• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بات چیت : عالیہ کاشف عظیمی

خواب تو ڈائریکٹر بننے کا تھا،جس کے لیے زیبیسٹ یونی ورسٹی، کراچی میں داخلہ بھی لیا، مگر پھر آخری سیمیسٹر میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر اداکاری شروع کردی ۔ تھیٹر میں کام کیا۔ بعد ازاں، ایک مارننگ شو’’سلام زندگی‘‘ اور سِٹ کام سیریز’’ریڈی اسٹیڈی گو‘‘ میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا ۔ جی بالکل ،یہ ذکر ہے، فیضان شیخ کا، جنہوں نے ٹی وی اسکرین کی معروف اداکارہ پروین اکبرکا بیٹا ہونے کے باوجود اپنی محنت اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر شوبز کی دُنیا میں اپنی پہچان بنائی۔

فیضان شیخ کے مقبول ڈراموں میں’’مَن کے موتی‘‘،’’ میرا نام یوسف ہے‘‘،’’ رفعت آپا کی بہوئیں‘‘، ’’مَن کملی‘‘، ’’میرا آنگن‘‘، ’’غیرت‘‘ ، ’’ریڈی اسٹیڈی گو‘‘، ’’سایا‘‘، ’’اب دیکھ خدا کیاکرتا ہے‘‘، ’’ببّن خالہ کی بیٹیاں‘‘، ’’نمک پارے‘‘، ’’گستاخ‘‘، ’’ہمارے دادا کی وصیّت‘‘، جب کہ فلموں میں ’’مالک‘‘، ’’پرچی‘‘ اور ’’ہیر مان جا‘‘ شامل ہیں۔ آج کل ناظرین انہیں’’ دی مزے دار شو‘‘ کی میزبانی کرتے بھی دیکھ رہے ہیں۔

گزشتہ دِنوں ہم نے ’’جنگ، سنڈے میگزین‘‘ کے معروف سلسلے ’’کہی اَن کہی‘‘ کے لیے فیضان شیخ سے خصوصی بات چیت کی، جس کی تفصیل نذرِ قارئین ہے۔

اہلیہ ماہم، بہن رابعہ کلثوم اور بہنوئی ریحان ناظم کے ساتھ
اہلیہ ماہم، بہن رابعہ کلثوم اور بہنوئی ریحان ناظم کے ساتھ

س: آپ کی والدہ پروین اکبر کسی تعارف کی محتاج نہیں،والد بھی معرو ف بزنس مین ہیں، اگر کہیں اپنا تعارف کروانا ہو تو کیسے کرواتے ہیں؟

ج: میرے والدین بڑے لوگ ہیں،مگر مَیں اپنا تعارف ہمیشہ ایک آرٹسٹ یا مزدور کے طور پرکرواتا ہوں۔ مَیں نے کبھی کہیں یہ کہہ کر اپنا تعارف نہیں کروایا کہ مَیں پروین اکبر یا عرفان احمد شیخ کا بیٹا ہوں۔

س: جائے پیدائش، بچپن اور ابتدائی تعلیم و تربیت کے متعلق کچھ بتائیں؟

ج: مَیں کراچی میں پیدا ہوا ،یہیں پلا بڑھا اور تعلیم بھی اِسی شہر سے حاصل کی۔ ہم تین بھائی اور ایک بہن ہے۔ چوں کہ ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں، تو کزنز وغیرہ کے ہوتے، کبھی دوستوں کی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ہمیںبچپن ہی نہیں، لڑکپن میں بھی گھر سے باہر جانے کی اجازت صرف کرکٹ کھیلنے کی صُورت میں مغرب تک ملتی۔

وہ بھی اس شرط پر کہ گھر کے سامنے والے میدان میں کھیلنا ہے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ والدین نے تربیت کے معاملے میں جو سختی برتی، آج اُسی کی بدولت شخصیت میں ٹھہرائو ہے۔ جہاں تک تعلیم کا تعلق ہے، تو مَیں اچھا طالبِ علم تھا،لیکن کبھی بہت اچھے گریڈز نہیں لیے،البتہ پسندیدہ مضامین میں نمایاں نمبرز ضرور حاصل کرتا تھا۔

