بات چیت … عالیہ کاشف عظیمی
عکاسی: اسرائیل انصاری
دُنیا بَھرمیں ہرسال آرتھرائٹس اینڈ رہیموٹزم انٹرنیشنل(Arthritis and Rheumatism International) کے زیرِ اہتمام12اکتوبر کو ’’آرتھرائٹس کا عالمی یوم‘‘ منایا جاتا ہے۔ یہ دِن منانے کا آغاز1996ء سے ہوا۔ بعدازاں، ہر سال مختلف تھیمز یا سلوگنز کے ساتھ باقاعدگی سے منایا جانے لگا۔ اِمسال کا تھیم"It's In Your Hands, Take Action" ہے۔
آرتھرائٹس کامرض ہڈیوں کے جوڑمتاثر کرتا ہےاوراگر اس کی بروقت تشخیص نہ ہو، تو جوڑ اس حدتک متاثر ہوجاتے ہیں کہ بعض اوقات نوبت معذوری تک آجاتی ہے۔یہ مرض پوری دُنیا میں عام ہے، مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس سے متعلق معلومات کا فقدان ہونے کے باعث عموماً جوڑوں کے درد کو کام کی زیادتی تصوّر کرکے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔حالاں کہ اگر یہ مرض ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوجائے تو اس پر قابو پایا جاسکتا ہے، بصورتِ دیگر مرض کی شدّت بڑھ جاتی ہے۔
لہٰذا اس یوم کی مناسبت سے ہم نے معروف آرتھو پیڈک سرجن، ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مسعود عُمر سے بات چیت کی۔
ڈاکٹر مسعود عُمرنے آغا خان یونی ورسٹی اسپتال، کراچی سے1991ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اِسی اسپتال سے 1992ء میں ایک سال کی انٹرن شپ کی اور نومبر 1992ء میں بطور ریذیڈنٹ (جی۔ سرجری) ملازمت کا آغاز کیا۔ ایک سال بعد 1993ء میں ریذیڈنٹ (آرتھوپیڈکس) ، جون 1996ء میں چیف ریذیڈنٹ اور1997ء میں جونئیر انسٹرکٹر مقرّر ہوئے۔ بعد ازاں،1999ء میں بطور سینئر انسٹرکٹر خدمات انجام دیں۔2004ء میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہوئےاور2009ء میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کا منصب سنبھال لی۔
اس وقت شعبۂ آرتھوپیڈکس کے سربراہ ہیں۔ ڈاکٹر مسعود نے دورانِ ملازمت 1998ء میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز، پاکستان سےایف سی پی ایس (آرتھوپیڈکس)اور 2008ء میں یونی ورسٹی آف سنگا پور سے ڈپلوما اِن بون بینکنگ(Diploma In Bone Banking) کیا۔ اس کے علاوہ 2000ء میں نیشنل یونی ورسٹی اسپتال، سنگاپور سےآرتھرو اسکوپی اینڈ جوائنٹ ری پلیسمنٹ، 2003ء میں روس سے ilizarov surgery، 2004ء میں یو ایس اے سے وزیٹنگ کلینکل، آرتھو پیڈک اونکولوجی اور2007ء میں اٹلی سےآرتھوپیڈک اونکولوجی کی اسناد بھی لیں۔ مختلف مُمالک کا کلینکل تجربہ بھی حاصل ہے۔نیز، شعبۂ طب میں ان کی خدمات پر کئی مُلکی و غیر مُلکی ایوارڈز سے بھی نوازا جا چُکا ہے۔
ڈاکٹرمسعود عُمر سے ہونے والی گفتگو کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔
س: جوڑوں کے امراض کی پچاس سے زائداقسام ہیں، جن میں آرتھرائٹس بھی شامل ہے، تو اس مرض میں درحقیقت ہوتاکیا ہے؟
ج: آرتھرائٹس کے مرض میں ہڈیوں کےجوڑ متورّم ہوجاتے ہیں، جس کے باعث جوڑوں کو حرکت دینے میں شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ دراصل جوڑ دو یا زائد ہڈیوں کے ملنے سے بنتے ہیں، جن کے درمیان کارٹیلیج(Cartilage)نامی نرم ملائم کُرکُری ہڈی پائی جاتی ہے، جس کا کام ہڈیوں کے سِروں کو رگڑنے اور گِھسنے سے بچانا ہے۔اس مرض میں کارٹیلیج کی کارکردگی بتدریج متاثر ہونے کے سبب ہڈیوں کے کنارے آپس میں رگڑ کھانے لگتے ہیں، نتیجتاً درد، سُوجن اور سختی کی وجہ سے گُھٹنے کی حرکت کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے۔
س:’’ورلڈ آرتھرائٹس ڈے‘‘ کے لیےامسال کا تھیم "It's In Your Hands, Take Action" ہے، تو اس تھیم کے انتخاب کی کیا وجہ ہے؟
ج: یہ بات سو فی صد درست ہے کہ آرتھرائٹس سے محفوظ رہنا ، ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔دراصل موجودہ دَور میں طرزِ زندگی آرام طلب ہو چُکا ہے۔ ذرا سے فاصلے تک جانے کے لیے پیدل نہیں چلا جاتا۔ ہم میں سے کئی افراد ورزش نہیں کرتے۔ پھر فاسٹ فوڈز کے استعمال سےموٹاپے کی شرح بڑھ رہی ہےاور موٹاپا جوڑوں پر اثر انداز ہوکر آرتھرائٹس کا سبب بن رہاہے۔
تو یہ تھیم منتخب کرنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم صحت مندانہ طرزِ زندگی اپنائیں، جسمانی سرگرمیاں اختیار کریں، وزن نہ بڑھنے دیں۔ حادثات سے بچیں۔ باقاعدگی سے ورزش کی عادت ڈالیں، متوازن غذا کا استعمال کریں، صُبح و شام کے مخصوص اوقات میں کچھ دیر دھوپ میں بھی بیٹھیں۔تو یہ تمام امور ہمارے اپنے اختیار میں ہیں، جن پر عمل کرکے ہم آرتھرائٹس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
س: پاکستان میں اس مرض کی شرح کیا ہے؟
ج: پاکستان میں اس حوالے سے باقاعدہ طور پر کوئی اسٹڈی تو نہیں ہوئی۔البتہ میرے تجربے کے مطابق ہمارے یہاں کمر اور گُھٹنوں کے آرتھرائٹس کی شرح زیادہ ہے۔ پھر لاک ڈاؤن میں موٹاپے کی شرح میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا ،جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک دو سال سے آرتھرائٹس کے کیسز زیادہ تعداد میں رپورٹ ہورہے ہیں۔
س: یہ مرض اس قدر عام کیوں ہورہا ہے،لاحق ہونےکی وجوہ کیا ہیں اور کون سے ایسے عوامل ہیں، جو اس کی شدّت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں؟
ج: مرض عام ہونے کی عمومی وجوہ میں باقاعدگی سے ورزش یا چہل قدمی نہ کرنا، ناقص غذا اور ذہنی دبائو جیسے محرّکات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کبھی گھٹنے میں کوئی چوٹ لگ گئی ہو یا والد یا والدہ میں سے کوئی اس مرض کا شکار ہو تو بھی آرتھرائٹس کا مرض لاحق ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
چوں کہ آرتھرائٹس کی کئی اقسام ہیں، تو اس اعتبار سے مرض کی شدّت میں اضافے کی وجوہ بھی الگ الگ ہیں۔ جیسے گٹھیا کے مرض میں جو آرتھرائٹس ہی کی ایک قسم ہے،یورک ایسڈ بڑھانے والی غذاؤں کا (گائے کا گوشت، کلیجی، گُردے، دالیں وغیرہ)استعمال شدّت کا سبب بنتا ہے۔
س: آرتھرائٹس کی کتنی اقسام ہیں اور کون سے قسم زیادہ شدید ثابت ہوسکتی ہے؟
ج: آرتھرائٹس کی 50سے زائد اقسام ہیں۔تاہم، ہمارے یہاں ان میں سب سے عام آسٹیو آرتھرائٹس (Osteo Arthritis)،رہیوماٹائڈ آرتھرائٹس (Rheumatoid Arthritis) اور گٹھیا ہیں۔ آسٹیو آرتھرائٹس جوڑوں کی چکنائی کم ہونے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے ،جو50سال سے زائد عُمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ زیادہ تر کیسز میں مریض کےکندھے، ہاتھ، پیر، کولھے، گھٹنے، ریڑھ کی ہڈی، گردن اور پشت والے جوڑ متاثر ہوتے ہیں۔
واضح رہے، فربہی مائل افراد میں گھٹنے کے آسٹیو آرتھرائٹس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ رہیوماٹائڈ آرتھرائٹس جوڑوں کی جھلّی کی سوزش کاعارضہ ہے، جس میں جوڑ کی جھلّی متوّرم ہو کر کارٹیلیج کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔
یہ مرض ہر عُمر کے افراد حتیٰ کہ بچّوں کو بھی اپنا شکار بناسکتا ہے۔ گٹھیا کا مرض یورک ایسڈ بڑھنے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے،جو جوڑوں کی سوزش کا سبب بنتا ہے۔ اس مرض کے لاحق ہونے میں بھی عُمر کی کوئی قید نہیں۔ ان تینوں میں سے سب سے شدید قسم رہیوماٹائڈ آرتھرائٹس ہے، جو زیادہ تر ہاتھوں، انگلیوں اور گھٹنوں کے جوڑ متاثر کر کے ان میں ٹیڑھا پَن پیدا کردیتا ہے۔اگر انگلیوں کے جوڑ متاثر ہوجائیں تو انگلیاں اس حد تک ٹیڑھی میڑھی اور بدوضع ہوجاتی ہیں کہ روزمرّہ امور انجام دینا دشوار ہوجاتا ہے۔
س: کیا آرتھرائٹس کا موروثیت سے بھی کوئی تعلق ہے اور یہ کس عُمر کے افراد کو زیادہ متاثر کرتا ہے؟
ج: اگر رہیوماٹائڈ آرتھرائٹس فیملی ہسٹری میں شامل ہو تو اہلِ خانہ میں سے کسی بھی فرد کے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، مگر اس کا موروثیت سے کوئی تعلق نہیں۔ صرف آسٹیو آرتھرائٹس بڑھتی عُمر کا عارضہ ہے، جو 50 سال سے زائد عُمر کے افراد کو متاثر کرتا ہے۔ اس کے علاوہ باقی اقسام میں عُمر کی کوئی قید نہیں۔
س: مرض کی ابتدائی علامات کیا ہوسکتی ہیں، کیااس مرض کی تشخیص سہل ہے اور کیا مرض کو ابتدائی مراحل پر کنٹرول کرنا ممکن ہے؟
ج: آرتھرائٹس کی ابتدا درد سے ہوتی ہے۔بعض کیسز میں بیٹھ کر اُٹھتے ہوئے درد محسوس ہوتا ہے، تو بعض افراد کو چلتے ہوئے جوڑوں میں درد ہوتا ہے۔ دوسری علامت جوڑوں کی سُوجن ہے۔ پھر کام کی صلاحیت بھی متاثر ہونے لگتی ہے۔
یعنی اگر پہلے چار پانچ سیڑھیاں آسانی سے چڑھ، اُتر سکتے تھے، تو مرض لاحق ہونے کی صُورت میں سیڑھیاں چڑھنا، اُترنادشوار امر بن جاتا ہے۔ عام انداز سے نماز پڑھنے میں بھی دقّت پیش آتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علامات میں جوڑوں کی کم زوری، حرکت کا محدود ہو جانا، زیادہ چلنے کے بعد اور رات سوتے ہوئے شدید درد ہونا وغیرہ شامل ہیں۔
مرض کی تشخیص کے لیے عام ایکس رے تجویز کیا جاتاہے، جس کے ذریعے ہڈیوں کے سِروں کو باآسانی گِھسا ہوا دیکھا جاسکتا ہے۔اگر آرتھرائٹس کی تشخیص ابتدا ہی میں ہوجائے، بروقت علاج بھی کروالیا جائے اور رسک فیکٹرز سے بھی احتیاط برتی جائے تو اس مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ تاہم آسٹیوآرتھرائٹس کو ریورس نہیں کیا جاسکتا، البتہ مرض بڑھنے کی رفتار ضرور کم کی جاسکتی ہے۔
س: علاج کے جدید ترین طریقے کون کون سے ہیں اور سب سے مستند طریقۂ علاج کیا ہے؟
ج: آرتھرائٹس کے علاج کے کئی طریقے مستعمل ہیں، جو مرض کے درجات جانچ کر تجویز کیے جاتے ہیں۔ اگر مرض پہلے اور درمیانے درجے میں ہو تو پی آر پی (Platelet Rich Plasma) انجیکشن بہت اچھے نتائج دیتا ہے،لیکن ایڈوانس اسٹیج پر یہ طریقہ ٔ علاج مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ جوڑ کے اندر چکنائی بڑھانے والےمخصوص انجیکشنز بھی لگائے جاتے ہیں اور بعض کیسز میں ادویہ بھی تجویز کی جاتی ہیں۔
تاہم ،ان سب میں سرجری یعنی کولھے یا گھٹنے کی ری پلیس منٹ سب سے مستند طریقۂ علاج ہے۔حالاں کہ یہ ایک پیچیدہ آپریشن ہوتاہے، مگر اس کے90فی صد تک اچھے نتائج آتے ہیں۔ آپریشن کے دوسرے یا تیسرے دِن مریض اپنے پیروں پرکھڑا ہوجاتا ہے۔ پھر ایک دو ماہ واکر کے ذریعے اور اُس کے بعد بغیر کسی سہارے کے چلنے لگتا ہے۔
س: آرتھرائٹس کے لیے جدید طریقۂ علاج’’اسٹیم سیل تھراپی‘‘بھی موجود ہے، تو کیا ہمارے یہاں اس کی سہولت دستیاب ہے؟
ج: یہ ایک اچھا طریقۂ علاج ہے، مگر بہت منہگا بھی ہے، اس لیے ہمارے یہاں اس کے سینٹرز بھی گِنے چُنے ہی ہیں۔ فی الحال یہاں یہ سہولت میسّر نہیں، لیکن جلد ہی ہمارے اسپتال میں بھی اسٹیم سیل تھراپی کا آغاز کردیا جائے گا۔
س: Platelet Rich Plasma سے متعلق بھی کچھ بتائیں؟
ج: کسی بھی فرد کےپلازما میں کثیرتعداد میں پلیٹ لیٹس پائے جاتے ہیں،جن میں کئی اقسام کے گروتھ فیکٹرز موجود ہوتے ہیں، جو ٹشوز کی نشوونما میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس طریقۂ علاج میں مریض کا اپنا ہی خون استعمال ہوتا ہے، جسے ایک خاص عمل سے گزار کر انجیکشن کی صُورت میں متاثرہ حصّے میں لگا دیا جاتا ہے۔
چوں کہ اس طریقۂ علاج میں مریض ہی کا خون استعمال ہوتا ہے، تو وہ ضمنی اثرات سے بھی محفوظ رہتا ہے۔ واضح رہے، پی آر پی صرف جوڑوں ہی کے امراض کے لیے نہیں، کئی اور امراض کے علاج میں بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔
س: آرتھرائٹس سے بچّوں کے متاثر ہونے کی کیا شرح ہے؟
ج: جیسا کہ پہلے بتایا گیا کہ بچّے رہیوماٹائڈ آرتھرائٹس ہی سے متاثر ہوسکتے ہیں، لیکن اس کی شرح بھی خاصی کم ہے اور اگر بچّوں میں مرض ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوجائے تو ادویہ سے علاج بھی ہوجاتا ہے، لیکن خدانخواستہ اگر جوڑ میں ٹیڑھا پَن آجائے، تو پھر سرجری یا Splinting کرنی پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی کا گھٹنا ٹیڑھا ہوجائے تو Splint لگا کر پلاستر کر دیا جاتا ہے۔
س: وہ کون سی احتیاطی تدابیر ہیں،جنہیں اختیارکرکے مرض سے تحفّظ ممکن ہے؟
ج: اگر ابتدا ہی سے اپنی صحت اور غذا پر بھر پور توجّہ دی جائے،جیسے وزن پر کنٹرول رکھا جائے، باقاعدگی سے ورزش کے ساتھ متوازن غذا، دودھ، پھل اور سبزیوں کا استعمال کیا جائے، فاسٹ فوڈز کم سے کم استعمال کریں، پٹھّوں کی مضبوطی کے لیے مخصوص ایکسرسائزز کی جائیں، تو مرض لاحق کے امکانات بھی کم سے کم ہو جاتے ہیں،بلکہ ہڈیوں کےکئی اور عوارض سےبھی محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
س: عالمی یوم کی مناسبت سے آپ لوگوں کو کوئی خاص پیغام دینا چاہیں گے؟
ج: ہم کووِڈ-19 کی وجہ سے جس اسٹریس فُل دَور سے گزر رہے ہیں، اس میں سب سے ضروری باقاعدگی سے ورزش کرنا ہے۔ اگر آپ واک نہیں کرسکتے تو بیٹھ کر بھی کئی ورزشیں کی جاسکتی ہیں۔ سوئمنگ بھی کرسکتے ہیںکہ تیراکی میں کثیر عضلات حصّہ لیتے ہیں،اس لیے یہ ایک بہت موثر ایکسرسائز ثابت ہوتی ہے،لیکن بعض گھرانوں میں تیراکی کرنا ممکن نہیں یا پھرتیراکی نہیں آتی ،تو ہائیڈرو تھراپی کرلیں۔
ہائیڈرو تھراپی کا مطلب ہے، سوئمنگ پول میں واک کرنا۔اس سے بھی کمر اور گھٹنوں کے جوڑوں پر مفید اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔ عموماً خواتین کہتی ہیں کہ ہم گھر میں سارا دِن کام کرتی رہتی ہیں، پھر بچّوں کے پیچھے بھاگ دوڑ میں ہماری تو ویسے ہی واک ہوجاتی ہے، تو یہ واک نہیں ۔ واک کا مطلب ہے کہ بغیر رُکے چلنا، چاہے 15منٹ عام انداز ہی سے کیوں نہ چلا جائے، لہٰذا چہل قدمی کو اپنا معمول بنالیں۔