• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپین کمیشن کی کم آمدنی والے ممالک کیلئے نئی GSP اسکیم کی تجویز

یورپین کمیشن کی جانب سے کم آمدنی والے ممالک میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے نئی جی ایس پی اسکیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

اس اسکیم کا دورانیہ بھی پہلے ہی کی طرح 10 سال کے لیے ہوگا جو 2024ء میں شروع ہو کر 2034ء تک جاری رہے گا۔

اس بات کا اعلان یورپین ٹریڈ کمشنر برائے تجارت والدیس دومبرو وسکس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

نئی آنے والی اسکیم میں اب 6 مزید نکات کا اضافہ کردیا گیا ہے، جس کے بعد جی ایس پی کے امیدوار ملک کو 27 کی بجائے اب 33 نکات پر عمل کرنا ہوگا۔

ان نئے 6 نکات میں معذور افراد اور بچوں کے حقوق کے علاوہ بین الاقوامی منظم جرائم پر کنونشنز اور کیوٹو پروٹوکول کی جگہ موسمیاتی تبدیلی کا پیرس ایگریمنٹ شامل کیا گیا ہے۔

نئی اسکیم میں بھی 3 کیٹگریز شامل ہوں گی۔

1) کم آمدنی یا لوئیر مڈل انکم ممالک کے لیے اسٹینڈرڈ جی ایس پی۔

2) کمزور ممالک کے لیے جی ایس پی پلس، لیکن اس کے لیے انہیں اچھی حکمرانی اور پائیدار ترقی کے لیے وعدے اور اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

3) انتہائی کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے (EBA ایوری تھنگ بٹ آرمز) اسلحہ کے علاوہ سب کچھ شامل ہوگا۔

اس کے علاوہ نئی اسکیم میں جو ملک بھی بین الاقوامی ماحولیاتی اور گڈ گورننس کی خلاف ورزی کرے گا اس سے یہ دی گئی ترجیح واپس لینے کے لیے بھی نیا نظام فعال کر نے کے لیے نئے اقدامات شامل کیے جائیں گے۔

اسی طرح نئی اسکیم میں کیے گئے وعدوں کی نگرانی کا سنگل انٹری پوائنٹس نظام بھی دیا جا رہا ہے اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ اس اسکیم کے ذریعے آنے والی درآمدات یورپین صنعت کو نقصان نہ پہنچائیں۔

یورپین کمیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی اس اسکیم پر اب کونسل اور یورپین پارلیمنٹ کی تائید حاصل کی جائے گی جبکہ اس پر عملدرآمد کا آغاز موجودہ اسکیم کے دسمبر 2023ء کے اختتام کے ساتھ شروع ہوگا۔

اس حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یورپین ٹریڈ کمشنر نے کہا کہ یورپ نے اس خصوصی اسکیم کے ذریعے کمزور ممالک کو یہ سہولت دی ہے کہ وہ بنا کسی ٹیکس یا ڈیوٹی کے اپنی مصنوعات یورپین مارکیٹ میں لا سکیں۔

اسی طرح اسی اسکیم کے ذریعے ہم نے بہت سے ممالک کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے ہاں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات اور اچھی حکمرانی کو فروغ دیں۔

اس اسکیم کے تحت آج 67 ممالک کے ڈیڑھ ارب مزدور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

پاکستان بھی اس وقت جی ایس پی پلس کے تحت اپنے سالانہ ریویو سے گزر رہا ہے۔

اس سے یہ سہولت واپس لینے کے لیے یورپین پارلیمنٹ کی مخصوص لابی کے ذریعے پیش کی جانے والی دو قراردادوں کی پارلیمنٹ کی بھاری اکثریت نے حمایت بھی کر رکھی لیکن اس کے باوجود یہ سب سے بڑی حقیقت ہے کہ یہ اسکیم حاصل کرنے والے ممالک میں سے سب سے زیادہ اگر کسی ملک نے دیئے گئے 27 نکات پر سب سے زیادہ کام کیا ہے تو وہ پاکستان ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید