• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوشل میڈیا، عوام اور ہمیں معلوم ہے پارٹی میں غدار کون ہے: علیمہ خان

علیمہ خان---فائل فوٹو
علیمہ خان---فائل فوٹو

پی ٹی آئی رہنما علیمہ خان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا اور عوام کو معلوم ہے کہ پارٹی میں غدار کون ہیں اور ہمیں بھی مکمل معلومات حاصل ہیں۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے بھائی کا مسئلہ ہے، بانئ پی ٹی آئی ہی سیاست میں سرگرم ہیں، اب ہم اپنے بھائی کے لیے کھل کر بات کریں گے اور محسن نقوی جو مرضی کریں، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

علیمہ خان نے کہا کہ پارٹی رہنما جو مرضی کہیں، ہم اب اپنے بھائی کے لیے بولیں گے، ہمیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ پارٹی میں کیا ہو رہا ہے اور قیادت مکمل طور پر خاموش ہے، پارٹی کے وکلاء اور ممبرانِ اسمبلی خود کہتے ہیں کہ ووٹ بانی کا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بانی نے ہمیشہ کہا تھا کہ یہ ایک نظریاتی جماعت ہے، اس لیے محسن نقوی کے خلاف بیان سے پارٹی کا تقسیم ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، چند افراد اگر بیان دیں تو اس سے پارٹی کو نقصان نہیں پہنچتا۔

بانیٔ پی ٹی آئی کی ہمشیرہ نے کہا کہ بانی نے وکلاء کو کئی بار کہا کہ کیسز لگائیں، لیکن چیئرمین،وکلاء اور ایم این اے کیسز تک نہیں لگوا سکے اور نہ نظر آتے ہیں، بیرسٹر گوہر پارٹی چیئرمین بن گئے، مگر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیسز تک نہیں لگوا سکے۔

 علیمہ خان نے بیرسٹر گوہر، لطیف کھوسہ اور بیرسٹر علی ظفر سے سوال کیا کہ وہ کہاں ہیں اور کیسز کیوں نہیں لگوا رہے؟

علیمہ خان نے کہا کہ محسن نقوی کے بیان کا جواب نہیں دیا گیا اور وہ ہمیں قصور وار قرار دے رہے ہیں، سرکاری ڈاکٹرز پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے جبکہ ہمارے ڈاکٹرز موجود ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اب پارٹی اس معاملے میں کچھ کرے، اس دن محسن نقوی سے معلوم ہوا کہ بیرسٹر گوہر جیل جا رہے ہیں،  ہمیں محسن نقوی سے اپنے اہلِخانہ کی معلومات ملیں گی یا اپنی پارٹی سے؟

علیمہ خان نے مشاورتی کمیٹی کے حوالے سے کہا کہ میری رائے اور مرضی کے بغیر کوئی کمیٹی منظور نہیں اور نہ ہو سکتی ہے، بانی کی صحت سے متعلق کسی بھی کارروائی یا فیصلے کے لیے میری مشاورت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے رہنما اکیلے فیصلے کر رہے ہیں اور اہلِ خانہ کو معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، بیرسٹر گوہر پہلے ملاقات کرتے تھے اور بعد میں ہمیں اطلاع دیتے تھے، جبکہ حامد خان سینیٹر بننے کے بعد نظر ہی نہیں آئے۔

قومی خبریں سے مزید