• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کنٹونمنٹ بلدیاتی انتخابات: ن لیگ اور پی ٹی آئی میں کانٹے کا مقابلہ

چاروں صوبوں میں بارہ ستمبر کو کنٹونمنٹ بورڈز میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات فیصلہ کن مرحلے میں ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں کنٹونمنٹ بورڈز پر اپنی بالادستی قائم کرنے اور اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لئے زبردست انتخابی مہم چلارہی ہیں۔ ملک کے اکتالیس کنٹونمنٹ بورڈز میں سب سے زیادہ پنجاب میں بیس کنٹونمنٹ بورڈز کے زیادہ تر حلقوں میں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز کے درمیان ہی اصل میں انتخابی معرکے ہوں گے۔ 

صوبائی الیکشن کمشنر غلام اسرار خان کنٹونمنٹ بورڈزکے انتخابات کو غیر جانبدارانہ اور شفاف بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لارہے ہیں۔ ان کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر امیدواروں اور افسران کے خلاف بلا امتیاز کارروائیوں سے ووٹرز کا اعتماد بحال ہوا ہے کنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج کئی حکومتی و اپوزیشن اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں ہوں گے، جو کنٹونمنٹ کے انتخابی حلقوں سے کامیاب ہوکر پارلیمانی ایوانوں میں براجمان ہیں۔ 

پنجاب میں لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، واہ، ملتان اور سیالکوٹ کی چھاؤنیوں کے سول علاقوں کی سب سے زیادہ وارڈز میں حکمران جماعت پی ٹی آئی اور مسلم لیگ نواز کے امیدواروں کے درمیان ہی زور دار مقابلے متوقع ہیں۔ لاہور والٹن اور لاہور کینٹ کی بیس نشستوں پر دونوں متحارب جماعتوں کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق اور دیگر جماعتوں نے پانچ سو سے زائد امیدواروں کو انتخابی میدان میں اُتارا ہے۔ لاہور کنٹونمنٹ بورڈ پر ماضی میں کئی دہائیوں سے مسلم لیگ نواز کی بالادستی چلی آرہی ہے۔ 

اس مرتبہ پہلی بار حکمران جماعت پی ٹی آئی نے مسلم لیگ نواز کے مقابلے میں تمام حلقوں میں اپنے امیدواروں کو انتخابی میدان میں نکالا ہے، سابق وفاقی وزیر و پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما ہمایوں اختر خان نے حکمران جماعت کی کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں کامیابی کے لئے دن رات ایک کررکھا ہے، ہمایوں اختر خان کی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم اور ان کے ساتھی اراکین کے انتخابی جوڑ توڑ اور موثر انتخابی حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کا کئی وارڈوں میں بظاہر پلڑا بھاری نظر آرہا ہے جبکہ ان کے حریف مسلم لیگ نواز کے رہنماءسابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مسلم لیگی امیدواروں کی کامیابی کے لئے پی ٹی آئی کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں، تاہم پی ٹی آئی یا مسلم لیگ نواز میں سے لاہور کنٹونمنٹ بورڈ کا فاتح کون ہوگا ، اس کا فیصلہ ووٹرز بارہ ستمبر کو ہونے والی پولنگ میں اپنے ووٹ سے کریں گے۔ کنٹونمنٹ بورڈ ز کے انتخابات کے نتائج خواہ کچھ بھی ہوں ، ان کے متعلقہ حلقوں کی انتخابی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ 

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے فوری بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں کو فوری طور پر اپنے اپنے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا سگنل دیدیا ہے۔ پنجاب حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ہوم ورک بھی شروع کردیا ہے، پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام میں کئی قانونی سقم دور کرکے اِسے قابل عمل بلدیاتی نظام بنانے پر مشاورت جاری ہے، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کے وفاقی و صوبائی وزراءکی ٹیم نے نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے نئی سفارشات تیار کرلی ہیں جو ایک بار پھر قانون سازی کے لئے پنجاب اسمبلی میں پیش کی جائیں گی، اس سے قبل وزیراعظم ان سفارشات کی منظوری دیں گے۔ 

حکومتی وزراء کی ٹیم نے بلدیاتی نظام کے حوالے سے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کی قیادت کے تحفظات کو دور کرکے ضلع کونسلوں کی تشکیل کو نئے بلدیاتی نظام کا حصہ بنادیا ہے جو اس سے قبل صرف تحصیل کونسلوں تک ہی محدود تھا، اب بلدیہ عظمیٰ لاہور کے علاوہ سیالکوٹ، گوجرانوالہ، ملتان، ساہیوال، بہاؤلپور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان اور گجرات کے اضلاع میں ضلع کونسلوں کی بجائے میونسپل کارپوریشنز قائم کی جائیں گی جن کے میئرز اور ڈپٹی میئرز کا براہ راست چناؤ ہوگا جبکہ صوبے کے دیگر پچیس اضلاع میں ضلع کونسلیں اور ان کے نیچے تحصیل کونسلیں ہوں گی۔ 

ان کے سربراہوں کا انتخاب بھی براہ راست ہوگا، بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کا انتخابی جماعتی بنیادوں پر جبکہ کونسلرز کا انتخاب غیر جماعتی بنیادوں پر ہوگا۔ پنجاب کی تینوں اعلیٰ حکومتی شخصیات، گورنر پنجاب چودھری محمد سرور، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی جو کہ بلدیاتی نظام کاوسیع تر تجربہ رکھتے ہیں، انہوں نے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے ذریعے بلدیاتی اداروں کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے سرجوڑ لئے ہیں اور بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے ہر ضلع میں امیدواروں کے ناموں پر غور بھی شروع کردیا ہے۔ 

ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں پنجاب میں دسمبر سے قبل بلدیاتی انتخابات متوقع ہیں اور حکومت بلدیاتی انتخابات کرواکے بلدیاتی اداروں کے انتظامی، مالی اور سیاسی اختیارات نو منتخب بلدیاتی نمائندوں کے سپردکرنے کا ارادہ رکھتی ہے، لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق حکومت اسی سال بلدیاتی انتخابات کرنے میں کامیاب ہوتی ہے یا ماضی کی طرح بلدیاتی نظام میں قانونی پیچیدگیوں کو جواز بناکر ایک بار پھر بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیارکرتی ہے، تاہم وزیراعظم عمران خان اور ان کے پارٹی رفقاءکا خیال ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نئی بلدیاتی قیادت آنے سے پارٹی مضبوط اور مستحکم ہوگی، بلدیاتی اداروں کے فعال ہونے اور اختیارات نچلی سطح تک تقسیم ہونے سے عوام کو ریلیف ملے گا اور بلدیاتی اداروں کے لاکھوں نمائندے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کا ہر اول دستہ ثابت ہوں گے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید