• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تبدیلی مذہب کے مجوزہ بل کیخلاف ملک بھر میں احتجاج

لاہور (نمائندہ خصوصی،خبر نگار) کل جماعتی اجلاس کے فیصلے اور اپیل پر تبدیلی مذہب کے مجوزہ بل کیخلاف ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔ مجلس احرار کے ترجمان کے مطابق پاکستان شریعت کونسل ، مجلس احرار اسلام پاکستان، جمعیت علماءاسلام ، جماعت اسلامی ، مرکزی جمعیت اہل حدیث ، انٹر نیشنل ختم نبوت مومنٹ، تنظیم اسلامی ،سنی علماءکونسل متحدہ علماءکونسل اسلامی جمہوری اتحاد ،مجلس ارشاد المسلمین اوردیگر جماعتوں کے علماءنے جبری تبدیلی مذہب کے مجوزہ بل کو کھل کرہدف تنقید بناتے ہوئے اسے اسلامی قوانین ، مذہبی و قومی اقدار اور آئین پاکستان سے متصادم قرار دیا اور اعلان کیا کہ اس بل کو کسی صورت بھی حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جائے گا ۔مولانا فضل الرحمن ،سراج الحق، مولانا زاہد الراشدی ،مولانامحمد امجد خان ، حافظ عبدالغفار روپڑی ودیگر رہنماؤں نے کہا کہ امریکہ اوریورپی پارلیمنٹ کے ایما پر ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کے ایجنڈے پر چل رہا ہے ، جبری تبدیلی مذہب کا مجوزہ بل غیر اسلامی اور غیر انسانی ہے ۔صوبائی دارالحکومت میں جمعہ کے اجتماعات میں علماءنے قبول اسلام کیلئے عمر کی حد کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر بل کو مسترد کیااورکہاہے کہ یہ بل خلاف شریعت اور آئین پاکستان سے متصادم ہے ،حکومت اسلامی احکامات سے متصادم قانون سازی کر کے حکومت آئین سے انحراف کررہی ہے،غیر اسلامی و آئینی قوانین کی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کوئی گنجائش نہیں،کلمے کے نام پر بننے والے ملک میں قوم کسی غیر اسلامی اور غیر آئینی قانون کو تسلیم نہیں کرے گی ۔عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنمائوں مولانا عزیزالرحمن ثانی ، مولانا علیم الدین شاکر ،قاری جمیل الرحمن اختر ، مولانا عبدالنعیم ، مولاناحافظ محمداشرف گجر ، قاری عبدالعزیز، قاری ظہورالحق ،مولانا خالدمحموداور قاری ظہورالحق نے خطبات جمعہ میں کہا ہے ہے کہ جبری مذہب تبدیلی بل مکمل طور پر غیر اسلامی ،غیر آئینی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اورشریعت متصادم ہے۔
لاہور سے مزید