• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیوٹا کی سمت گزشتہ 20 برسوں سے درست نہیں تھی، علی سلمان صدیق


کراچی(ٹی وی رپورٹ)جیو نیوز کے پروگرام ”ایک دن جیو کے ساتھ“میں میزبان سہیل وڑائچ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین ٹیوٹا پنجاب علی سلمان صدیق نے کہا کہ ٹیوٹا کی سمت گزشتہ 20 برسوں سے درست نہیں تھی ۔ وزیراعظم کا ویژن ہنر مند پاکستان کا ہے اس لئے دو سال پہلے انہوں نے میرا تقرر کیا۔ہم 90 ہزار طلبا کو2 لاکھ20 ہزار پر لے گئے۔ٹریننگ کا جو طریقہ کار120 ممالک میں استعمال ہورہا ہے ٹیوٹا پنجاب بھی اس کے اوپر جاچکا ہے۔ہم نے اپنے طلبا کا ایک جاب پورٹل ترتیب دیا ہے۔مجھے وزیراعظم، وزیراعلیٰ ،وزیر صنعت کی مکمل حمایت حاصل ہے ۔اگر میں انتخابات میں کامیابی حاصل بھی کرتا تو وزیراعظم سے درخواست کرتا کہ مجھے کوئی ایسا ادارہ دیں جو ڈویلپمنٹ سے وابستہ ہو۔ آغاز میں والد نے سیاست میں حصہ لینے پر مخالفت کی مگر فیصلہ میرے اوپر ہی چھوڑ دیا۔طاقت آتی ہے تو آپ اس سے تبدیلی لاسکتے ہیں ۔ میں بطور چیئرمین تنخواہ نہیں لے رہا میں نے وزیراعظم سے کہہ دیا تھا کہ میں تنخواہ نہیں لوں گا۔نصرت فتح علی، علی ظفر، عاطف اسلم مجھے بہت پسند ہیں۔میرے والد سینئر بیورو کریٹ رہے ہیں تو میری ٹریننگ بطور بیورو کریٹ ہوئی ہے۔لوبان ورک شاپ چین کا پاکستان کو تحفہ ہے انہوں نے صنعت کے لئے ہمیں روبوٹک لیب دی ہے۔ یہاں آٹو میشن کی ٹریننگ ہوتی ہے ہمارے طلبا پہلے فیز میں یہاں اور دوسرے فیز میں چین میں ٹریننگ لیتے ہیں ۔ہم نے پنجاب کی پہلی اسکل پالیسی بنائی ہے ۔ہم رحیم یار خان کے اپنے بچوں کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا کورس کرایا انہوں نے ایک روبوٹ بنایا۔ٹیوٹا دس ہزار اسٹاف پر مشتمل ہے تقریباً پانچ ہزا ر اساتذہ ہیں ہم 200 سے زائد کورسز کرارہے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید