورا نہ کرتے ہوں تو ایسے میں اللہ کے رسولﷺ جیسی شفیق ہستی تک نے لعنت فرمائی ہے۔ 

یہ ہے وہ باحیا حجابی لائف اسٹائل جو اللہ کا دین ہمیں دیتا ہے، جس کو اپنانے کے بعد میں اور آپ مکمل طور پر اللہ کی رحمت کے سائے تلے آجاتے ہیں۔ اب یہ اختیار ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے کہ ڈاکٹر کی دوا کے ساتھ دیگر ہدایات پر بھی عمل کرکے مکمل صحت یابی چاہتے ہیں یا بدیر پرہیزی کرکے ہمیشہ ہلکے ہلکے بخار میں مبتلا رہنا چاہتےہیں۔