• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ڈومیسٹک کرکٹ کو مصنوعی انداز میں چلانے کی کوشش کلب رجسٹریشن کے حوالے سے ڈرامہ کب ختم ہوگا؟

پاکستان کرکٹ بورڈ میں ستمبر 2018 جو تبدیلی آئی تھی اس نے پاکستان کی ڈومیسٹک اور گراس روٹ لیول کی کرکٹ کو بری طرح نقصان پہنچایا ، جس کے اثرات آئندہ دو سالوں میں آ ئیں گے، تین سے چار سال بعد ہم قومی کرکٹ ٹیم کے لئے معیاری کرکٹر ڈھونڈ رہے ہونگے۔

آج پی سی بی سے وابستہ کوچز جو موجودہ ڈومیسٹک ڈھانچے کو صرف کھلاڑیوں کے لئے اس لئے کارآمد بتا رہے ہیں کہ آج کوچز کے پاس جتنے اختیارات ہیں اس سے پہلے کبھی نہیں تھے، کھلاڑیوں کے سلیکشن کی جانچ پڑتال کے لئے ایک منتخب ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن موجود ہوتی تھی جس کی موجودگی میں کوچز اپنی من مانی نہیں کرسکتے تھے مگر اب صورتحال مختلف ہے پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایڈہاک بنیادوں پر صوبائی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے عہدیداران تو نامزد کردئیے ہیں مگر ان کے پاس اختیارات ہیں اور نہ صوبوں کی کرکٹ چلانے کی صلاحیت صوبائی کرکٹ ایسوسی ایشنز میں اگر کسی کھلاڑی کے ساتھ زیادتی ہورہی ہو تو دو کہاں جاکر زیادتیوں کا ازالہ کرائے گا، اس احساس محرومی نے کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا۔

اب کھلاڑی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ عمدہ کارکردگی دکھانے کے باوجود اگر صوبے کی سیکنڈ الیون یا ریزرو کھلاڑیوں میں بھی نام نہیں آ سکتا تو وہ کیا کرکٹ کو جاری رکھے یا خیر باد کہہ کر اپنے خاندان کی کفالت کے لئے کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے ، متوسط گھرانوں کے بچوں کے لئے کھیل کو جاری رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے، آہستہ آہستہ کرکٹ کا کھیل صرف سرمایہ داروں کے بچوں تک محدود ہوکر پاکستان کی تباہی کا سبب بنے گا پی سی بی نے کرکٹ کو بہت محدود کردیا ہے 16 ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن کی جگہ پر چھ صوبائی کرکٹ ایسوسی ایشن تشکیل دی جاچکی ، ڈیپارٹمنٹ کی کرکٹ کو ختم کردیا گیا۔ 

پی سی بی کی موجودہ انتظامیہ خود اپنی سمت کا تعین کرنے سے عاری ہے ، ڈومیسٹک اسٹریکچر تبدیل کر کے تین سال میں کلب کرکٹ کو تباہ و برباد کردیا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ کی انتظامیہ نے پیشگی منصوبہ بندی کے بغیر 19 اگست 2021 کو تمام ریجنل کرکٹ ایسوسی ایشن ، ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن ، ڈیپارٹمنٹل کرکٹ ، کلب کرکٹ اور گراس روٹ لیول کی کرکٹ کو ایک جنبش قلم سے ختم کرکے ڈومیسٹک کرکٹ کو مصنوعی انداز میں چلانا شروع کردیا دو سال میں سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں نہیں آسکا ، صوبائی کرکٹ ایسوسی ایشنز غیر فعال ہیں گراس روٹ لیول کی کرکٹ اکیڈمیز تک محدود ہوکر رہ گئی ہے جبکہ کلب کرکٹ کی تباہی پر پورا پاکستان سراپا احتجاج ہے کلب کرکٹ شہ رگ ہوتی ہے۔ 

موجودہ ڈومیسٹک کرکٹ میں جو کھلاڑی منظر عام پر نظر آرہے ہیں ان کا تعلق کسی ڈیپارٹمنٹ سے تھا یا پھر وہ سیزن 18-2017 تک ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرکے وہ مقامی سطح پر اپنا نام اور مقام بنا چکے تھے ، کلب عہدیدار رجسٹریشن کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہیں، رجسٹریشن کے حوالے سے یہ طویل دورانیے کا ڈرامہ کب تک ختم ہوگا کیونکہ پہلے اور دوسرے فیز کے بعد اب تیسرا فیز جاری ہے اس کے بعد نہ جانے کتنے فیزز اور آئیں گے ، ہ مراحل کلب عہدیداران کے لئے کٹھن اور پیچیدہ ہیں ان مراحل سے گذرنے کے لئے کلب عہدیداران کو کتنی مشکلات سے گذرنا پڑ رہا ہے اس کا اندازہ پی سی بی کے حکام نہیں لگا سکتے۔ 

شایدانہیں کلب رجسٹریشن کے مراحل آسان لگیں مگر ایک کم یا متوسط تعلیمی یافتہ جن کی تعداد ہمارے ملک میں بہت زیادہ ہےان کے لئے کلب رجسٹریشن لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے ہمیشہ کوئی بھی نئی پالیسی لائی جاتی ہے وہ اپنے ملک کی مجموعی صورتحال دیکھ کر آسانیاں پیدا کرنے کے لئے لائی جاتی ہیں مگر کلب رجسٹریشن نے کلب عہدیداران کی پریشانیوں میں حد درجہ اضافہ کردیا ہے، 1999 سے پی سی بی میں ایڈہاک ازم ہے جسے اب نام نہاد جمہوریت کا نام دے دیا گیا ہے اس سے قبل پی سی بی میں شہریار خان کے دور میں کلب آئین 2015 متعارف کرایا گیا تھا جس کے سانچے میں کلب عہدیداران نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو ڈھالا تھا۔ 

پی سی بی کے موجودہ دور میں کلب آئین 2019 متعارف کرادیا گیا ہے اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ اس کہ بعد کلب آئین 2023 متعارف نہیں کرایا جائے گا ، اس وقت کلب عہدیدار ہی سب سے مظلوم طبقہ ہے جسے سسٹم میں رہنے کے لئے کئی مشکلات کا سامنا ہےجس دن یہ مظلوم طبقہ دلبرداشتہ ہوکر گھر بیٹھ گیا پاکستان کرکٹ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ، پی سی بی کلب رجسٹریشن کے تیسرے مرحلے میں اور اس سے قبل جو دو مراحل گذرے ہیں ان پر نظر ثانی کرے تاکہ کلب عہدیداران سکھ کا سانس لے سکیں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید