• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغان جنگ کے نتائج پر ہمیں الزام نہیں دینا چاہیے، وزیر اعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان میں جنگ کے نتائج پر مورد الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے، ماضی میں پاکستانی حکومتیں اپنے آپ کو جائز تسلیم کرانے کیلئے امریکا کو افغان معاملے پر خوش کرتی رہی ہیں۔

امریکی اخبار میں وزیر اعظم عمران خان کے شائع شدہ مضمون میں ان کا کہنا ہے کہ کانگریس میں امریکی نقصان پر پاکستان پر الزام لگائے جانے پر حیرت ہے، جبکہ دہشتگردی کیخلاف امریکی جنگ کی حمایت کے بعد عسکری گروپس نے پاکستانی ریاست کےخلاف جنگ شروع کردی تھی۔

وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون کے بعد ماضی کے مجاہدین کو دہشتگرد قرار دیا گیا، ہم اپنی بقا کے لئے لڑے، بہترین فوج اور انٹیلیجنس کے باعث دہشت گردی کو شکست دی، نائن الیون کےبعد آنیوالی افغان حکومتیں افغانوں کی نظروں میں مقام پیدا نہ کرسکیں یہی وجہ تھی کہ افغانستان میں بدعنوان اور ناکام حکومت کیلئے کوئی بھی لڑنے کو تیار نہ تھا۔

عمران خان نے کہا کہ کیا 3 لاکھ افغان فورسز کے ہتھیار ڈالنے پر پاکستان پر الزام لگایا جاسکتا ہے،حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے پاکستان پر الزام لگانے کیلئے بھارت کے ساتھ مل کر جعلی خبریں چلائی جاتی رہیں، بےبنیاد الزامات کے باوجود پاکستان نے سرحد کےبائیو میٹرک کنٹرول اور مشترکہ نگرانی کی پیشکش کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپنے محدود وسائل کے باوجود افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگائی، ہمیں اب الزام تراشی کارویہ ترک کردینا چاہیے اور افغانستان کے مستقبل کی جانب دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ درست اقدام یہ ہے کہ افغانستان میں امن کیلئےنئی افغان حکومت کےساتھ تعاون کیا جائے۔

ان کا اپنے مضمون میں مزید کہنا تھا کہ طالبان حکومت اور بین الاقوامی برادری کے درمیان روابط ہر ایک کیلئےمثبت مفادات لائیں گے، اگر ہم نے ماضی کی غلطیوں کو دہرایا تو بڑے پیمانے پر مہاجرین اور دہشت گردی جیسےمسائل بڑھیں گے۔

قومی خبریں سے مزید