س:فیملی میں کون کون ہے،آپ کس کے زیادہ قریب ہیں؟

ج: فیملی میں والدین، ایک بھائی، بھابی،اُن کے بچّے اور میری اہلیہ ماہم شامل ہیں، چھوٹا بھائی اپنی بیگم کے ساتھ لندن میں رہتا ہے۔ بہن رابعہ اپنے گھر کی ہوچُکی ہے اور حال ہی میں اس کا بڑا پیارا سا بیٹا بھی پیدا ہوا ہے۔ گرچہ چھوٹا بھائی اور بہن اب ہروقت ساتھ نہیں ہوتے، مگر ہم سب کے رابطے بہت مضبوط ہیں۔

س: کیرئیر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا، پھر تھیٹر اور اس کے بعد چھوٹی، بڑی اسکرین پر کام کررہے ہیں، تو اس پورے سفر کی کچھ رُوداد ہمیں بھی سُنائیں؟

ج: میرا اداکار بننے کا ارادہ بالکل نہیں تھا، مَیں ڈائریکٹر بننا چاہتا تھا، جس کے لیے زیبیسٹ(شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، کراچی) میں داخلہ بھی لیا اور متعلقہ فیلڈ میں پونے چار سال تک پڑھا بھی، مگر بالکل آخری سیمیسٹر میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ دراصل دورانِ تعلیم مَیں نے کئی سینئرز کی شارٹ فلمز میں کام کیا ، تو مجھے اداکاری میں بہت لُطف آیا۔پھر کئی ڈائریکٹرز نے اپنے پراجیکٹس میں کاسٹ کرنا شروع کردیا۔ 

اِسی دوران ایک فلم فیسٹیول میں بیسٹ اداکارکا ایوارڈ بھی مل گیا۔ تھیٹر میں قسمت آزمائی،تو وہاں بھی کام یاب رہا۔ اس کے بعد ٹی وی انڈسٹری اور بڑے پردے تک رسائی حاصل ہوگئی، تو یہ سب کچھ یکے بعد دیگرے کچھ اس طرح ہوتا چلا گیاکہ کہیں ٹھہرنے کا موقع ہی نہ ملا۔اس سارے سفر میں میری سخت جدوجہد بھی شامل ہے، مگر قدم قدم اللہ کا کرم شاملِ حال رہا۔

س: والدہ کے نام وَر ہونے کا کچھ ایڈوانٹیج حاصل رہا؟

ج: نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جتنے لوگ میری امّی کو جانتے ہیں، وہ گواہی دیں گے کہ انہوں نے کبھی بھی، کہیں بھی میری سفارش نہیں کی۔ انہوں نے مجھے پہلے ہی دِن کہہ دیا تھا کہ’’بیٹا! چاہے ہدایت کاری کرو یا اداکاری، مَیں سفارش نہیں کروں گی، کیوں کہ انسان اپنی جگہ اپنے کام سے بناتا ہے۔‘‘ اور مجھےفخر ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے مَیں نے خود سخت جدوجہد کی۔جیسے ابتدائی دَور میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر ملازمت کی،پھر سال بَھر ایک میڈیا ہائوس میں بھی نوکری کی۔

س: کامیڈی کی طرف کیسے رجحان ہوا، کب اس بات کا احساس ہوا کہ آپ کی حسِ مزاح اچھی ہے؟

ج: میرا کامیڈی کی طرف رجحان نہیں تھا، لیکن جب آپ کسی تھیٹر پلے میں کام کررہے ہوں، تو اس میں کچھ نہ کچھ طنز و مزاح شامل ہوتا ہی ہے۔ اپنے پہلے تھیٹر پلے میں ایک پٹھان چوکیدار کا کردارکیا، جس میں تھوڑی بہت کامیڈی بھی کی،جو سب نے پسند کی۔اصل میں سینس آف ہیومر تو سب ہی کا اچھا ہوتاہے، مگر کامیڈی میں سب سے اہم چیز ’’Comic Timing‘‘ ہے۔ 

اگر آپ کے پاس کامِک ٹائمنگ نہیں اور حسِ مزاح بہت اچھی بھی ہے، تو بات نہیں بن پاتی۔خیر، اس کے بعدجب ساڑھے چار سال تک مارننگ شو ’’سلام زندگی‘‘ کیا، تو اس صلاحیت میںمزید نکھار آگیا۔بعد ازاں،ایک سِٹ کام سیریز’’ریڈی اسٹیڈی گو‘‘ میں’’پیارے‘‘ کا کردارکیا،جو میری پہچان بن گیا۔یوں وقت کے ساتھ کامیڈی بہتر سے بہتر ہوتی چلی گئی۔

س: اسکرین پر فیصل قریشی، عدیل اور آپ تینوں کی کیمسٹری بہت اچھی رہی، تو اصل زندگی میں کیسے تعلقات ہیں؟

ج: اگر تعلقات اچھے نہ ہوں، تو کیمسٹری بھی کبھی اچھی نہیں بن پاتی۔ فیصل بھائی سے بہت پُرانے تعلقات ہیں کہ جب مَیں طالبِ علم تھا، تووہ تب بھی بہت شفقت و پیار سے ملتے۔ رہی بات عدیل (آدی)کی ،تو ہماری پہلی ملاقات ایک تھیٹر پلےکے دوران ہوئی اور اب دوستی کو تقریباً 8سال ہوگئے ہیں۔ ویسے ہم تینوں کے باہمی تعلقات اب ہماری فیملیزتک منتقل ہوچُکے ہیں۔

س: آپ نے ہدایت کاری کی باقاعدہ تعلیم حاصل کررکھی ہے، تو کیا مستقبل میں اس طرف آنےکا ارادہ ہے؟

ج: مَیں اس میدان میں قدم رکھ چُکا ہوں۔ اِن دِنوں میرا ڈائریکٹ کیا ہوا ایک سِٹ کام’’ج،چ‘‘نشر بھی ہو رہا ہے۔ اصل میں جب اداکاری کا سلسلہ شروع ہوا، تو ہدایت کاری کا موقع نہیں ملا،تو اب جیسے ہی موقع ملا، ہاتھ سے جانا نہیں دیا۔ اب اگر میرے اس کام کو سراہا گیا، فیڈ بیک اچھا ملا، تو ان شاء اللہ مستقلاً جاری رکھوں گا۔

س: ماڈلنگ، تھیٹر، ٹی وی، فلم، شو ہوسٹنگ اور گلوکاری…ان میں سے کون سا شعبہ آپ کے مزاج سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے؟

ج: تھیٹر، اداکاری اور میزبانی کے شعبے میرے مزاج سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔

س: آپ کی نظر میں آپ کا claim to fame کیا ہے؟

ج: میرا کلیم ٹو فیم مارننگ شو’’سلام زندگی‘‘ اورسِٹ کام سیریز’’ریڈی، اسٹیڈی گو‘‘ ہے۔

س: کس طرح کے کردار ادا کرنا اچھا لگتا ہے، سنجیدہ، مزاحیہ، رومانی یا نیگیٹو؟

ج: مَیں نیگٹیو کردار کرنا زیادہ پسند کروں گا، کیوں کہ فلم ’’ہیر مان جا‘‘میں وجدان کا کردار ادا کرنے کے بعداس بات کا اندازہ ہوا کہ منفی کرداروں میں اداکاری کا مارجن بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھ کامِک کردار ادا کرنا بھی اچھا لگتا ہے کہ ان میں بھی اپنی صلاحیتیں منوانے کا بَھرپور موقع ملتا ہے۔

س: ان دِنوں کیا مصروفیات ہیں، کس نئے پراجیکٹ پر کام کررہے ہیں؟

ج: ڈراما’’ج،چ‘‘کی ہدایت کاری کے ساتھ اس میں اداکاری بھی کررہا ہوں،جب کہ’’دی مزے دار شو‘‘ اورسِٹ کام سیریز ’’ریڈی اسٹیڈی گو‘‘ بھی آن ائیر ہیں۔ ویب سیریز پر بھی کام جاری ہے۔ ایک فلم ’’ادھم پٹخ‘‘ بھی ریلیز ہونے والی تھی، جو لاک ڈاؤن کے باعث نہ ہوسکی۔ اور بھی دو تین پراجیکٹس پائپ لائن میں ہیں۔

س: ایک بھارتی ویب سیریز کے لیے بھی کام کررہے ہیں، اس سے متعلق بھی کچھ بتائیں؟

ج: وہ بھارتی نہیں، پاکستانی ویب سیریز ہے، مگر بھارت کے مقبول ترین "EROS"نامی پلیٹ فارم کے لیے بنائی جارہی ہے۔وہ بھی تقریباً مکمل ہوچُکی ہے۔

س: کامیڈی/ہارر فلم ’’اُدھم پٹخ‘‘عیدالاضحی کے موقعےپر ریلیز ہونا تھی، نہ ہوسکی، کیا فلم سے کچھ بڑی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں؟

ج: ادھم پٹخ میں کام کرکے مجھے بہت مزہ آیا،کیوں کہ بہت کم ڈائریکٹرز اداکار کو اداکاری کے لیے اس قدر آزادانہ ماحول دیتے ہیں کہ وہ جس طرح چاہے، سین پرفارم کرےاور یہ خُوبی ڈائریکٹر، علی سجاد شاہ میں پائی جاتی ہے۔ بہرحال، دیکھیں فلم ریلیز ہوتی ہے، تو عوامی توقعات پر کس حد تک پوری اُترتی ہے۔

س: شادی اپنی پسند سے کی یا…؟

ج: ہماری شادی پسندکی ہے،لیکن مَیں اسے ’’ارینجڈ لَومیرج‘‘ کہتا ہوں۔میری اور ماہم کی تھیٹر سے دوستی ہوئی، جو بعد میں سب کی مرضی سے شادی کے خُوب صُورت رشتے میں بدل گئی۔

س: ماہم بھی شوبز انڈسٹری سے وابستہ ہیں، تو کیا شریکِ زندگی کا ایک ہی فیلڈ سے ہونا ازدواجی زندگی کو زیادہ خوش گوار بناتا ہے؟

ج: اگر میاں بیوی ایک ہی پیشے سے وابستہ ہوں، تو کئی معاملات بہت آسان ہوجاتے ہیں، لیکن مَیں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ شادی اُسی سے کریں، جو آپ کی فیلڈ سے وابستہ ہو۔

س: سُسرال والوں سے تعلقات کیسے ہیں؟

ج: بہت اچھے تعلقات ہیں۔ میری خوش دامن مجھے اپنا بیٹا کہتی ہیں۔ مَیں بھی اُنہیں بالکل اپنی ماں کی طرح چاہتا ہوں اور امّی ہی کہہ کر مخاطب کرتا ہوں۔سالا صاحب بھی چھوٹے بھائیوں کی طرح ہیں۔ہمارے درمیان تکلف کا رشتہ بالکل نہیں ہے۔

س: والدہ اور اہلیہ سے متعلق کچھ خیالات کا اظہار کریں گے؟

ج: مَیں خود کو بے حد خوش قسمت تصوّر کرتا ہوں کہ مجھے ایک عظیم ماں نے اپنی بےپناہ محبّت سےتراش خراش کر پروان چڑھایا۔ آج مَیں جس مقام پر بھی ہوں، اپنی والدہ کی تربیت کی بدولت ہوں اور ماہم، میری بیوی ہی نہیں، بہت اچھی دوست بھی ہے۔ ہم ہر طرح کی بات ایک دوسرے سے شیئر کرلیتے ہیں۔ 

ماہم اچھی طرح جانتی ہے کہ میرے لیے میری ماں کی کیا اہمیت ہے اور امّی بھی میری اور ماہم کی محبت و دوستی کی قدر کرتی ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ امّی اور ماہم دونوں کا ستارہ جدی ہے۔ بعض معاملات میں تو مجھے لگتا ہے کہ مَیں دو نہیں، ایک ہی انسان سے بات کررہا ہوں، جو ایک جیسی فطرت، خیالات رکھتے ہیں۔

س: آپ نےحال ہی میں منعقد ہونے والی ایک ایوارڈتقریب میں پاکستانی اداکاراؤں کے مغربی ملبوسات پر تنقید کی، تو کیا واقعی اس ٹرینڈ کو دِل سے بُرا جانتے ہیں؟

