• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ماحول انسانی مزاج، فکر اور اقدار پر بھی بہت گہرے اثرات چھوڑتا ہے لیکن کراچی کے ماحول نے یہاں کے لوگوں کو چڑچڑا اور بد مزاج بنا دیا ہے۔ جیسا کراچی تھا اب وہ خواب وخیال بن کر رہ گیا ہے۔ یہاں کہ بزرگ موجودہ حالت دیکھ کر پہلے کے کراچی کو یاد کر کے آہیں بھرتے نظر آتے ہیں۔ ادھر صوبہ سندھ میں لوکل گورنمنٹ اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ نے کراچی شہر کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، بلدیہ فنڈز نہ ہونے کا رونا روتی ہے تو صوبائی حکومت اپنی اجارہ داری ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔

 کچرا ، گندگی کے ڈھیر میں قواعد وضوابط کی دھجیاں بھی پڑی ہیں

شہرقائد کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی ہے، شہر میں گندگی، کچرے اور تعفن کی صورتحال اب بحران کی شکل اختیار کر تی جارہی ہے، کئی علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہے۔ جس کی وجہ سے مچھروں کی بہتات سے مختلف بیماریاں پھیلنے لگی ہیں۔کچرے کا ڈھیر اور اس سے اٹھتی بدبو شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ بلدیاتی اداروں کے دفاتر میں شہریوں کی طرف سے بارہا شکائتیں کی جارہی ہیں لیکن کوئی سنے والا ہی نہیں ہے۔ 

 لوگ ان بدبودار بھبھکوں سے اٹے کوڑے کے ڈھیروں کے پاس سے آتے جاتے ‘ سانس لیتے‘ زندگی بسر کررہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شہریوں سے جینے کا حق چھین کر انہیں ان غلاظت کے ڈھیروں میں ہی دفن کر دیا جائے گا۔سیوریج کا نظام بھی مکمل تباہ، سڑکیں ٹوٹی پھوٹی، تعلیمی اداروں کے قریب کچرے اور گندگی کے ڈھیر، جس کی مثال ناگن چورنگی پر قائم ایک اسکول کے برابر میں کچرے کا پہاڑ اوجگھیاں ہیں ۔ بچے اس تعفن زدہ ماحول میں تعلیم حاصل کرہے ہیں ۔ اسکول انتظامیہ کی شکایت پر اب تک کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔

کراچی والے گڑھوں کے درمیان میں سے سڑک تلاش کر کے گاڑی چلاتے ہیں اور اکثر حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ موٹر سائیکل چلانے والے زیادہ ترکمر درد کے مریض ہوگئے ہیں، جن کے پاس گاڑی یا کار ہے وہ سر درد کے مریض ہیں اور جن کے پاس یہ دونوں سواریاں نہیں ہیں وہ یقیناً ذہنی مریض بن گئےہوں گے۔بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ شہری اداروں نے اپنے تمام قواعد و ضوابط بھی کسی کوڑے دان میں پھینک دیے ہیں۔ دفتر سے گھر آتے آتے گرد وغبار میں اٹ جانا معمول بن گیا ہے ۔

کراچی کو کچرے سے پاک اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب کراچی پر اپنا حق جتانے والے تمام ادارے خواہ وہ وفاقی ہوں، صوبائی یا شہری، سب کی ایک ہی پالیسی ہونی چاہیے۔ اپنی اپنی بولی بولیں گے تو اس شہر کی حالت بد ستور ایسی ہی رہے گی۔ کراچی میں سرفہرست مسئلہ شہر میں پیدا ہونے والے کچرے کو اٹھانے اور اسے ٹھکانے لگانے کاہے، جس پر سندھ حکومت نے کئی ارب روپے لگائے۔ لیکن، اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

کنٹریکٹ کمپنیوں کو کئی بار معاوضے کی تاخیر سے ادائیگی کی وجہ سے بھی کچرا اٹھانے کا کام سست روّی کا شکار رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، کراچی میں 12 ہزار ٹن سے زائد کچرا روزانہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن، اس میں سے بمشکل 50 سے 60 فیصد ہی اٹھایا اور باقاعدہ ٹھکانے لگایا جاتا ہے،باقی کچرا شہر کے گلی کوچوں، چوراہوں یا پھر ندی نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے، جس سے وہ نالے برسات کے موسم میں اُبل پڑتے ہیںنتیجتاً بارش کا پانی قریبی آبادیوں، سڑکوں اور گلیوں میں جمع رہتا ہے اور پھر بارشوں میں شہر بھر کا نظام درہم برہم نظر آتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ قانونی طور پر بلدیہ عظمیٰ کراچی اور شہر کی ضلعی میونسپل کارپوریشنز سڑکوں، گلیوں کے ساتھ نالوں کی صفائی ستھرائی کی پابند تو ہیں۔ لیکن بلدیہ عظمٰی کی کچرا اٹھانے والی سینکڑوں گاڑیاں کھڑی کھڑی ناکارہ ہو چکی ہیں یا پھر انہیں چلانے کے لیے ایندھن کے پیسے موجود نہیں۔ اس مد میں ملنے والے فنڈز میں مبینہ کرپشن کی شکایات بھی زبان زد عام ہیں۔معاملہ صرف یہی نہیں، بلکہ کراچی کی انتظامی تقسیم بھی پیچیدہ ہے۔ شہر میں 6 اضلاع کے علاوہ، دیہی کونسلز، پانچ کنٹونمنٹ بورڈز، ریلوے، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر اداروں کی اپنی زمینیں اور وہاں آبادیاں ہیں۔

ان تمام اداروں میں شہریوں کے بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے آپس میں کوئی رابطے یا مشترکہ حکمت عملی کا بھی فقدان ہے۔ادھر شہر میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورت حال کے باعث شہریوں بالخصوص بچوں میں ٹائیفائیڈ، پیٹ میں درد اور اس سے ملتی جلتی بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔آپ دنیا کے بہترین خشبویات کا استعمال کر لیں لیکن جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور ابلتے گندے نالوں کے تعفن کا مقابلہ پھر بھی نہیں کرسکتے۔ 

نہ جانے وہ وقت کب آئے گا جب پھر سے کراچی کی سڑکیں کشادہ اور ہموار ہوں گی، بارش آئے تو شہر گندے پانی کا جوہڑ بننے سے پہلے ہی خشک ہو جائے، اڑتی دھول بیٹھ جائےگی۔ اس شہر کی مثالیں ماضی کی طرح دی جائیں، کیا یہ شہر پھر سے صاف ستھرا ہوجائے۔ کیا ایسا آنے والے وقت میں ہوسکے گا یا صرف خواب ہی رہے گا۔