• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1988 آوخر میں کراچی میں عموماَ لوگ ایک دوسرے سے بات کرتے میں احتیاط کیا کرنے تھے ۔اُس وقت والدہ سے روزانہ کرائے اور کھانے کی مد میں 10 روپے ملتے تھے۔ میں پہلے دس نمبر لیاقت آباد آتا پھر وہاں سے ماچس جیسی U9 میں لیبارٹری والے اسٹاپ پر اترتا ۔ اس وقت واحد U9 ماچس نما ویگن ہی لیبارٹری سے لیاقت آباد دس نمبر آیا جایا کرتی تھی ۔ اس کا آخری اسٹاپ خیابان اتحاد کے لئے مڑنے والے کونے کے قریب موجود ایک کھلے میدان میں تھا ۔

مجھ جیسے طویل القامت کے لئے صبح و شام U9 میں جھک کر کھڑے ہونا کس قدر مشکل تھا یہ میرا خدا ہی جانتا ہے ۔ دو تین ویگنوں کو چھوڑنے کے بعد ہی کسی میں اندر ٹھسنے کی جگہ ملتی ۔ کبھی کبھار سیٹ مل جایا کرتی تھی ۔ کچھ رحم دل میری اذیت کو دیکھ کر اپنی سیٹ دے دیا کرتے تھے ۔ دوپہر میں دفتر میں ہی کھانا منگا لیتے یا پھر میں اپنی من پسند بریانی کھانے بنگلوں کے پیچھے اختر کالونی کے ایک ہوٹل چلا جایا کرتا ۔ جہاںچھ روپے کی بیف بریانی ملا کرتی تھی ۔ خاص بات یہ تھی کہ اس میں شامل آلوؤں کو الگ سے ابال کرمسالے میں پکا کر بریانی میں ڈالا جاتا ۔ زندگی میں انواع و اقسام کی بریانیاں کھائی ہیں، مگر اس بریانی کا ذائقہ آج بھی یاد ہے ۔

اختر کالونی کی بریانی ،لالو کھیت کے امرود، ڈبلیو الیون کا سفر نہیں بھول سکتا

6 روپے کی بریانی کھا لی ۔ اب کل بچے 4 روپے جس میں ایک بس اور ایک ویگن کا کرایہ آتے اورواپسی کا دیتا ۔ آخر میں شاید روپیہ ہی بچتا تھا ۔ ایک دن اس وہم نے آلیا کہ ہم دل کی تکلیف کا شکار ہو گئے ہیں ۔ کہیں پڑھا تھا کہ امرود کھانے سے دل مضبوط ہوتا ہے ۔ شام کو واپسی پر U9 سے دس نمبر لالو کھیت اترے ۔ وہاں ٹھیلے پر امرود بک رہے تھے ۔ ایک روپے کے امرود لئے جنہیں بغیر دھوکے ہاتھ سے ہلکے سے صاف کر کے اسٹاپ پر ہی کھڑے ہو کر کھالیے ۔اورویگن W11 میں بیٹھے اور گھر آگئے ۔ اپنے اسٹاپ پراترے تو دل کی تکلیف بھی W11 میں چھوڑ آئے ۔ یہ بچپن اور لڑکپن کی بیماریاں بھی عجیب ہوتی ہیں ۔ صبح ہوتی ہیں اور شام کو خود بخود ختم ہو جاتی ہیں ۔

پہلے صفائی ستھرائی کا تو اتنا خیال کوئی بھی نہ کرتا تھا اور نہ ہی اس زمانے میں اتنی بے حس اور خاموش بیماریاں آئیں تھیں ۔ بیماریاں بھی انسان دوست اور جیب آگاہ ہوا کرتی تھیں اور لوگ بھی عیادت مزاج ہوتے ۔ ایک ہلکا سا بخار ہوتا تو محلہ اور خاندان دیکھنے آجاتاتھا۔ اب تو کوئی ICU میں پڑا ہو تو لوگ ایک کال کرنے کی زحمت نہیں کرتے ۔ پہلے کیا تھا ؟ مریض نے ایک دن دوا پھانکی اور دوسرے دن بھلا چنگا، دس طرح کے ٹیسٹ نہ باہر کی دواوں کی بھرمار ۔ انجکشن لگنا بڑی بات تھی ۔ اب سٹی اسکین ، ایم آر آئی یا بائیو ایپسی ہوجائے تو کوئی بڑی بات نہیں ۔

ہمارے زمانے میں اولاد کو اس بات کی بڑی فکر رہا کرتی تھی کہ گھر کے خرچے میں جہاں تک ممکن ہو اپنا حصہ ڈالیں ۔ سوچیں ہمیں روزانہ دس روپے ملتے اور اس طرح مہینے کے 260 روپے بنتے ۔ ہاں ہفتے کے ہفتے مغز کھانا ہماری واحد عیاشی تھی ۔ جب تنخواہ اچھی ہوئی تو ہمارا کپڑے پہننے کا شوق جاگ اٹھا ۔ یوسف پلازہ کے پچھلے طرف کی دکانوں میں ایک بڑی ٹیلر شاپ تھی ۔ ہم ایک دو دن چھوڑ کر آفس سے جا کر وہاں بیٹھ جاتے اور دو تین گھنٹے گزارتے ۔ وہ گاہکوں کے ناپ لیتا اور ہم رجسٹر میں لکھتے ۔ دنیا جہاں کی باتیں اور ساتھ والے کوئٹہ ہوٹل کی کڑک چائے ، مزا آجاتا ۔ اس ٹیلر شاپ پر مردوں کے مشہور برانڈز لارنس پور وغیرہ کے بغیر سلے کپڑے بھی ملا کرتے ۔ دوستی اتنی بڑھی کہ جب چاہو پینٹ شرٹ سلوا لو اور جب دل چاہے پیسے دے دو ۔

پینٹ سلتے ہی پہلا کام یہ کرتے کہ میچنگ کےموزے لے آتے ۔ کپڑوں کی تعداد دیکھ کر ہماری الماری ہی الگ کر دی گئی ۔ والد صاحب ہمارے اس شوق سے واقف تھے اس لئے کبھی انہوں نے اس پر کچھ نہیں کہا ۔

اب نہ وہ عمر رہی نہ وہ شوق، جو مل گیا وہ پہن لیا ۔ کپڑے سلوائے عرصہ ہو جاتا ہے ۔ بیوی روز کہتی ہے اب ان پینٹ شرٹ میں کچھ نہیں رہا ۔ آفس والے کیا سوچتے ہوں گے ۔ میں چپ ہو کر رہ جاتا ہوں ۔ مہینوں سے سوچ رہا ہوں کہ چار پانچ پینٹیں ایک ساتھ سلوا لوں اور ساتھ سلی سلائی شرٹس خر ید لوں، تاکہ دو تین سال کے لئے جان چھوٹ جائے ۔ پھر سوچتا ہوں یہ سب تو بہت مہنگا پڑے گا ۔ میں تو بہت سستا سا آدمی ہوں ۔ سستے آدمی پر اتنا خرچہ کون کرے ۔