• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان کی مدد کرنے والے ملکوں سے تعاون کریں گے، ملا امیر متقی


افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے کہا ہے کہ جن ملکوں نے افغانستان کی مدد کی ان کے شکر گزار ہیں۔ افغانستان کی مدد کرنے والے ملکوں سے تعاون کریں گے۔ امریکا نے افغان عوام کے ساتھ انتہائی شرمناک اور غیرانسانی برتاؤ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک اور  اسلامی ترقیاتی بینک سے درخواست ہے کہ افغانستان کو ترقیاتی امداد دیں۔

کابل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبوری افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان میں نامکمل پروجیکٹس کی تکمیل کے لیے فنڈنگ بحال کی جائے ڈونر ممالک سے بھی درخواست ہے کہ افغانستان کو ترقیاتی امداد دیں۔

انہوں نے کہا کہ مطلوبہ دستاویز رکھنے والے افغان شہریوں کو بیرون ملک سفر کی اجازت ہے۔ 

عبوری افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ امارت اسلامی نے امریکا سمیت غیر ملکیوں  کے کابل سے انخلاء میں بھرپور تعاون کیا۔ طالبان کی تعریف کے بجائے امریکا نے ہمارے قومی اثاثے منجمد کرکے مشکلات پیدا کیں۔ امریکا سمیت عالمی برادری کو معلوم ہوناچاہیے کہ انتشار کی پالیسی کارگر نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ طالبان افغانستان کے حکمران ہیں، اس حقیقت کو سب کو تسلیم کر لینا چاہیے۔ افغان عبوری حکومت کو تسلیم کرنے سے متعلق منفی اور تعصب پر مبنی پالیسیوں کاخاتمہ ہونا چاہیے۔ 

ملا امیر متقی نے کہا کہ کوشش ہوگی بیرون ملک مقیم افغان مہاجرین اپنے ملک واپس آجائیں۔ جنیوا عالمی کانفرنس میں مدد کا اعلان کرنے والے ملکوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ امداد کا اعلان کرنے والے ممالک کی فراہم کردہ رقم افغان بینک سے مستحقین تک پہنچائی جائے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری سے اپیل ہے کہ صحت، تعلیم اور شہروں میں انفرااسٹرکچر میں مدد کی ضرورت ہے۔ امید ہے عالمی برادری افغانستان کو امداد سیاسی عزائم و مقاصد سےمشروط نہیں کریگی۔ جن عالمی اداروں نے افغانستان میں اپنے منصوبے نامکمل چھوڑے انہیں مکمل کریں۔  تاجر اور سرمایہ کار اپنے کاروبار شروع کریں، خود بھی منافع کمائیں اور عوام کو بھی فائدہ دیں۔ 

عبوری افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ ملک میں بےگھر افراد کو بھی اپنے علاقوں اور گھروں میں آباد کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ضروری نہیں کہ وسیع قومی حکومت میں سابق حکومت کے وزراء کو بھی شامل کیاجائے۔ سابقہ حکومت کے افغان عوام کے مفاد میں طے شدہ تجارتی معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔ افغان عوام کو مدد فراہم کرنے پر پاکستان سمیت تمام دوست ممالک کے شکرگزار ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو کوئی خطرات درپیش نہیں۔ چین کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ 

ملا امیر متقی نے کہا کہ انسانی امداد کو سیاست سے نہ جوڑا جائے۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری سے افغان عوام کو روزگار ملے گا۔ بیرون ملک گئے افغان شہری باحفاظت اور وقار کے ساتھ واپس لوٹ سکتےہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان سے جانے یا آنے والوں کے پاس سفری دستاویزات ہونی چاہئیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید