• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعیدہ افضل

اس روز مجھ کو ایک دوست سے ملنے جانا تھا، گھاٹ پر پہنچا تو ایک ہی کشتی نظر آئی، مگر ملاح موجود نہ تھا۔ البتہ ایک عورت کنارے بیٹھی مچھلی صاف کررہی تھی میں نے پوچھا… ملاح کہاں ہے… مجھے دریا پار جانا ہے۔

بولی… وہ میرا شوہر ہے ،مگر بیمار ہے ورنہ تم کو پار اتار آتا۔ میں نے غور سے اس کی جانب دیکھا… اٹھارہ کا سن تھا اور تیکھے نقوش، دلکش چہرہ، سانولی رنگت اور گھٹا ہوا بدن… میں قدرت کی صنعائی پر کھل اٹھا… یہاں بیاباں میں ایسی پری وش کا تصور بھی نہ کرسکتا تھا۔

ان دنوں کچھ دولت کا نشہ تھا اور کچھ جوانی کا، میں اپنی ذات کے حصار میں قید تھا۔ خود کے سوا باقی ہر شے میرے لئے غیر اہم تھی۔ اس کو دیکھا تو واپس لوٹ جانے کو جی نہ چاہا… صاف کیوں نہ کہوں کہ مجھ کو عورت کے تقدس کا احساس ہی نہیں تھا۔ میرے نزدیک وہ ایک عام سی بک جانے والی ہستی تھی، کیوں کہ میرا ایسی ہی عورتوں سے واسطہ پڑتا تھا… سو عورت ذات سے میرا اعتبار اُٹھ گیا تھا۔

’’سنو میرا ایک بہت پیارا سجن بیمار ہے، مجھ کو ابھی اس کے پاس جانا تھا یہ شاید… اس کا آخری دیدار ہو…‘‘ میں نے عورت کے جذبہ ترحم کو ابھارنے کی کوشش کی۔

وہ تیرا پیارا سجن کون ہے؟

بیوی ہے میری…

اچھا… وہ پریشان ہوگئی، اس نے میری بات کا اعتبار کرلیا… تم کشتی میں بیٹھو، میں ابھی آئی وہ دوڑ کر کڈیا میں گئی اور اپنا ننھا منا بچہ اٹھا لائی۔

بچہ چادر میں لپٹا ہوا تھا، جس کو اس نے کشتی میں لٹادیا اور رسہ کھولنے لگی۔میں کشتی میں بیٹھ چکا تھا، اس نے چپو سنبھال لئے اور ناؤ آہستہ آہستہ دریا کا سینہ چیرنے لگی۔

کیا نام ہے تمہارا…

جانو… اس نے بغیر میری جانب دیکھے جواب دیا… وہ جس تیزی سے چپو چلا رہی تھی یقیناً بہت جلد مجھ کو پار اتارنے والی تھی۔ پھر وہ کشتی کے مکھ پر کھڑی ہوگئی اور ہمت سے دریا کا پانی کاٹنے لگی۔ وہ کچھ گنگنا بھی رہی تھی شاید کہ دریا کو خوش کرنے والا کوئی گیت…

سورج کی سنہری کرنوں میں اس کے کالے شمور بال سانپوں کی کنچلیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ وہ ساری کی ساری سورج کے رنگ میں نہاکر ارغوانی ہوچکی تھی، بلاشبہ وہ اس حسین منظر کی سب سے خوبصورت شے تھی، جس کو میں بے صبری سے تک رہا تھا۔

ہولے ہولے گنگناتے ہوئے اس کے جامنی ہونٹوں نے گیت مکمل کیا تو سفر بھی تمام ہوگیا… اب کنارہ نزدیک آچکا تھا۔ اس نے چپو پانی سے نکال لئے اور مکھ سے اتر آئی۔ تیز رفتاری سے چپو چلاتے رہنے سے شاید وہ تھک چکی تھی اب خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا، اب سستا رہی تھی، کیوں کہ کشتی کنارے لگنے کو تھی، یہی وہ ساعت تھی، جس کا میں ایک منجھے ہوئے شکاری کی طرح، انتظار کررہا تھا۔ میں جانو کو اچانک بے بس کرنا چاہتا تھا، تبھی جیسے کہ اس کی چھٹی حس جاگ اٹھی ہو، اس نے نظر بھر کر میری جانب غور سے دیکھا، بولی… کس خیال میں ہو، کنارہ آچکا، اب اترنے کی کرو… میں کب اترنے کو کشتی میں بیٹھا تھا… سو بیٹھا ہی رہا۔

وہ میرا ارادہ بھانپ گئی… کود کر مکھ پر چلی گئی اور جلدی سے چپو اٹھا کر پانی میں ڈال دیئے… ہوش کر… اتر جا نہیں تو میں نائو کو الٹا پانی میں دھکیل دوں گی۔

میں نے اس کی دھمکی کی پروا نہ کی، بھلا ایسی جگہ ایک کمزور اور بے بس عورت میرا کیا بگاڑ سکتی تھی۔ میں نے کشتی میں رہ کر ہی اس کا تعاقب کرنا چاہا۔ یہ سوچ کر کہ اب ڈر کس بات کا ہے۔ یہاں کوئی نہیں جو اس کی مدد کرے اور دو ہاتھ پر کنارہ ہے۔

جب جانو نے راہ مقر نہ پائی تو اس نے چپو سے مجھ کو پرے دھکیل دیا۔ پھر وہ ناؤ کو تیزی سے مخالف سمت میں دکھیلنے لگی۔ دو بارہ سےدریا کی طرف۔

اسے الٹا مٹ چلا جانتی ہے کہ ہم میں سے طاقت ور کون ہے، میں نے دھمکایا… وہ بولی ۔ابھی پتہ چل جائے گا، پھر ایک لمحہ توقف کئے بغیر اس نے چپو پھینک دیئے اور مجھ پر جست لگادی زخمی شیرنی کی طرح وہ مجھ سے گتھم گتھا ہوگئی۔ 

کشتی ہچکولے کھانے لگی… میں بھی ہانپ گیا جیسے کہ کسی سمندری بلا سے ٹکرا گیا تھا۔ وہ عورت تھی یا کہ قہر تھی۔ کبھی سوچا نہ تھا کوئی عورت اتنی بہادر ہوسکتی ہے میں تو اس کو کمزور ٹہنی سی سمجھا تھا۔ اب جانو سے شکست مان لینا میری توہین تھی، میں نے وہی کچھ کر گزرنے کی قسم کھالی جو اس کو پہلی نظر میں دیکھ کر ٹھان چکا تھا۔

جلد ہی جانو کو یقین ہوگیا وہ مجھ سے جیت نہیں سکتی، تبھی جھپٹ کر اس نے اپنا بچہ اٹھالیا اور بغیر موت کی پروا کئے دریا میں کود گئی۔ میں کشتی میں کھڑا بے بسی سے اس کوخود سے دور جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اب کچھ نہیں کرسکتا تھا وہ میرے ہاتھوں سے بچ نکلی تھی۔

دریا کا پاٹ گرچہ کافی چوڑا تھا پھر بھی میں نے چپو سنبھال لئے، مجھے یقین تھا وہ دریا کو تیر کر پار نہیں کرسکے گی اپنے بچے سمیت ڈوب جائے گی۔ جہاں تک میری نظر نے کام کیا اسے تیرتا ہوا پایا۔ ابھی وہ بیج دریا میں تھی کہ جانو کے شوہر نے اس کو ڈوبتے ہوئے دیکھا۔ اس نے کنارے سے پانی میں چھلانگ لگادی اور جانو کو بچالیا، مگر وہ بچے کو موت کے منہ میں جانے سے نہ بچاسکے۔

وہ غریب ملاح تھے اور میں ایک زمیندار کا لخت جگر وہ بھلا میرا کیا بگاڑ سکتے تھے۔ بچارے رو دھوکر چپ ہوگئے، مگر اس عورت نے مجھے ایسا سبق سکھایا کہ آج تک میں اپنے ضمیر کے سامنے شرمندہ ہوں۔