• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مہوش لطیف

برصغیر میں زمانہ قدیم سے بے شمار رسمیں ایسی ہیں جو ابھی تک چلی آرہی ہیں۔ سندھ کیوںکہ ہندوستان کے ساتھ ہی جڑا ہوا تھا اس لیے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے اثرات اس خطے پر بھی پڑے، کچھ رسم و رواج تقسیم ہند کے بعدپاکستان آنے والے لوگ اپنے ساتھ لے کر آئے۔ ان میں شادی بیاہ کی رسومات زیادہ ہیں جو زیادہ تر مہندی یا مایوں میں دیکھی جاتی ہیں۔ ان میں سے چند رسمیں علاقائی رسومات کا حصہ بن گئی ہیں۔ قارئین کی دل چسپی کے لیے ذیل میں ان میں سے چندر سومات کے بارے میں ملاحظہ کریں۔

کھوبا کھوبی

کھوبا کھوبی انتہائی دل چسپ رسم ہے۔ایک تشلے میں ڈھیر سارے چاول ڈال کر اس میں ایک سکہ رکھ کر چاولوں کو ملادیا جاتا ہے ۔ دولہا اور دلہن کو ٹاسک دیا جاتا ہے کہ وہ اس سکے کو تلاش کریں۔ جو پہلے ڈھونڈنے میں کامیاب ہوتا ہے ، اسے فاتح قرار دیا جاتا ہے۔ اس رسم کامقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ شادی کے بعد گھر میں دلہن کا راج قائم ہوگا یا دولہا کا۔ اسماعیلی برادری میں یہ رائج العام ہے۔

کھجوروں سے نظر اتارنا

یہ رسم سندھ اور جنوبی پنجاب میں آج بھی رائج ہے۔ دولہا اور دلہن جب نکاح کے بعد ازدواجی بندھن میں بندھ جاتے ہیں تو لڑکے اور لڑکی کے خاندان کی بزرگ خواتین7 کھجوریں لے کر دلہن اور دلہن کے سر پرسے سات مرتبہ اتارتی ہیں تاکہ وہ نظر بد اور تمام زمینی و آسمانی بلاؤں سے محفوظ رہیں ۔ اس کے بعد ایک ایک کھجور کو دونوں فریقین کے 7 اطراف میں پھینکا جاتا ہے ، اس سلسلے میں یہ احتیاط کی جاتی ہے کہ کوئی بچہ یا بڑا ان کھجوروں کو اٹھا کر منہ میں نہ رکھ لے۔ مذکورہ خواتین کے عقیدے کے مطابق دولہا دلہن کو مستقبل میں درپیش آفات و مصائب کجھور کھانے والے شخص میں منتقل ہوجاتی ہیں۔رسم کے اختتام پر انہیں بہت احتیاط سے اٹھا کر کسی ویران مقام یا چوراہے پر پھینکا جاتا ہے۔

ناریل پھوڑنا

شادی کے موقع پر ناریل پھوڑنے کی رسم بھی ادا کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کےعقیدے کے مطابق یہ خالصتاً ہندووانہ رسم ہے۔ جب دولہا اپنی دلہن کو رخصت کراکے گھر کی طرف روانہ ہوتا ہےتو نو باہتا جوڑا جس راستے سے جاتا ہےاس پران کے عازم سفر ہونے سے قبل ایک ناریل پھوڑا جاتا ہے تاکہ آنے والا وقت دونوں کیلئے مسرتیں اور شادمانیاں لےکر آئے۔

چونکہ اس خطے کے لوگ سمجھتے ہیں کہ جب کوئی خوشی کا موقع ہوتا ہے تو حاسدین یا شادی سے ناخوش افراد ان دونوں کی بربادی کے لیے کوئی بھی عمل یا جادو ٹونا کراسکتے ہیں ۔ ناریل جو ہندومت میں دیوتاؤں کا پھل سمجھا جاتا ہے، اس کے پھوڑنے سے مذکورہ جوڑا تمام شیطانی قوتوں کے شر سے محفوظ ہوجاتا ہے۔

لاہوں کی رسم

لاڑکانہ کے دیہی علاقوں میں(لاہوں) کی عجیب وغریب رسم دا کی جاتی ہےجو شادی شدہ جوڑے کے لیے اذیت کا سبب ہونے کے باوجود انتہائی دلچسپ ہوتی ہے۔جس طرح ہمارے یہاں شادی بیاہ کے موقع پر نکاح کے بعد سلامی کے لیے لڑکا اور لڑکی کو ساتھ بٹھایا جاتا ہے، اسی طرح لاڑکانہ میں بھی دولہا اور دلہن کو ایک دوسرے کے سامنے بٹھایا جاتا ہے، یہ بھی ایک طرح سے سلامی کی رسم ہی ہوتی ہے لیکن اس کا انداز مختلف ہوتا ہے ۔

عام طور پر دلہا دلہن کوا سٹیج پر رکھے صوفوں پر بٹھاتے ہیں، لیکن اس رسم کی ادائیگی کے لیے اسٹیج پر رلی بچھا کران کو اس پر بٹھاتے ہیں۔ اس کے بعد ان دونوں کے تمام رشتہ داراسٹیج پر آکر دونوں کے سر کو تین تین بار ایک دوسرے سے ٹکرانے کے بعد سلامی کی صورت میں انہیں پیسے دیتے جاتے ہیں۔اس رسم کی ادائیگی ہندو اور مسلمان ، دونوں قومیتوں میں کی جاتی ہے۔