• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسان کا دکھ سکھ کائنات کی نبض سے جڑا ہوا ہے۔ انسان بہت خوشحال اور پرآسائش زندگی بسر کر رہا ہو تب بھی وہ مطمئن نہیں ہوتا کیونکہ اردگرد موجود رنج و الم کی اُداس لہریں اس کی روح کو مضمحل کرتی اسے آواز دیتی رہتی ہیں۔ ہماری آنکھیں جن مناظر اور دکھوں کو دیکھ اور محسوس نہیں کر سکتیں ہماری روح تک وہ رسائی حاصل کرتے ہیں۔ حساس لوگ یہ زیادہ گہرائی سے محسوس کرتے ہیں اس لئے خدا نے انہیں آسانیاں بانٹنے پر مامور کر رکھا ہے۔

خیرات اور خدمتِ خلق سے معاشروں میں زندگی کی کٹھن راہوں کو سہل اور رواں بنایا جاتا ہے۔ صدقہ اور خیرات صرف رقم کی صورت میں نہیں بلکہ کسی کی دلجوئی کرنا، دعا کرنا، مشورہ دینا اور کسی کو دکھ کی گھڑیوں میں حوصلہ دینا بھی خدمتِ خلق اور انسانی فریضے میں آتا ہے۔ اصل میں خدمت خلق اور خیرات کا تصور دوسروں کے دکھ درد کا احساس کرنے کا نام ہے۔ دنیا کے عظیم انسانوں نے کائنات میں موجود تفریق کو ختم کرنے کے لئے انسانی سطح پر مختلف تنظیموں اور رضاکارانہ فلاحی سرگرمیوں کی انجام دہی کے لیے مختلف پلیٹ فارم قائم کئے ہیں۔ خدمتِ خلق کے یہ پلیٹ فارم تعلیم، رہائش، ثقافت، سائنس، ثقافتی اور قدرتی ورثے کے علاوہ کھیلوں کی ترقی میں بھی معاون ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے افراد کو ساتھ لے کر چلنے کے عزم سے بھی مامورہیں۔

پاکستان میں عالمی شہرت کے کئی ادارے کام کر رہے ہیں جن میں ایدھی فاؤنڈیشن، شوکت خانم میموریل اسپتال، چھیپا ویلفیئر ایسوسی ایشن، انصار برنی ٹرسٹ، آغا خان فاؤنڈیشن، اخوت فائونڈیشن، الخدمت فاؤنڈیشن، فاطمید، دارالسکون وغیرہ شامل ہیں۔ کوئی بھی ریاست، کوئی بھی ملک کتنا ہی امیر کیوں نہ ہو‘ وہ شہریوں کی سو فیصد مدد نہیں کر سکتا اس کے لئے سول سوسائٹی کو سامنے آنا پڑتا ہے اور ہم خوش قسمت ہیں کہ ہماری سول سوسائٹی متحرک ہے اس نے ہمیشہ پاکستان کا نام سربلند کیا ہے۔ پاکستان میں کام کرنے والی تنظیمیں ملک بھر سے اکٹھے کئے گئے عطیات کے ذریعے وہ کام سرانجام دے رہی ہیں جن سے عام انسان کو فائدہ پہنچ رہا ہے جس طرح شوکت خانم میموریل اسپتال مستحق مریضوں کو کینسر کےمفت علاج کی سہولتیں فراہم کرتا ہےکیونکہ یہ علاج بہت مہنگا ہوتا ہے اس لئے عام بلکہ درمیانے طبقے کے لوگوں کی پہنچ سے بھی دور ہوتا ہے۔ اخوت فائونڈیشن کے سربراہ محمد امجد ثاقب جنہیں اس سال رامن مگیسے ایوارڈ سے نوازا گیا بہت ہی بابرکت شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی خدمتِ خلق پر مامور ہے، برسوں پہلے انہوں نے خود کو وقف کیا اور آج اس کی زمانہ گواہی دے رہا ہے۔ انہوں نے جب یہ سفر شروع کیا تو اس کا دائرہ کار اتنا وسیع نہیں تھا لیکن ان کی محنت اور جستجو میں خدا کا کرم برکت ڈالتا گیا اور ان کے منصوبے پورے ملک میں مختلف سطحوں تک پھیلتے گئے۔ ملک سے باہر رہنے والے پاکستانیوں نے بھی ان پر اعتماد کیا اور آج وہ ملک سے غربت ختم کرنے اور لوگوں کو باوقار جیون دینے میں صفِ اول کے مجاہدوں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

غربت کے خاتمے اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ہر سال کچھ اہم شخصیات کو مگیسے ایوارڈ دیا جاتا ہے، اس بار اس فہرست میں پاکستان کا یہ سپوت بھی شامل تھا۔یہ پاکستان کے لئے بہت ہی قابل ذکر بات ہے جس کی پورے ملک میں پذیرائی کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی اپنے ٹویٹ میں اس کا خاص تذکرہ اور خوشی کا اظہارکیا۔ دنیا سے غربت ختم کرنے کے لئےعالمی سطح پر منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور عملی طور پر اس کو ممکن بنانے کے لئے جدوجہد کی جاتی ہے۔ آج اگر ہم اس حوالے سے بات کریں تو دنیا سے اب بھی غربت کا خاتمہ ممکن نہیں بنایا جا سکا۔ اب بھی ہمیں مختلف درجوں پر تفریق، تقسیم اور محرومیاں نظر آتی ہیں، اس کا مطلب ہے ہم سب کو کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نیٹ ورک کو اور زیادہ فعال بنانے اور لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ تنظیمیں جو شفاف ہیں، جن کا کام نظر آ رہا ہے ان کے ذریعے لوگوں کی مدد کرنا زیادہ مؤثر ہے کیونکہ وہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ یعنی کسی کی امداد کر دینا، کسی کو صدقہ دے دینا اس سے بہتر ہے کہ آپ اس کے لئے روزگار کا کوئی وسیلہ بنائیں جس طرح ڈاکٹر محمد امجد ثاقب یہ خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔ مختلف سطح پر لوگوں کو روزگار مہیا کر رہے ہیں جو ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے مترادف ہے کیونکہ آپ کسی کی ایک مہینے مدد کر سکتے ہیں، دو مہینے یا تین مہینے لیکن جب آپ کسی کو برسرِروزگار کر دیتے ہیں، معاشی طور پر خود مختار کر دیتے ہیں تو آپ اس کا عمر بھر کا مسئلہ حل کر دیتے ہیں بلکہ وہ اگلی نسلوں تک چلتا ہے۔

تعلیم کے حوالے سے بھی، نو4جوانوں کے حوالے سے بھی ڈاکٹر امجد ثاقب کی خدمات سنہری حروف میں لکھی جائیں گی۔ انہیں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے لیکن لاکھوں لوگوں کی آنکھوں میں تشکر کے آنسوؤں سے بڑا ایوارڈ ابھی تک وجود میں نہیں آسکا جس سے انھیں روز نوازا جاتا ہے۔ وہ لوگ جن کے لیے وہ کاروبار کے ذریعے باوقار زندگی کا وسیلہ بنے، کی دعائیں ان کی طاقت ہیں۔ اخوت کا سفر خدمتِ خلق کی ایک جگمگاتی کہانی ہے جو اتنی روشن اور بے مثال ہے کہ وہ ایک دمکتا ہوا ستارہ بنتے جا رہے ہیں۔ جن معاشروں میں عبدالستار ایدھی کا سفر جاری رہتا ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے لوگ موجود ہیں ان معاشروں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ان کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے، ان کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ ان جیسا نہ بن سکیں لیکن ان کا ساتھ تو دے سکتے ہیں۔ڈاکٹر امجد ثاقب سمیت دنیا بھر میں انسان کی بقا کے لئے جدوجہد کرنے والی ہستیوں کو سلام۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

تازہ ترین