• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے ہر قوم کو منزل تک پہنچانے میں سیاسی، سماجی شخصیات کے ساتھ مفکرین ور ماہرین کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کا بھرپور تعاون حاصل ہوتا ہے۔ جو اپنے اندر کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے ملک کی خدمت کرسکتے ہیں اور ترقی کی نئی راہیں ہموار کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہماری نوجوان نسل 74سال کے عرصے کے دوران آنے والی حکومتوں سے یہ امید لگائے رہی کہ ایسے جامع قوانین اور تعلیمی پالیسیاں نوجوانوں کے لحاظ سے مرتب کی جائیں گی جن سے دوررس اور خوش آئند نتائج سامنے آئیں گے، جن سے نوجوانوں کو درپیش مسائل کا مستقل بنیادوں پر حل نکل آئے گا۔ 

چند اہم مسائل کا جائزہ پیش خدمت ہے۔ پاکستانی معاشرے میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی اک بڑی کثیر تعداد موجود ہے، جس کی وجہ عدم مساوات، وسائل کی ناقص منصوبہ بندی اور معاشرتی ناہمواری کی تقسیم نے نوجوانوں کے اندر اک ہیجان کی سی کیفیت پیدا کردی ہے، اسی وجہ سے طبقاتی کشمکش میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

دیہی اور شہری معاشرتی نظام نے نوجوانوں کے اندر مختلف طرح کی احساس کمتری پیدا کردی ہے۔ پاکستان میں 38فی صد نوجوان دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ وہاں کے نوجوان زیادہ تر تعلیم سے نابلد ہیں لیکن وہاں کے باشعور نوجوانوں کی خواہش ہے کہ ان کے گائوں میں معیاری سرکاری اسکول، کالج، اسپتال اور ڈسپنسری وغیرہ قائم ہوں ، بجلی اور صاف پانی عوام الناس کو میسر آئے، تاکہ مقامی باشندے بنیادی سہولیات اور ضروریات زندگی سے استفادہ حاصل کرسکیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہے اس کی وجہ وہاں کا روایتی اور قدیم نظام حکومت ہے جو بااثر خاندانوں اور افراد کے بنائے ہوئے اصولوں اور قانون پر مبنی ہےان خاندانوں کے نوجوان اپنے اثر و وثوق کے ساتھ آگے بڑھ جاتے ہیں، جبکہ غریب اور مفلس حال نوجوان اسی تنگ دستی کے حالات میں اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبورہیں۔ 

المیہ یہ ہے کہ جس طرح ایشیائی ممالک کے دیہی علاقے اور دیہات ہیں جہاں نوجوانوں کو دیہی زندگی کے فروغ کے لئے مختلف طرح کے مراکز قائم کئے جاتے ہیں انہیں وہ ابتدائی معلومات اور ان کی مقامی زبان میں ہی بتائی جاتی ہیں اورسیکھانے کے لئے تربیتی مراکز قائم کئے جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں ایسا کوئی باقاعدہ منظم طریقہ کار نہیں ہے چنانچہ دیہی علاقوں سے وابستہ نوجوان جب شہروں سے پڑھ کر واپس گائوں آتے ہیں تو وہ چاہتے ہیں کہ ان کے گائوں اور دیہات میں بھی ترقی کا پہیہ چلے اور پرانے فرسودہ نظام کی جگہ نت نئی مشینری کے ذریعے زراعت کے شعبہ میں تبدیلی واقع ہو، یہیں سے طبقاتی نظام میں شعوری تبدیلی کی ہوا نمودار ہوتی ہے۔

طبقاتی کشمکش میں تعلیم کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جس سے انسان کے اندر شعور بیدار ہوتا ہے اور وہ معاشرے میں موجود طبقاتی نظام کے خلاف آواز اٹھا سکتا ہے اور ساتھ ساتھ اپنی ذات کے علاوہ ، خاندان اور ملک و قوم کی ترقی میں بھی بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی فقدان کی کئی وجوہات ہیں جن میں غربت، آبادی میں اضافہ، بے روزگاری، ناقص تعلیمی پالیسیاں اور ان کی حکمت عملی۔ پاکستان میں نوجوانوں کی کثیر تعداد تعلیم سے محروم ہے۔ 

پاکستان کے قیام کے کچھ عرصے بعد ہی تعلیمی میدان میں تنزلی آنا شروع ہوگئی تھی۔ ابتدا میں نوجوانوں کا تعلیمی معیار قابل ستائش تھا لیکن بعد میں حکومتوں کی بار بار تبدیلیوں کے باعث تعلیمی پالیسیوں میں بھی ناقص حکمت عملیوں کی وجہ سے تعلیمی نظام بھی ناقص ہو گیا۔ دیہات کے سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کو مختلف جانوروں کی پناہ گاہ بنادیا گیا اور بعض جگہ جرائم پیشہ عناصر کا قبضہ ہے۔ 

تدریسی عملہ اور اساتذہ ان علاقوں میں جانا ہی نہیں چاہتے اگر چلے جاتے ہیں تو وہ اس علاقے کے بااثر افراد کے تابع رہتے ہیں۔اگر ہم پرائیویٹ تعلیمی اداروں اور ان سے منسلک دیگر تدریسی شعبہ جات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یہاں پر نوجوان نسل کو تعلیم کے بہتر مواقع حاصل ہیں لیکن اس کا تناسب بھی 30فی صد سے زیادہ نہیں ہے کیونکہ یہاں بھی معیار کا پیمانہ ہے، عام علاقوں میں جو پرائیویٹ سیکٹر سے وابستہ اسکول ہیں، وہاں اساتذہ کا تعلیمی معیار وہاں کے رہائشی گھرانوں کے حساب سے ہے، اسکول پرائیویٹ ضرور ہے لیکن وہ دیگر سہولیات سے محروم ہیں۔ 

 ایک ایسا طبقہ فکر ہے جو تعلیم کو تجارت کا درجہ دیتا ہے، اس کے لئے ایسے پوش علاقے منتخب کرتے ہیں ،جہاں کا معیار زندگی بہت بلند ہے جہاں کا بچہ ائیرکنڈیشن گھر، ڈپارٹمنٹ یا بنگلے سے نکل کر ائیرکنڈیشن گاڑی یا پرائیوٹ ٹرانسپورٹ میں بیٹھ کر ائیرکنڈیشن تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں جہاں ان کے لباس اور جوتے پر مٹی کا ذرہ بھی نہیں لگ سکتا، وہاں کی تعلیم کا معیار شہر کے دیگر علاقوں کی نسبت بہت زیادہ جدید خطوط پر مبنی ہوتا ہے۔

پاکستانی نوجوان نسل کو معاشی، معاشرتی اور تعلیمی اعتبار سے تقسیم کرنے میں پوش علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اور یہاں کی طرز زندگی کا بہت ہاتھ ہے، اسی لئے نوجوانوں کے ذہن میں طرح طرح کے منفی اور مثبت خیالات جنم لیتے ہیں اور یہی ہماری طبقاتی کشمکش کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں ،کیونکہ نوجوان نسل کی سوچ کا محور تبدیل ہونے لگتا ہے۔ 

خواہشات کا اک سمندر ان کے اندر بھی پروان چڑھنے لگتاہے، جس سے منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوجاتے ہیں،جب دیہی علاقوں کے نوجوان شہر کا رخ کرتے ہیں تو ان کو بھی ابتدا میں بہت زیادہ پریشانی اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہےوہ اس طبقاتی کشمکش کے بھنور میں پھنس جاتے ہیں کچھ اس سے نکل کر یہیں کی بود وباش اختیار کر لیتے ہیں اور کچھ واپس اپنے گاؤں لوٹ جاتے ہیں۔