• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گلوکار ابھیجیت ساونت دولت و شہرت کے باوجود غیرمطمئن کیوں؟

انڈین آئیڈل کے پہلے سیزن کے فاتح بھارتی گلوکار ابھیجیت ساونت نے کہا ہے کہ دولت اور شہرت کی وجہ سے ان کے پاس گھر، گاڑیاں اور محفوظ سرمایہ کاری تو آگئی تھی لیکن وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے مطمئن نہ تھے۔

انڈین آئیڈل کے پہلے سیزن میں جیت کی وجہ سے وہ راتوں رات شہرت کی دوام پر پہنچ گئے تھے۔

ایک انٹرویو میں ابھیجیت ساونت نے کہا کہ اپنے عروج کی بلندی پر پہنچ کر وہ ایک سوٹ کیس تک محدود ہوگئے تھے اور شوز میں شرکت کے لیے تقریباً روزانہ ہی فضائی سفر کرتے تھے۔

ان کے مطابق شیڈول اس قدر مصروف ہوتا تھا کہ وہ کسی دوسرے شو میں جانے کے لیے ایئرپورٹ روانگی سے قبل اپنے گھر کے نیچے گاڑی ہی میں چند گھنٹے کے لیے سوجایا کرتے تھے تاکہ گھر کا سکون محسوس کرسکیں۔

اس سوال پر کہ انھوں نے جو کچھ کمایا اسے بہتر انداز میں انویسٹ کیا، اس پر ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بہترین سرمایہ کاری کی۔ یہ 2008 کا کساد بازاری والا دور تھا، لیکن اس کے باوجود میں نے اپنی بچت کی محفوظ سرمایہ کاری کی، ایک گھر خریدا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیسے کمانے کے لیے کام کرنے کے باوجود  میں اب سمجھتا ہوں کہ یہی میرا سب سے بڑا پچھتاوا ہے۔ 

جب اس پچھتاوے کی وجہ بتانے کو کہا گیا تو ابھیجیت ساونت کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے قبل وہ اپنی موسیقی سے غیر مطمئن تھے۔ لیکن جب آپ پیسے کے پیچھے بھاگتے ہیں تو پھر آپ کو بہت ساری چیزوں جیسے کہ آپ کی صلاحیتوں، موسیقی اور آپ کی معلومات ان سب پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ فلم انڈسٹری میں دکھاوے کا کلچر بہت زیادہ ہے اور وہ بھی اس کا شکار ہوئے، جس کے نتیجے میں انھوں نے ایک مہنگی رولیکس گھڑی خریدی جو کہ میری کلائی میں فٹ بھی نہ تھی۔

یاد رہے کہ وہ اس سال کے اوائل میں ایک تنازع میں اس وقت پھنس گئے تھے جب انھوں نے انڈین آئیڈل کو صلاحیتوں کے بجائے جانبداری پر مبنی شو قرار دیا تھا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید