• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قرۃ العین

ماں باپ اپنے بچوں کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردیتے ہیں اور اپنی خواہشوں کی قربانیاں دے کر اپنے بچوں کو دنیا میں چلنے کے قابل بناتے ہیں، مگر وہی اولاد بوڑھے ماں باپ کو سنبھالنے کے بھی قابل نہیں ہوتی۔ باہر کے ممالک میں اولڈ ہومز پر پہلے لوگ افسوس کرتے تھے، مگر اب ایسے اولڈ ہومز کی تلاش کی جاتی ہے، تا کہ اپنے بوڑھے ماں باپ کو وہاں چھوڑ کر خرچہ بچا سکیں۔ 

یعنی جب والدین فائدہ پہنچانے کے قابل نہ رہیں تو اولاد کے لئے وہ بے کار ہو جاتے ہیں۔ معاشرے کی انہی خامیوں کو دیکھتے ہوئے ایسی قانون سازی کی اشد ضرورت محسوس ہوئی، جس کے ذریعے سے بوڑھے افراد کو ظلم و ستم سے بچایا جا سکے۔ اسی لئے صدر پاکستان نے تحفظ والدین آرڈی نینس 2021ء جسے انگریزی زبان میں "Parents Protection Ordinance 2021" کہا جاتا ہے پورے ملک میں نافذ کر دیا۔ آرڈی نینس سے مراد ایک خاص قانون ہوتا ہے جو صدر پاکستان1973ء کے آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ملک میں نافذ کرواتے ہیں ۔

ایسے قانون کو آرڈی نینس کہا جاتا ہے۔ تحفظ والدین آرڈی نینس 2021ء کا بل سینٹ میں منظور ہوا اور اس کا اطلاق پورے ملک میں کر دیا گیا۔ اس آرڈی نینس کا پہلا اور سب سے اہم مقصد بچوں کی جانب سے والدین کو زبردستی گھروں سے نکالنے کے خلاف تحفظ فراہم کرنا ہے۔ کچھ ایسے معاملے بھی دیکھنے میں آئے کہ گھر ہوتے ہوئے بھی بوڑھے والدین اس میں نہیں رہتے۔ وہ اپنی کمزوری و بے بسی کی بناء پر کچھ نہیں کر سکتے۔ 

اب اس آرڈی نینس کے تحت والدین کو گھروں سے نکالنا قابل سزا جرم ہے، جس کی سزا ایک سال تک سزائے قید، جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جاسکتی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گھر اگر بچوں کی ملکیت ہو یا نہ ہو اور وہ کرائے کے گھر میں رہ رہے ہوں تب بھی وہ والدین کو اس مکان سے نہیں نکال سکتے۔ 

اس شق کے ذریعے والدین کو مکمل تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب تک بچوں کو والدین سے لالچ ہوتا ہے وہ ان کی خدمت کرتے ہیں اور جیسے ہی جائیداد ان کے نام ہو جاتی ہے وہ والدین کو برداشت کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتے۔ اب اس آرڈی نینس کے بعد کسی بھی صورت میں اولاد کو حق حاصل نہیں ہو گا کہ وہ اپنے والدین کو گھر سے نکال کر اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو جائیں اور اگر گھر والدین کے نام ہو تو ان کو اختیار ہو گا کہ وہ اپنے بچوں کو گھر سے نکال سکتے ہیں۔ 

اس کے ساتھ ہی جیسے ہی والدین بچوں کو تحریری نوٹس دیں تو ان کو لازمی گھر خالی کرنا ہو گا۔ اگر اولاد کسی دوسرے شہر میں رہتی ہو یا اس گھر کے علاوہ کہیں رہتی ہو تو یہ نوٹس بذریعہ رجسٹری ار سال کیا جائے گا اور رسید بطور ثبوت اپنے پاس رکھنی ہو گی یہ اس بات کا ثبوت ہو گا کہ والدین نے بچوں کو گھر سے نکلنے یا گھر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ نوٹس ملنے کے بعد فوری طور پر وہ بچے گھر خالی کریں گے۔ ورنہ 30 دن کی قید، جرمانہ یا دونوں سزائوں کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ 

اگر والدین کے نوٹس ارسال کرنے کے باوجود بچے گھر نہ چھوڑیں یا پھر ان کو نکالنے کی کوشش کریں تو ضلعی ڈپٹی کمشنر درخواست موصول ہونے پر فوری کارروائی کرنے کا مجاز ہو گا والدین براہ راست پولیس کو بھی شکایت کر سکتے ہیں اور اس ضمن میں پولیس کو بغیر وارنٹ گرفتاری کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اگر بچوں کو اعتراض ہو تو وہ اپیل کر سکتے ہیں۔ والدین اور بچے دونوں عدالت میں اپنا مقدمہ لے جا سکتے ہیں اور اگر بچے محسوس کریں کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو وہ اپنا مقدمہ عدالت میں لے جانے کے لئے آزاد ہیں۔

پاکستان کی عدالتیں پہلے بھی اپنے فیصلوں میں یہ بارہا کہہ چکی ہیں کہ اگر والدین بوڑھے ہو جائیں اور بیٹا کماتا ہو تو والدین بیٹے کے اوپر نان و نفقہ کا کیس دائر کر سکتے ہیں۔ جیسے اولاد اپنا خرچہ والد سے لینے کے لئے مقدمہ کرنے میں آزاد ہے۔ ایسے ہی بوڑھے والدین بھی اپنی اولاد سے خرچہ وصول کر سکتے ہیں۔ ماں باپ کو نان و نفقہ دینا اولاد کا فرض ہے چاہے بیٹے کی مالی حالت اچھی نہ بھی ہو تب بھی وہ والدین کی ذمہ داری اٹھانے کا پابند ہے۔

اس آرڈینینس کے آنے سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ جو بوڑھے والدین اپنی چھت ہونے کے باوجود اولاد کے ہاتھوں گھروں سے نکال دیئے جاتے ہیں ،انہیں تحفظ ملے گا اور جن کا کوئی گھر نہیں ان کی اولاد کو پابند کیا جاتا ہے کہ اپنے والدین کو اپنے گھروں میں رکھیں۔ بلاوجہ بوڑھے والدین کو اولڈ ایج ہاؤس میں چھوڑ دینے والی اولاد کسی بھی رحم کی مستحق نہیں ہوتی۔ اس ضمن میں کارروائیوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