• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رونق جمال

کسی ملک کا بادشاہ جسمانی طور سے معذور تھا، اس کی صرف ایک ٹانگ اور ایک آنکھ تھی، لیکن ذہنی طور پر وہ انتہائی چاق چوبند اور ذہین تھا جس کی وجہ سے اس کی رعایا خوش حال زندگی گزار رہی تھی۔ اس کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ سلطنت کا بادشاہ ہوتے ہوئے بھی سادہ زندگی بسر کرتا تھا۔وہ ضرورت مندوں کے تمام مسائل فوری طور پر حل کرتاتھا۔

ایک روز بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں اپنی اچھی سی تصویر بنوا کر دربار میں لگواؤں۔ اس نے یہ خیال اپنے وزیروں اور مشیروں کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے اس کی تائید کی۔ پھر کیا تھا بادشاہ کے حکم سے تمام ملکی و بیرونی ممالک سے مصوروں کو بادشاہ کی تصویر بنانے کے لئے مدعو کیا گیا۔ 

دنیا بھر سے مصور ،انعام و اکرام کی لالچ میں بادشاہ کے دربار میں پہنچے۔اس نے بھرے دربار میں اپنی اکلوتی ٹانگ پر کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ تمام مصور وں میں سے جس کی بنائی ہوئی تصویر سب سے اچھی ہوگی اس کی تصویر کو نہ صرف دربار میں لگایا جائے گابلکہ اس مصور کو انعام و اکرام کے علاوہ بڑی جاگیر اور شاہی مصور کا عہدہ دیا جائے گا۔

تمام مصور بادشاہ کا ا اعلان سن کر سوچنے لگے کہ بادشاہ سلامت تو پہلے سے ہی ایک ٹانگ سے لنگڑے ہیں جب کہ ان کے چہرے پر ایک آنکھ بھی نہیں ہے،پھر ان کی تصویر کس طرح خوب صورت بنائی جاسکتی ہے۔ اگر ہم نے تصویر بنائی اور وہ پسند نہیں آئی توانعام تو ملنا درکنار ہمیں سخت سزا ملے گی۔ یہ سوچ کر تمام مصور دربار سے اٹھ کرچلے گئے ۔ 

صرف ایک مصور رہ گیا جو انتہائی کم عمر تھا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر بادشاہ کے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا اوراسے سر سے پیر تک دیکھنے کے بعد مسکرا کر بولا، عالی جاہ، میں آپ کی تصویر بناؤں گا ،مجھے یقین ہے میری بنائی ہوئی تصویر آپ کو بے حد پسند آئے گی ،بس مجھے اپنے محل میں ایک کمرہ عنایت فرمادیں جہاں میں سکون کے ساتھ اپنا کام کرسکوں۔ بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ مصور کےرہنے کے لیے محل کے بڑے کمرے میں انتظام کیا جائے۔

رہائش کا انتظام ہونے کے بعد مصور بادشاہ کی تصویر بنانے میں مصروف ہوگیا۔دن رات کی محنت سے جب تصویر بن کر تیار ہوگئی تووہ بادشاہ کے حضور حاضر ہوا اور بتایا کہ ’’ حضور والا،آپ کی تصویر تیار ہے، کل میں دربار میں اس کی نقاب کشائی کرنا چاہتا ہوں، تاکہ آپ کےتمام وزیر ،مشیر،جاگیر دار، نواب اورامراء میری بنائی ہوئی تصویر کو دیکھیں۔ دوسرے روز دربار کھچا کھچ بھرا تھا، مصور بھی ایک بڑے کپڑے میں لپٹی تصویر لیے دربار میں موجود تھا۔سب کی نظریں تصویر دیکھنے کے لیے بے تاب تھیں۔ 

مصور نے بادشاہ سے اجازت طلب کرکے تصویر سےکپڑا ہٹایا تو دربار میں موجود ہر شخص دنگ رہ گیا۔ بادشاہ نے جب اپنی تصویر دیکھی تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا، اس نے آگے بڑھ کر مصور کو گلے لگا لیا۔ مصور نے دکھایا تھا بادشاہ ایک پیر موڑ کر زمین پر بیٹھا ہے۔ دونوں ہاتھوں میں بندوق ہے اور وہ ایک آنکھ بند کرکے سامنے کھڑے شیر کونشانہ بنارہا ہے۔ بادشاہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا کہ مصور نے کس خوبصورتی سے اس کی جسمانی خامیوں کو چھپاتے ہوئے اس کے جاہ و جلال کو اجاگر کیا ہے۔ اس نے وعدے کے مطابق مصور کو انعام و اکرام کے علاوہ بڑی جاگیر بھی عطا کی اور اسے شاہی مصور کا عہدہ بھی عطا کیا۔