• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکشن کمیشن کا احترام، سواتی اور فواد کا احتجاج کا اپنا طریقہ، شبلی فراز


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ادارے کی عزت اس کے فیصلوں اور کارکردگی سے بنتی ہے،اعظم سواتی اور فواد چوہدری کے احتجاج کرنے کا اپنا طریقہ ہے۔ حکومت الیکشن کمیشن کا بطور ادارہ اب بھی احترام کرتی ہے ، الیکشن کمیشن کی جانب سے سینیٹ کی کمیٹی میں اعتراضات جمع کرانا غیرمناسب تھا، الیکشن کمیشن کے 37 میں سے 27 نکات اس کے اپنے خلاف ہیں۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی اطلاعات سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ پی ایم ڈی اے کا کوئی مسودہ ابھی تک سامنے نہیں آیا اس کے باوجود ہنگامہ ہورہا ہے، پی ایم ڈی اے کا مسودہ سامنے آنے کے بعد ہی ٹیکنیکل فیڈ بیک دیا جاسکتا ہے،ماہر معیشت محمد سہیل نے کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف سے رابطہ بحال کرنے کی کوشش کررہا ہے، ترسیلات زر اور برآمدات کم ہونے کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالرز سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔ میزبان شاہ زیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اورا لیکشن کمیشن آمنے سامنے آگئے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات الیکشن کمیشن کو اپوزیشن کا ہیڈکوارٹر اور چیف الیکشن کمشنر کو اپوزیشن کا ماؤتھ پیس قرار دے رہے ہیں، آج وہی چیف الیکشن کمشنر حکومت کیلئے قابل قبول نہیں ہے جسے خود حکومت نے نامزد کیا تھا۔ وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ الیکشن کمیشن معزز آئینی ادارہ ہے اسے بغیر جھکاؤ کے فیصلے کرنے چاہئیں،الیکشن کمیشن کو اپنی استعداد کار بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا چاہئیں، سینیٹ اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس کے دوران الیکشن کمیشن کی طرف سے 37 اعتراضات جمع کروانا نامناسب تھا، ووٹنگ مشین کی جانچ پڑتال سے پہلے ہی ای سی پی نے تحفظات کا اظہار کردیا ،الیکشن کمیشن کہتا ہے وہ ٹیکنالوجی کے حق میں ہے لیکن ان کے عمل سے ایسا نظر نہیں آتا، سپریم کورٹ بھی انتخابات میں ٹیکنالوجی کے استعمال کیلئے کہہ چکا ہے۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کسی کا رویہ الگ چیز ہوسکتی ہے الیکشن کمیشن کا بطور ادارہ مکمل احترام کرتے ہیں،کسی بھی ادارے کی عزت اس کے فیصلوں اور کارکردگی سے بنتی ہے، فیصلے حق میں آئیں تو اداروں کی تعریف اور خلاف آئیں تو تنقید یہ طریقہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا ہے، پلڈاٹ، فافن اور یو این ڈی پی کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر لائیو بریفنگ دی گئی تھی، ای وی ایم کے استعمال کا فیصلہ پلڈاٹ نے نہیں پارلیمنٹ نے کرنا ہے، پارلیمنٹ قانون بنائے گی اور متعلقہ ادارے عمل کریں گے۔ شبلی فراز نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کی کہانی 2010ء سے شروع ہے،گیارہ سال گزرنے کے بعد بھی ہمیشہ کہا جاتا ہے کہ وقت کم رہ گیا ہے، الیکشن کمیشن غیرجانبدارانہ فیصلوں سے اپنی متنازع پوزیشن بحال کرسکتا ہے، الیکشن کمیشن کے 37پوائنٹس میں سے 27ان کے خلاف خود چارج شیٹ ہیں،2013ء میں الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی جس پر ہم نے دھرنا دیا تھا،الیکشن کمیشن پچھلے دس ضمنی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا پائلٹ پراجیکٹ کرسکتا تھا، اپوزیشن الیکٹرانک ووٹنگ مشین دیکھے بغیر اسے مسترد کررہی ہے، اپوزیشن اپنے بہترین دماغ لاکر ای وی ایم ٹیسٹ کرلے، اعظم سواتی اور فواد چوہدری نے اپنے اپنے طریقے سے الیکشن کمیشن کے کنڈکٹ پر احتجاج کیا ہے۔ چیئرمین قائمہ کمیٹی اطلاعات سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا کہ ہماری کمیٹی قانون سازی فورم ہے اسی پر اپنی رائے دے سکتی ہے، پی ایم ڈی اے کا کوئی مسودہ ابھی تک سامنے نہیں آیا اس کے باوجود ہنگامہ ہورہا ہے، پی ایم ڈی اے کا مسودہ سامنے آنے کے بعد ہی ٹیکنیکل فیڈ بیک دیا جاسکتا ہے،حکومتی پریزنٹیشن پر کمیٹی کا سوال ہے کہ پی ایم ڈی اے کے مقاصد بہت اچھے ہیں لیکن کیا ان کا حصول ایک میڈیا اتھارٹی بننے کے علاوہ ممکن نہیں ہے، بدھ کو میڈیا کی تمام باڈیز کمیٹی اجلاس میں آرہی ہیں جہاں اس پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ فیصل جاوید خان کا کہنا تھا کہ عمران خان آزادیٴ صحافت اور آزادیٴ رائے پر مکمل یقین رکھتے ہیں، اطمینان رکھیں میڈیا پر کسی قسم کی کوئی قدغن نہیں لگائی جارہی ہے، کمیٹی حکومتی جواب سے مطمئن نہیں ہوئی تو انہیں کوئی اور راستہ دیکھنا ہوگا، ہم چاہتے ہیں صحافتی تنظیموں کی رائے سامنے رکھ کر درمیانی راستہ نکالا جائے، جعلی خبروں کے خاتمے کیلئے بہترین حکمت عملی اپنے قوانین کو مزید مضبوط بنانا ہوسکتی ہے، ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ماہر معیشت محمد سہیل نے کہا کہ ترسیلات زر اور برآمدات کم ہونے کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالرز سے زیادہ ہونے کا خدشہ ہے، پاکستان آئی ایم ایف سے رابطہ بحال کرنے کی کوشش کررہا ہے، آئی ایم ایف ہمیشہ شرح سود بڑھانے اور کرنسی کی قدر گرانے کی شرائط رکھتا ہے، امریکی وزیرخارجہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات کے دوبارہ جائزہ لینے کے بیان نے کرنسی مارکیٹ اور اسٹاک مارکیٹ پر اثر ڈالا ہے۔میزبان شاہ زیب خانزادہ نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت اورا لیکشن کمیشن آمنے سامنے آگئے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات الیکشن کمیشن کو اپوزیشن کا ہیڈکوارٹر اور چیف الیکشن کمشنر کو اپوزیشن کا ماؤتھ پیس قرار دے رہے ہیں، آج وہی چیف الیکشن کمشنر حکومت کیلئے قابل قبول نہیں ہے جسے خود حکومت نے نامزد کیا تھا، الیکشن کمیشن نے وفاقی وزراء کے الزامات کی پرزور انداز میں تردید کرتے ہوئے انہیں مسترد کردیا ہے، الیکشن کمیشن نے اعظم سواتی اور فواد چوہدری کے الزامات پر ان سے ثبوت مانگنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید