کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ حکومت کے اتحادی الگ ہوجائیں تو اگلے تین ماہ میں الیکشن ہوجائیں۔
ماہر معیشت خرم شہزاد نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کی وجہ اسٹاک مارکیٹ میں پہلے ہی منفی تاثرات ہیں اور مارکیٹ پریشر میں ہے۔
ن لیگ کے سینئر رہنما رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ حکومت کا شہباز شریف کیخلاف کیس ہی منی لانڈرنگ کا نہیں ہے۔
انہوں نے شہباز شریف پر الزام لگایا کہ کک بیکس لیے اور منی لانڈرنگ سے پیسے باہر بھیجے، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے شہباز شریف اور سلیمان شہباز پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے حکومتی الزامات غلط قرار دیئے، این سی اے نے شہباز شریف اور سلیمان شہباز سے متعلق بیس سال پیچھے تک کی تحقیقات کی۔
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے قائد نواز شریف ہیں پالیسی انہی کی ہوتی ہے، نواز شریف کسی بھی معاملہ پر نتیجے پر پہنچنے سے پہلے پارٹی کے سینئر لوگوں سے مشورہ کرتے ہیں، ن لیگ میں رائے کا اختلاف ہوتا ہے لیکن جب پارٹی فیصلہ کرلے تو سب عمل کرتے ہیں، شہباز شریف ہمیشہ پارٹی میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔
شہباز شریف اپنی رائے کے برعکس فیصلوں پر اسی شدومد سے عمل کرتے ہیں جیسے ان کی اپنی رائے ہو۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آئین کی بالادستی اور ووٹ کو عزت دو کے بیانیہ سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا، اس مقصد کے حصول کی راہ میں حائل قوتیں راستہ چھوڑ دیں تو ہم نے جھگڑا کرنے کی قسم نہیں کھائی ہے، ہم اپنی منزل کے حصول کیلئے سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے، اگر کوئی اس سیاسی و جمہوری جدوجہد کو مزاحمت کہتا ہے تو یہ اس کی چوائس ہے۔
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ اس نالائق ٹیم نے ملک کی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا ہے، یہ ملک کو ایسی دلدل میں پھنسارہے ہیں جس سے نکلنا ناممکن ہوگا، حکومت کے اتحادی الگ ہوجائیں تو اگلے تین ماہ میں الیکشن ہوجائیں، ہم چاہتے ہیں نواز شریف جلد واپس آئیں لیکن ان کی صحت کا مسئلہ زیادہ اہم ہے، پارٹی کا فیصلہ ہے کہ نواز شریف لندن میں سرجری کروائیں،اس کے بعد ڈاکٹرز اگر انہیں اجازت دیں تو ضرور واپس آئیں۔
ماہر معیشت خرم شہزاد نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ 1300پوائنٹس نیچے جانے کے پیچھے امریکی سینیٹرز کے پاکستان مخالف بل کی خبر بڑی وجہ ہے، افغانستان کی صورتحال کی وجہ اسٹاک مارکیٹ میں پہلے ہی منفی تاثرات ہیں اور مارکیٹ پریشر میں ہے، روپے کی قدر کم ہونے کی وجہ سے بھی اسٹاک مارکیٹ میں ہلچل ہے۔
میزبان محمد جنید نے پروگرام میں تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل کنفیوژن کے بعد ن لیگ ایک بار پھر متحرک ہونے کی کوشش کررہی ہے، جہاں ایک طرف اچانک نواز شریف کی واپسی سے متعلق بیانات سامنے آنا شروع ہوگئے تو وہیں حکومت پر دباؤ بھی بڑھایا جارہا ہے۔
اس بار سڑکوں پر احتجاج یا اداروں سے محاذ آرائی کرنے کے بجائے حکومت کے احتساب کے بیانیہ کو تنقید کا نشانہ بنا کر دباؤ بڑھایا جارہا ہے، اس پورے سیاسی منظرنامے کو شہباز شریف لیڈ کرتے نظر آرہے ہیں۔
برطانیہ میں شہبازشریف اور سلیمان شہباز کے اکاؤنٹس کی بحالی کے بعد حکومت اور ن لیگ آمنے سامنے ہے۔