ج: دیکھیں، مَیں جو بھی لکھتا ہوں، وہ میری ذاتی رائے ہے۔ اگر کوئی اسے تنقید کہے، تو مَیں کیا کہہ سکتا ہوں۔ بہرحال، مَیں نے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا ، مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں کہا کچھ، لکھا کچھ جاتا ہے اور وہ بن کچھ جاتا ہے، تو میرے کہنے کا جو مطلب تھا، اسے درست طور پر سمجھا ہی نہیں۔

س: کن فن کاروں،ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کی خواہش ہے؟

ج: ڈائریکٹر نبیل قریشی کے ساتھ کام کی بے حد خواہش ہے کہ وہ ہر بار کچھ نیا لے کر آتے ہیں۔ کمال خان جنہوں نے فلم ’’لال کبوتر‘‘ کی ڈائریکشن دی، ان کے ساتھ بھی کام کا شوق ہے۔ 

مجھے شوبز انڈسٹری میں نئے لوگوں کے ساتھ کام کرنا اچھا لگتا ہے۔ جیسے کئی طلبہ جب اپنے پراجیکٹس میں کام کے لیےمجھ سے بات کرتے ہیں، تو مَیں انہیں کبھی منع نہیں کرتا، بلکہ مَیں عموماً طلبہ سے معاوضہ بھی نہیں لیتا۔

س: شوبز انڈسٹری میں اگر کچھ بدلنے کا موقع ملے تو کیا بدلیں گے؟

ج: مَیں اس انڈسٹری میں ’’احساس‘‘ پیدا کرنا چاہوں گا، کیوں کہ بہت سے لوگوں کو بہت سی باتوں کا قطعاً احساس نہیں ہوتا۔ اگر ہم صرف ایک دوسرے کا احساس ہی شروع کردیں، تو کئی چیزیں بہتر ہوسکتی ہیں۔

س: فیلڈ میں دوست زیادہ بنائے یا دشمن؟

ج: دوست بنائے، نہ دشمن ،کیوں کہ مَیں اس بات کو بخوبی سمجھتا ہوں کہ اس فیلڈ میں دوست یا دشمن نہیں ، صرف کولیگز بنتے ہیں۔

س: ستارہ کون سا ہے، سال گرہ مناتے ہیں؟

ج: میرا ستارہ سنبلہ ہے اور سال گِرہ گھر والوں کے ساتھ صرف کیک کاٹنے کی حد تک مناتا ہوں۔

س: اگر کسی بات سے شدید دُکھ پہنچے تو معاف کردیتے ہیں یا بدلہ لینے پر یقین رکھتے ہیں؟

ج: میری اتنی اوقات نہیں کہ مَیں کسی کو معاف کروں یا بدلہ لوں۔ ہاں خاموشی ضرور اختیار کرلیتا ہوں۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ زندگی ہر طرح کا بدلہ خود لے لیتی ہے۔ اگر آپ آج کسی کے ساتھ اچھا کریںگے، تو کل بدلے میں آپ کو بھی اچھائی ملے گی اور بُرا کرنے پر بُرائی ہی ملتی ہے۔

س: اپنے بارے میں اگر کوئی کڑوا سچ بولنا پڑے تو وہ کیا ہوگا؟

ج: اکثر و بیش تر بہت زیادہ سچ بول دیتا ہوں، جس کی وجہ سے لوگ ناراض بھی ہوجاتے ہیں۔ حالاں کہ دوست احباب بہت سمجھاتے ہیں کہ تھوڑی بہت ڈپلومیسی ہونی چاہیے، مگر کیا کروں، مجھ سے ہوتی نہیں ہے۔

س: اپنے فینز کے لیے کوئی پیغام؟

ج: مَیں اپنے پرستاروں کی محبّتوں کا شُکرگزار ہوں کہ ان کی سپورٹ ہی کی وجہ سے ہماری زندگیاں بھی بہتر ہوجاتی ہیں۔ ہمیں اپنی فیملی بنانے کا بہت شکریہ۔

سنڈے میگزین سے مزید